قومی زبان

ہوا سے زرد پتے گر رہے ہیں

ہوا سے زرد پتے گر رہے ہیں کتابوں کے ورق بکھرے پڑے ہیں اسی پانی میں مچھلی کا مکاں ہے اسی پانی میں پیاسے ہم مرے ہیں جہاں گلزار کھلتا تھا ہنسی کا وہیں چمگادڑوں کے گھونسلے ہیں اندھیرے میں ڈرا دیتے ہیں ہم کو یہ کپڑے کھونٹیوں پر جو ٹنگے ہیں کبھی تو خاک میں وہ بھی ملیں گے ابھی جو ...

مزید پڑھیے

ساتھ دریا کے ہم بھی جائیں کیا

ساتھ دریا کے ہم بھی جائیں کیا زور لہروں کا آزمائیں کیا پیڑ سارے اجڑ چکے کب کے شور کرتی ہیں پھر ہوائیں کیا کب وہ گزرے گی اس خرابے سے فصل گل سے یہ پوچھ آئیں کیا پھول باغوں میں جب نہیں کھلتے پھول گملوں میں ہم کھلائیں کیا رات جنگل کی شہر میں آئی گھر چراغوں سے جگمگائیں کیا جو خدا ...

مزید پڑھیے

یہ جو جگنو ہیں یا ستارے ہیں

یہ جو جگنو ہیں یا ستارے ہیں ہم میں روشن ہیں یہ ہمارے ہیں کیا خزاں کیا بہار کا جھگڑا جتنے موسم ہیں ہم کو پیارے ہیں کس کے خاکے میں ہم بھریں ان کو رنگ پھولوں سے جو اتارے ہیں اپنے اندر کی راکھ میں اب بھی جلتے بجھتے سے کچھ شرارے ہیں بیج بوتے ہیں جو ہواؤں میں کتنے معصوم وہ بچارے ...

مزید پڑھیے

چاندی جیسی جھلمل مچھلی پانی پگھلے نیلم سا

چاندی جیسی جھلمل مچھلی پانی پگھلے نیلم سا شاخیں جس پر جھکی ہوئی ہیں دریا بہتے سرگم سا سورج روشن رستہ دے گا کالے گہرے جنگل میں خوف اندھیری راتوں کا اب نقش ہوا ہے مدھم سا درد نہ اٹھا کوئی دل میں لہو نہ ٹپکا آنکھوں سے کہنے والا بجھا بجھا تھا قصہ بھی تھا مبہم سا ہنستی گاتی سب ...

مزید پڑھیے

آندھیاں آتی ہیں اور پیڑ گرا کرتے ہیں

آندھیاں آتی ہیں اور پیڑ گرا کرتے ہیں حادثے یہ تو یہاں روز ہوا کرتے ہیں ان کے دل میں بھی کوئی کھوج تو پنہاں ہوگی یہ پرندے جو ہواؤں میں اڑا کرتے ہیں خون کا رنگ لئے گرم دھوئیں کے بادل سرد اخبار کے سینے سے اٹھا کرتے ہیں ان اندھیروں میں کوئی راہ تو روشن ہوتی یہ ستارے تو ہر اک رات جلا ...

مزید پڑھیے

رنگین خواب آس کے نقشے جلا بھی دے

رنگین خواب آس کے نقشے جلا بھی دے جاں پہ بنی ہے روشنی اس کو بجھا بھی دے ناموس ضبط بوجھ ہے کب تک لئے پھروں ساری امیدیں چھین کے مجھ کو رلا بھی دے پہنچا ہے کس کی کھوج میں حد زوال تک گم ہو گیا ہے کون تو اس کا پتا بھی دے بے چارگی کی رات کے غار سیاہ سے قید سکوت توڑ کے کوئی صدا بھی دے ہر ...

مزید پڑھیے

ڈبوں کا دودھ پی کر بچے جو پل رہے ہیں

ڈبوں کا دودھ پی کر بچے جو پل رہے ہیں وہ سب جوان ہو کر بڈھے نکل رہے ہیں تھالی کا بن کے بیگن نانا پھسل رہے ہیں نانی کی سہیلیوں پہ نیت بدل رہے ہیں ان ہپیوں کو شاید یہ بھی خبر نہیں ہے زلفوں کے گھونسلوں میں بلبل بھی پل رہے ہیں دادا گری میں بابا کچھ کم نہیں تھے لیکن بابا سے بڑھ کے چالو ...

مزید پڑھیے

ادھر تو شہر کے گنجے میری تلاش میں ہیں

ادھر تو شہر کے گنجے میری تلاش میں ہیں ادھر تمام لفنگے مری تلاش میں ہیں میں ان کا مال غبن کرکے جب سے بیٹھا ہوں یتیم خانے کے لونڈے مری تلاش میں ہیں ملا ہے نسخہ جوانی پلٹ کا جب سے مجھے تمہارے شہر کے بڈھے مری تلاش میں ہیں میں جن کے واسطے جوتے چرا کے جیل گیا وہ لے کے ہاتھ میں جوتے مری ...

مزید پڑھیے

وہ رابطے بھی انوکھے جو دوریاں برتیں

وہ رابطے بھی انوکھے جو دوریاں برتیں وہ قربتیں بھی نرالی جو لمس کو ترسیں سوال بن کے سلگتے ہیں رات بھر تارے کہاں ہے نیند ہماری وہ بس یہی پوچھیں بلاتا رہتا ہے جنگل ہمیں بہانوں سے سنیں جو اس کی تو شاید نہ پھر کبھی لوٹیں پھسلتی جاتی ہے ہاتھوں سے ریت لمحوں کی کہاں ہے بس میں ہمارے کہ ...

مزید پڑھیے

خنک ہوا کا یہ جھونکا شرار کیسے ہوا

خنک ہوا کا یہ جھونکا شرار کیسے ہوا یہ میرا شہر دکھوں کا دیار کیسے ہوا بجھے بجھے تھے بہت نقش جب کہ موسم کے لہو کے رنگ کا ان پہ نکھار کیسے ہوا بنا ہوں جس سے خطا کار سب کی آنکھوں میں وہ جرم مجھ سے بتا بار بار کیسے ہوا ملا نہ جس کو بلاوا کبھی سمندر کا وہ شخص موج بلا کا شکار کیسے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2002 سے 6203