قومی زبان

کبھی کھولے تو کبھی زلف کو بکھرائے ہے

کبھی کھولے تو کبھی زلف کو بکھرائے ہے زندگی شام ہے اور شام ڈھلی جائے ہے ہر خوشی موم کی گڑیا ہے مقدس گڑیا تاج شعلوں کا زمانہ جسے پہنائے ہے خامشی کیا کسی گنبد کی فضا ہے جس میں گونج کے میری ہی آواز پلٹ آئے ہے زندگی پوچھے ہے رو کر کسی بیوہ کی طرح چوڑیاں کون مرے ہاتھ میں پہنائے ہے دل ...

مزید پڑھیے

ہم بکھر جائیں گے نغموں بھرے خوابوں کی طرح

ہم بکھر جائیں گے نغموں بھرے خوابوں کی طرح مطربہ! چھیڑ کبھی ہم کو ربابوں کی طرح ایک پردے میں ہیں در پردہ بہت سے پردے تیری یادیں ہیں پراسرار حجابوں کی طرح ظرف کی بات ہے کانٹوں کی خلش دل میں لیے لوگ ملتے ہیں تر و تازہ گلابوں کی طرح جن کے سینوں میں ہیں محفوظ محبت کے خطوط ہم ہیں کچھ ...

مزید پڑھیے

اس حقیقت کا حسیں خوابوں کو اندازہ نہیں

اس حقیقت کا حسیں خوابوں کو اندازہ نہیں زندگی وہ گھر ہے جس میں کوئی دروازہ نہیں شب کے کاسے میں تھا کتنے ماہتابوں کا لہو صبح کے تارے کو شاید اس کا اندازہ نہیں رنگ لائے گی کبھی تو میرے زخموں کی شفق کیا ہوا روئے تمنا پر اگر غازہ نہیں ایک آنسو ہوں خوشی کی آنکھ سے روٹھا ہوا میں کسی ...

مزید پڑھیے

کس نے دیکھے ہوں گے اب تک ایسے نئے نرالے پتھر

کس نے دیکھے ہوں گے اب تک ایسے نئے نرالے پتھر میں نے اپنے تاج محل میں چنوائے ہیں کالے پتھر جو ہیروں کے روپ میں در در اپنے آنسو بانٹ رہے ہیں ان فن کاروں پر پھینکیں گے کب تک دنیا والے پتھر جانے کون تھے جن کو جیون رت سے بھیک ملی رنگوں کی اپنی سونی جھولی میں تو پھولوں نے بھی ڈالے ...

مزید پڑھیے

رات کی بھیگی پلکوں پر جب اشک ہمارے ہنستے ہیں

رات کی بھیگی پلکوں پر جب اشک ہمارے ہنستے ہیں سناٹوں کے سانپ دلوں کی تنہائی کو ڈستے ہیں کل تک مے خانے میں جن کے نام کا سکہ چلتا تھا قطرہ قطرہ مے کی خاطر آج وہ لوگ ترستے ہیں اے میرے مجروح تبسم روپ نگر کی ریت نہ پوچھ جن کے سینوں میں پتھر ہیں ان پر پھول برستے ہیں شہر ہوس کے سودائی ...

مزید پڑھیے

ہو گیا ہوں ہر طرف بد نام تیرے شہر میں

ہو گیا ہوں ہر طرف بد نام تیرے شہر میں یہ ملا ہے پیار کا انعام تیرے شہر میں جب سنہری چوڑیاں بجتی ہیں دل کے ساز پر ناچتی ہے گردش ایام تیرے شہر میں اس قدر پابندیاں آخر یہ کیا اندھیر ہے لے نہیں سکتے ترا ہی نام تیرے شہر میں اب تو یادوں کے افق پر چاند بن کر مسکرا روتے روتے ہو گئی ہے ...

مزید پڑھیے

گفتگو کیوں نہ کریں دیدۂ تر سے بادل

گفتگو کیوں نہ کریں دیدۂ تر سے بادل لوٹ آئے ہیں ستاروں کے سفر سے بادل کیا غضب ناک تھی سورج کی برہنہ شمشیر کالے مجرم کی طرح نکلے نہ گھر سے بادل رات کی کوکھ کوئی چاند کہاں سے لائے یہ زمیں بانجھ ہے برسے کہ نہ برسے بادل برف سے کہیے کہ سوغات کرے ان کی قبول لائے ہیں آگ کے دستانے سفر سے ...

مزید پڑھیے

کبھی تو کھل کے برس ابر مہرباں کی طرح

کبھی تو کھل کے برس ابر مہرباں کی طرح مرا وجود ہے جلتے ہوئے مکاں کی طرح بھری بہار کا سینہ ہے زخم زخم مگر صبا نے گائی ہے لوری شفیق ماں کی طرح وہ کون تھا جو برہنہ بدن چٹانوں سے لپٹ گیا تھا کبھی بحر بیکراں کی طرح سکوت دل تو جزیرہ ہے برف کا لیکن ترا خلوص ہے سورج کے سائباں کی طرح میں ...

مزید پڑھیے

کون کہتا ہے کہ بے نام و نشاں ہو جاؤں گا

کون کہتا ہے کہ بے نام و نشاں ہو جاؤں گا ڈوب کر میں قطرے قطرے سے عیاں ہو جاؤں گا دیکھنا چھیڑوں گا مقتل میں بھی ساز سرمدی عشق پر جب ظلم ہوگا نغمہ خواں ہو جاؤں گا موتی بن کر سیپیوں میں آپ روشن ہیں اگر میں بھی گیلی ریت پر گوہر فشاں ہو جاؤں گا ساری دنیا سے جدا ہے میری فطرت کا مزاج جس ...

مزید پڑھیے

دنیا سوچے شوق سے سوچے آج اور کل کے بارے میں

دنیا سوچے شوق سے سوچے آج اور کل کے بارے میں میں کیوں اپنا چین گنواؤں اس پاگل کے بارے میں سنگ مرمر کی قبروں میں محو خواب تھے ہم دونوں کل شب دیکھا خواب عجب سا تاج محل کے بارے میں آخر اس کی سوکھی لکڑی ایک چتا کے کام آئی ہرے بھرے قصے سنتے تھے جس پیپل کے بارے میں میرے شیتل من کی جوالا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1961 سے 6203