قومی زبان

روح اذیت خوردہ

زخموں کے انبار، در و دیوار بھی سونے لگتے ہیں خوشیوں کے دریا میں اتنی چوٹ لگی کہ اب اس میں چلتے رہنا دشوار ہوا سڑکوں پر چلتے پھرتے شاداب سے چہرے سوکھ گئے وہ موسم جس کو آنا تھا، وہ آ بھی گیا اور چھا بھی گیا اشجار کے نیلے گوشوں سے اب زہر سا رستا رہتا ہے گل زار خزاں کے شعلوں میں ہر ...

مزید پڑھیے

تہ گرداب تو بچنا مرا دشوار ہے پھر بھی

تہ گرداب تو بچنا مرا دشوار ہے پھر بھی کنارے دور ہیں ٹوٹی ہوئی پتوار ہے پھر بھی تھکن سے چور ہوں، سر رکھ دیا ہے اس کے سینے پر مجھے معلوم ہے یہ ریت کی دیوار ہے پھر بھی متاع رشتۂ جاں کاروبار منفعت کب تھی خریداروں کے حلقے میں سر بازار ہے پھر بھی مری مٹھی میں نازک پنکھڑی محفوظ رہتی ...

مزید پڑھیے

کچھ ساتھ دیا میرا دوا نے نہ دعا نے

کچھ ساتھ دیا میرا دوا نے نہ دعا نے اب جائیں کہاں ڈھونڈنے جینے کے بہانے فرہاد بھی واقف نہیں اب کوہ کنی سے بے کار ہیں فرسودہ محبت کے فسانے اس دیدۂ پر نم میں ہے رقصاں ترا پرتو مہتاب لٹاتا ہے سمندر پہ خزانے

مزید پڑھیے

مقتل سے جب گزر کے حریفانہ آئیے

مقتل سے جب گزر کے حریفانہ آئیے اک دشت بے کنار میں پھر گھر بنائیے تاریک ہو نہ پائے کبھی دامن‌ فلک پلکوں سے تا بہ صبح ستارے جلائیے ہونے نہ پائے پھولوں کا محتاج گلستاں دل کے ہزار زخم ہمیشہ کھلائیے چہروں کو قید سے ہوئے آزاد گر کبھی بکھرے ہوئے وجود کو کیسے بچایئے ساحل نہ دے سکا ...

مزید پڑھیے

ہے آسیبوں کا سایا میں جہاں ہوں

ہے آسیبوں کا سایا میں جہاں ہوں شب دشت بلا میں بے اماں ہوں ہوا کی زد پہ جیسے شمع کی لو میں اپنے حوصلوں کا امتحاں ہوں چراغاں سا ہے دروازے پہ لیکن میں اندر سے کوئی تیرہ مکاں ہوں وہ بادل تھا ہوا کا ہم سفر تھا میں تشنہ کام فصل رائگاں ہوں ستوں کچے تھے بارش سہہ نہ پائے سلگتی دھوپ میں ...

مزید پڑھیے

تری تلاش میں جو خود کو بھول آئے تھے

تری تلاش میں جو خود کو بھول آئے تھے پتا وہ اپنا کبھی ڈھونڈنے نہ پائے تھے کسے خبر تھی کہ پھولوں میں بھی ہنر ہے وہی کس احتیاط سے کانٹوں سے بچ کے آئے تھے وہ بے حسی کا تھا عالم ذرا خبر نہ ہوئی کہ روشنی تھی سر رہ گزر کہ سائے تھے کنارے دور بہت دور تھے تو مجبوراً سمندروں میں ہی لوگوں نے ...

مزید پڑھیے

شناخت

ہر ایک قطرہ سمندروں میں سما گیا ہے وجود اپنا گنوا چکا ہے اسی یقیں پر کہ اب وہ قطرے سے اک سمندر کی بے کرانی میں ڈھل گیا ہے مگر یہاں ہے بہت اکیلا جو ایک قطرہ وجود اپنا سنبھال کر مسکرا رہا ہے کہ اس کے اندر کئی سمندر سما گئے ہیں

مزید پڑھیے

برف کی مورتی

برف کی آندھیاں چیختی دہاڑتی ایک ہیجان میں شہر جاں کی فصیلوں پہ یوں حملہ آور ہوئیں اک دھماکہ ہوا سب شجر گر گئے ہر مکاں ڈھے گیا در دریچوں کے ٹکڑے ہوئے جا بجا آب جو منجمد ہو گئی ہر گلی یخ سفیدی میں یوں چھپ گئی برف کی ریت کا ڈھیر سارا نگر ہو گیا اور اس سے تراشی گئی اک چمکتی ہوئی برف کی ...

مزید پڑھیے

تیری صدا کی آس میں اک شخص روئے گا

تیری صدا کی آس میں اک شخص روئے گا چہرہ اندھیری رات کا اشکوں سے دھوئے گا شعلے ستم کے لائے گی اب رات چاندنی سورج بدن میں دھوپ کے خنجر چبھوئے گا اے شہر نا مراد تجھے کچھ خبر بھی ہے دریا دکھوں کے زہر کا تجھ کو ڈبوئے گا پربت گرے گا ٹوٹ کے گہرے نشیب میں کب تک جمود برف کا وہ بوجھ ڈھوئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2001 سے 6203