قومی زبان

موقع یاس کبھی تیری نظر نے نہ دیا

موقع یاس کبھی تیری نظر نے نہ دیا شرط جینے کی لگا دی مجھے مرنے نہ دیا کم سے کم میں غم دنیا کو بھلا سکتا تھا پر تری یاد نے یہ کام بھی کرنے نہ دیا تیری غم خوار نگاہوں کے تصدق کہ مجھے غم ہستی کی بلندی سے اترنے نہ دیا وہ تری سرخیٔ عارض کہ قریب آ نہ سکی رنگ جس فکر کو بھی خون جگر نے نہ ...

مزید پڑھیے

تم خنک جذبہ ہو بے تابئ فن کیا جانو؟

تم خنک جذبہ ہو بے تابئ فن کیا جانو؟ کیا گزرتی ہے دم فکر سخن کیا جانو؟ خون ہے دل میں تمہارے ابھی افسردہ خرام سرخ کیوں ہوتے ہیں رخسار چمن کیا جانو؟ میں ہوں کتنے قد و گیسو کے جہاں کا معمار سرگراں مجھ سے ہیں کیوں دار و رسن کیا جانو؟ تم تو کرتے ہو مری کلک سخن کو پابند کون ہے کاتب ...

مزید پڑھیے

بصارت

تیرے ہاتھوں میں پیوست میخوں سے بہتا لہو کور آنکھوں پہ چھڑکا تو پلکوں کی چلمن سے تا حد امکاں بصارت کے ہر زاویے پر عجب نور کی دھاریاں تہہ بہ تہہ تیرگی کی روا چیرتی ان گنت مشعلیں آگہی کے دریچوں میں عرفان کے آئینوں میں دمکنے لگیں

مزید پڑھیے

سفر آگہی

عجیب ہے دشت آگہی کا سفر وفا کی ردا میں لپٹی برہنہ قدموں سے چل رہی ہوں تپے ہوئے ریگزار میں بھی مگر چبھن ہے نہ پاؤں میں کوئی آبلہ ہے تھکن کا نام و نشاں نہیں ہے

مزید پڑھیے

منزل بھی ملے گی رستے میں تم راہ گزر کی بات کرو

منزل بھی ملے گی رستے میں تم راہ گزر کی بات کرو آغاز سفر سے پہلے کیوں انجام سفر کی بات کرو ظالم نے لیا ہے شرما کر پھر گوشۂ داماں چٹکی میں ہے وقت کہ تم بے باکی سے اب دیدۂ تر کی بات کرو آیا ہے چمن میں موسم گل آئی ہیں ہوائیں زنداں تک دیوار کی باتیں ہو لیں گی اس وقت تو در کی بات کرو ہے ...

مزید پڑھیے

ساغر سفالیں کو جام جم بنایا ہے

ساغر سفالیں کو جام جم بنایا ہے پھیل کر مرے دل نے ''میں'' کو ''ہم'' بنایا ہے ہم سفر بنایا ہے ہم قدم بنایا ہے وقت نے مجھے کتنا محترم بنایا ہے ناز ہے خلیلی کو حسن نقش ثانی پر گرچہ آذری ہی نے یہ صنم بنایا ہے بے کسیٔ دل اپنی دور کی ہے یوں میں نے دوسروں کے غم کو بھی اپنا غم بنایا ہے زندگی ...

مزید پڑھیے

جلتے رہنا کام ہے دل کا بجھ جانے سے حاصل کیا

جلتے رہنا کام ہے دل کا بجھ جانے سے حاصل کیا اپنی آگ کے ایندھن ہیں ہم ایندھن کا مستقبل کیا بولو نقوش پا کچھ بولو تم تو شاید سنتے ہو بھاگ رہی ہے راہ گزر کے کان میں کہہ کر منزل کیا ڈوبنے والو! دیکھ رہے ہو تم تو کشتی کے تختے دیکھو دیکھو غور سے دیکھو دوڑ رہا ہے ساحل کیا ان پڑھ آندھی ...

مزید پڑھیے

خاموشی بحران صدا ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ

خاموشی بحران صدا ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ سناٹا تک چیخ رہا ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ ترک تعلق کر کے زباں سے دل کا جینا مشکل ہے یہ کیسا آہنگ وفا ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ دل والوں کی خاموشی ہی بار سماعت ہوتی ہے بے آوازی کرب فضا ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ بھیس بدلتی آوازیں ہی شام و ...

مزید پڑھیے

فسردہ ہے علم حرف ہائے کتاب بھی بجھ کے رہ گئے ہیں

فسردہ ہے علم حرف ہائے کتاب بھی بجھ کے رہ گئے ہیں ہے راکھ ہی راکھ مدرسوں میں نصاب بھی بجھ کے رہ گئے ہیں دلوں میں شعلے سسک رہے ہیں جمی ہوئی برف ہے لبوں پر سوال بھی بجھ کے رہ گئے ہیں جواب بھی بجھ کے رہ گئے ہیں نہیں ہے محفل میں کوئی گرمی ہوئے ہیں دل سرد مطربوں کے دھواں نکلتا ہے ...

مزید پڑھیے

یہ سنبل و نسریں میرے ہیں یہ صحن گلستاں میرا ہے

یہ سنبل و نسریں میرے ہیں یہ صحن گلستاں میرا ہے میں عزم نموئے گلشن ہوں انعام بہاراں میرا ہے میں فرق بتاؤں کس کس کو احساس کی جب توفیق نہیں کیف غم دوراں میرا ہے لطف غم جاناں میرا ہے اے موسم گل تشویش نہ کر ارباب خرد کی باتوں پر یہ پنجۂ وحشت میرے ہیں ہر تار گریباں میرا ہے احباب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2019 سے 6203