کبھی کھولے تو کبھی زلف کو بکھرائے ہے
کبھی کھولے تو کبھی زلف کو بکھرائے ہے زندگی شام ہے اور شام ڈھلی جائے ہے ہر خوشی موم کی گڑیا ہے مقدس گڑیا تاج شعلوں کا زمانہ جسے پہنائے ہے خامشی کیا کسی گنبد کی فضا ہے جس میں گونج کے میری ہی آواز پلٹ آئے ہے زندگی پوچھے ہے رو کر کسی بیوہ کی طرح چوڑیاں کون مرے ہاتھ میں پہنائے ہے دل ...