قومی زبان

عجیب رت ہے درختوں کو بے زباں دیکھوں

عجیب رت ہے درختوں کو بے زباں دیکھوں دیار شام میں آہوں کا میں دھواں دیکھوں چہار سمت سے آئی تھی برف کی آندھی کہیں نہ پھول نہ رنگوں کی تتلیاں دیکھوں یقین ان کو دلاؤں چمکتے سورج کا حصار شب میں جو سہمے ہوئے مکاں دیکھوں زمیں کو تو نے ڈرایا سدا مصائب سے کبھی تجھے بھی ہراساں اے آسماں ...

مزید پڑھیے

احساس زیاں چین سے سونے نہیں دیتا

احساس زیاں چین سے سونے نہیں دیتا رونا بھی اگر چاہوں تو رونے نہیں دیتا ساحل کی نگاہوں میں کوئی درد ہے ایسا موجوں کو مری ناؤ ڈبونے نہیں دیتا کیا جانیے کس بات پہ دشمن ہوا موسم سرسبز کسی شاخ کو ہونے نہیں دیتا لرزاں ہے کسی خوف سے جو شام کا چہرہ آنکھوں میں کوئی خواب پرونے نہیں ...

مزید پڑھیے

جس کا بدن گلاب تھا وہ یار بھی نہیں

جس کا بدن گلاب تھا وہ یار بھی نہیں اب کے برس بہار کے آثار بھی نہیں پیڑوں پہ اب بھی چھائی ہیں ٹھنڈی اداسیاں امکان جشن رنگ کا اس بار بھی نہیں دریا کے التفات سے اتنا ہی بس ہوا تشنہ نہیں ہیں ہونٹ تو سرشار بھی نہیں راہوں کے پیچ و خم بھی اسے دیکھنے کا شوق چلنے کو تیز دھوپ میں تیار بھی ...

مزید پڑھیے

کہاں کہاں سے گزر رہا ہوں

کہاں کہاں سے گزر رہا ہوں میں آندھیوں میں بکھر رہا ہوں کسی بھی صورت نہ چین پاؤں یہ کس تجسس میں مر رہا ہوں میں سرخیوں میں کہاں سے ہوتا میں حاشیے کی خبر رہا ہوں سبھوں کو جانا ہے پار لیکن میں پار جانے سے ڈر رہا ہوں نہ میری منزل نہ کوئی جادہ ازل سے گرد سفر رہا ہوں مجھے تو مرنا تھا ...

مزید پڑھیے

زرد پیڑوں پہ شام ہے گریاں

زرد پیڑوں پہ شام ہے گریاں جی اداسی کے دشت میں حیراں نیم روشن سیاہیاں ہر سو اور ہوائیں سکوت پر خنداں ٹھہرے پانی کے سرد شیشے میں گزرے موسم کے عکس ہیں لرزاں سب کے ہونٹوں پہ جم گئیں باتیں سب کی آنکھوں میں رات نوحہ خواں ربط رشتوں کے رنگ ہیں پھیکے خواب قصے کہانیاں بے جاں جو تھا ...

مزید پڑھیے

دشمنی کی اس ہوا کو تیز ہونا چاہئے

دشمنی کی اس ہوا کو تیز ہونا چاہئے اس کی کشتی کو سر ساحل ڈبونا چاہئے چھین کر ساری امیدیں مجھ سے وہ کہتا ہے اب کشت دل میں آرزو کا بیج بونا چاہئے اس سمندر کی کثافت آنکھ میں چبھنے لگی اس کا چہرہ اور ہی پانی سے دھونا چاہئے سونپ جائیں ان درختوں کو نشانی نام کی ہم کبھی تھے اگلی رت کو ...

مزید پڑھیے

کالی راتوں میں فصیل درد اونچی ہو گئی

کالی راتوں میں فصیل درد اونچی ہو گئی اندھی گلیوں میں خموشی لاش بن کے سو گئی برف سے ٹھنڈے اندھیروں کی سسکتی گود میں مرتے لمحوں کی اداسی دل میں کانٹے بو گئی شہر کی سوتی چھتیں ہوں یا فسردہ راستے قطرہ قطرہ گرتی شبنم سب کا چہرہ دھو گئی نیند میں ڈوبے شجر سے چیختے پنچھی اڑے خوف کے ...

مزید پڑھیے

ہوا سے اجڑ کر بکھر کیوں گئے

ہوا سے اجڑ کر بکھر کیوں گئے وہ پتے جو سرسبز شاخوں پہ تھے ہری گھاس کس کے لہو سے جلی وہ تتلی کے رنگین پر کیا ہوئے نہیں کوئی چڑیا کسی ڈال پر درختوں پہ مکڑی نے جالے بنے دریچوں کے شیشوں کا دل توڑ کر مکاں خالی روحوں کے مسکن بنے ہے خبروں کے چہروں پہ وحشت بہت میں دیکھوں جو ان کو مرا جی ...

مزید پڑھیے

پہاڑوں سے اترتی شام کی بیچارگی دیکھیں

پہاڑوں سے اترتی شام کی بیچارگی دیکھیں درختوں پر لرز کر بجھ رہی ہیں آخری کرنیں بہت ہی سرد ہے اب کے دیار شوق کا موسم چلو گزرے دنوں کی راکھ میں چنگاریاں ڈھونڈیں بھلا پتھر بھی روتے ہیں کبھی شیشے کے زخموں پر اگر ہوتا ہے ایسا تو حساب دوستاں بھولیں سواد شام میں ڈھونڈیں کوئی مانوس سا ...

مزید پڑھیے

آنکھ پتھر کی طرح عکس سے خالی ہوگی

آنکھ پتھر کی طرح عکس سے خالی ہوگی خون ناحق کی مگر جسم پہ لالی ہوگی مل کے بیٹھیں گے وہی لوگ ادھورے آدھے پھر وہی میز وہی سرد پیالی ہوگی ایسے موسم میں وہ چپ چاپ نظر جو آیا اس نے آنکھوں میں کوئی شکل بسا لی ہوگی میں نے جو چیز گنوا دی اسے ہیرا کہہ کے کسی نادار مسافر نے اٹھا لی ہوگی اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2003 سے 6203