موقع یاس کبھی تیری نظر نے نہ دیا
موقع یاس کبھی تیری نظر نے نہ دیا شرط جینے کی لگا دی مجھے مرنے نہ دیا کم سے کم میں غم دنیا کو بھلا سکتا تھا پر تری یاد نے یہ کام بھی کرنے نہ دیا تیری غم خوار نگاہوں کے تصدق کہ مجھے غم ہستی کی بلندی سے اترنے نہ دیا وہ تری سرخیٔ عارض کہ قریب آ نہ سکی رنگ جس فکر کو بھی خون جگر نے نہ ...