قومی زبان

کشکول ہے تو لا ادھر آ کر لگا صدا

کشکول ہے تو لا ادھر آ کر لگا صدا میں پیاس بانٹتا ہوں ضرورت نہیں تو جا میں شہر شہر خوابوں کی گٹھری لیے پھرا بے دام تھا یہ مال پہ گاہک کوئی نہ تھا پتھر پگھل کے ریت کے مانند نرم ہے درد اتنی دیر ساتھ رہا راس آ گیا سینوں میں اضطراب ہے گریہ ہوا میں ہے کیا وقت ہے کہ شور مچا ہے دعا ...

مزید پڑھیے

فضائیں اس قدر بے کل رہی ہیں

فضائیں اس قدر بے کل رہی ہیں یہ آنکھیں رات بھر جل تھل رہی ہیں دبے پاؤں مری تنہائیوں میں ہوائیں خواب بن کر چل رہی ہیں سحر دم صحبت رفتہ کی یادیں مرے پہلو میں آنکھیں مل رہی ہیں ترا غم کاکلیں کھولے ہوئے ہے مرے سینے میں شامیں ڈھل رہی ہیں اندھیروں میں کمی کیا ہوگی لیکن یہ شمعیں شام ...

مزید پڑھیے

منجمد ہونٹوں پہ ہے یخ کی طرح حرف جنوں

منجمد ہونٹوں پہ ہے یخ کی طرح حرف جنوں سر کسی سیل زدہ شاخ کے مانند نگوں کہاں سرما نفس الفاظ کہاں سوز دروں لالۂ دشت زمستاں ہے میں جو بات کہوں میں کہاں پہنچا کہ ہر بت جسے پوجا اب تک ہے شکستہ سر خاک اور میں شکستہ تو ہوں رحم کر خواب تمنا پہ نگاہ نگراں ٹوٹ کر چاروں طرف بکھرے پڑے ہیں ...

مزید پڑھیے

شجر جلتے ہیں شاخیں جل رہی ہیں

شجر جلتے ہیں شاخیں جل رہی ہیں ہوائیں ہیں کہ پیہم چل رہی ہیں طلب رد طلب دونوں قیامت یہ آنکھیں عمر بھر جل تھل رہی ہیں چمکتا چاند چہرہ سامنے تھا امنگیں بحر تھیں بیکل رہی ہیں دبے پاؤں مری تنہائیوں میں ہوائیں خواب بن کر چل رہی ہیں سحر دم صحبت رفتہ کی یادیں مرے پہلو میں آنکھیں مل ...

مزید پڑھیے

کتنی دیر اور ہے یہ بزم طربناک نہ کہہ

کتنی دیر اور ہے یہ بزم طربناک نہ کہہ راس آتی ہے کسے گردش افلاک نہ کہہ کیوں ٹھہرتا نہیں گلزار میں کوئی موسم کیا کشش رکھتی ہے خوشبوئے‌ تہہ خاک نہ کہہ دیکھ تو رنگ تمناؤں کی بیتابی کے کل فنا ہے مگر اے صاحب ادراک نہ کہہ درد کی آنچ ابد تک ہے کسی روپ میں ہو آج کے پھول کو آئندہ کے خاشاک ...

مزید پڑھیے

رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے

رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے درد پھولوں کی طرح مہکے اگر تو آئے بھیگ جاتی ہیں اس امید پہ آنکھیں ہر شام شاید اس رات وہ مہتاب لب جو آئے ہم تری یاد سے کترا کے گزر جاتے مگر راہ میں پھولوں کے لب سایوں کے گیسو آئے وہی لب تشنگی اپنی وہی ترغیب سراب دشت معلوم کی ہم آخری حد چھو ...

مزید پڑھیے

نگاہوں میں یہ کیا فرما گئی ہو

نگاہوں میں یہ کیا فرما گئی ہو مری سانسوں کے تار الجھا گئی ہو در و دیوار میں ہے اجنبیت میں خود بھی کھو گیا تم کیا گئی ہو پریشاں ہو گئے تعبیر سے خواب کہ جیسے کچھ بدل کر آ گئی ہو تمنا انتظار دوست کے بعد کلی جیسے کوئی مرجھا گئی ہو یہ آنسو یہ پشیمانی کا اظہار مجھے اک بار پھر بہکا ...

مزید پڑھیے

افتاد طبیعت سے اس حال کو ہم پہنچے

افتاد طبیعت سے اس حال کو ہم پہنچے شدت کی محبت میں شدت ہی کے غم پہنچے احوال بتائیں کیا رستے کی سنائیں کیا با حالت زار آئے بادیدۂ نم پہنچے جس چہرے کو دیکھا وہ آئینۂ دوری تھا دیوار کی صورت تھا جس در پہ قدم پہنچے کچھ لب پہ کچھ آنکھوں میں لے آئے سجا کر ہم جو رنج کہ ہاتھ آئے جو غم کہ ...

مزید پڑھیے

چھیڑی بھی جو رسم و راہ کی بات

چھیڑی بھی جو رسم و راہ کی بات وہ سن نہ سکے نگاہ کی بات ہر لحظہ بدل رہے ہیں حالات مجھ سے نہ کرو نباہ کی بات کہتے ہیں تری مژہ کے تارے خود میری شب سیاہ کی بات اب ہے وہ نگہ نہ وہ تبسم کچھ اور تھی گاہ گاہ کی بات کیا یاد نہ آئے گا یہ انجام کس دل سے کریں گے چاہ کی بات

مزید پڑھیے

آج ہی محفل سرد پڑی ہے آج ہی درد فراواں ہے

آج ہی محفل سرد پڑی ہے آج ہی درد فراواں ہے کوئی تو دل کی باتیں چھیڑو یارو محفل یاراں ہے میرے ہر آدرش کا عالم اب تو عالم ویراں ہے دل میں تیری تمنا جیسے موج ریگ بیاباں ہے پاؤں تھکن سے چور ہیں لیکن دل میں شعلۂ امکاں ہے میرے لیے اک کرب مسلسل تیرا جمال گریزاں ہے مجھ سے ملنے کے خواہاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 197 سے 6203