قومی زبان

عشق کیا ہے غم ہستی کا فنا ہو جانا

عشق کیا ہے غم ہستی کا فنا ہو جانا پیکر خاک کا مٹ مٹ کے خدا ہو جانا یہ دو دو جہاں ہے تری زلفوں کا اسیر راس آیا ہے اسے صید بلا ہو جانا نا خدائی پہ ہے ناز اہل سفینہ ہشیار نا خدا چاہتا ہے آپ خدا ہو جانا سینکڑوں سجدوں میں واعظ کو ہوا ہے حاصل زینت محفل ارباب ریا ہو جانا فیض عاصی ہے کہ ...

مزید پڑھیے

آرزوئیں جل گئیں شوق فراواں جل گیا

آرزوئیں جل گئیں شوق فراواں جل گیا بجھ گیا دل زندگی کا ساز و ساماں جل گیا موسم گل تھا کہ تھی برق خزاں زیر نقاب پھول ہنسنے بھی نہ پائے تھے گلستاں جل گیا شوق منزل میں جنوں کی گرم رفتاری نہ پوچھ راہ کے کانٹوں کی کیا ہستی بیاباں جل گیا جھوم کر سوئے چمن آیا تو کیا برسا تو کیا آشیاں تو ...

مزید پڑھیے

برنگ نکہت گل ہے چمن میں آشیاں اپنا

برنگ نکہت گل ہے چمن میں آشیاں اپنا کسی کے راز داں ہم ہیں نہ کوئی رازداں اپنا چلے تو جا رہے ہیں کیا بتائیں کل کہاں ہوں گے خدا معلوم کس منزل پہ ٹھہرے کارواں اپنا یہی اچھا ہوا محفل میں تیری چپ رہے ورنہ غم دل کی کہانی اور پھر طرز بیاں اپنا سپرد عشق ہم تو کر چکے سرمایۂ ہستی جو اہل ...

مزید پڑھیے

خدا کو بھولے نہ جب تک ہمیں خدا نہ ملا

خدا کو بھولے نہ جب تک ہمیں خدا نہ ملا یہ مدعا بھی بجز ترک مدعا نہ ملا قدم قدم پہ نہ کیوں سجدہ ریزیاں کر لوں حضور حسن یہ موقع ملا ملا نہ ملا کلیم طور یہ کیوں طور پر گری بجلی نگاہ ناز کو کیا کوئی با وفا نہ ملا اڑا کے لے گئی پرواز شوق منزل تک عدم کی راہ میں کوئی شکستہ پا نہ ملا قفس ...

مزید پڑھیے

سوتے سے وہ جاگ پڑا ہے

سوتے سے وہ جاگ پڑا ہے خوابوں کا نقصان ہوا ہے ہم بھی گھر میں آ بیٹھے ہیں رستہ بھی سنسان پڑا ہے بچے پب جی کھیل رہے ہیں بوڑھا برگد دیکھ رہا ہے پارک کی سونی بینچوں پر شام کا سایہ پھیل رہا ہے تنہائی کی گہری دھوپ میں تیری یاد کا پھول کھلا ہے اندر آ کر دیکھ کبھی تو یاں پورا اک شہر بسا ...

مزید پڑھیے

میں اپنے پاؤں بڑھاؤں مگر کہاں آگے

میں اپنے پاؤں بڑھاؤں مگر کہاں آگے زمین ختم ہوئی اب ہے آسماں آگے ہر ایک موڑ پہ میں پوچھتا ہوں اس کا پتہ ہر ایک شخص یہ کہتا ہے بس وہاں آگے بچھڑتے جاتے ہیں احباب خواب کی صورت گزرتا جاتا ہے یادوں کا کارواں آگے بس اگلے موڑ تلک ہی یہ صاف منظر ہے پھر اس کے بعد وہی بے کراں دھواں آگے

مزید پڑھیے

کارزار دہر میں کیا نصرت و غم دیکھنا

کارزار دہر میں کیا نصرت و غم دیکھنا ایک بس اپنا علم اور اپنا پرچم دیکھنا اس طلسم عصر حاضر سے جب آنکھیں جل اٹھیں دور جلتا اک چراغ اسم اعظم دیکھنا منتظر ہیں راستوں پر حادثے چلتے ہوئے کھول رکھنا اپنی آنکھیں اور کم کم دیکھنا چاند تارے اور جگنو اور مرا رنگ ہنر یعنی اس کو یاد کرنا ...

مزید پڑھیے

ہماری نیند کوئی سو گیا ہے کیا

ہماری نیند کوئی سو گیا ہے کیا جو تھا خوابوں کا زیور کھو گیا ہے کیا سبھی چہروں پہ ہے کیوں بد حواسی اب سبھی کا جیسے یاں کچھ کھو گیا ہے کیا کوئی فریاد اب سنتا نہیں وہ بھی کہیں پر چیف جسٹس ہو گیا ہے کیا یہ کیوں تالاب دریا اور سمندر ہیں یہاں پر کوئی آ کر رو گیا ہے کیا قمرؔ کا آئنے ...

مزید پڑھیے

منزلوں کے نشاں نہیں ملتے

منزلوں کے نشاں نہیں ملتے تم اگر ناگہاں نہیں ملتے آشیانے کا رنج کون کرے چار تنکے کہاں نہیں ملتے داستانیں ہزار ملتی ہیں صاحب داستاں نہیں ملتے یوں نہ ملنے کے سو بہانے ہیں ملنے والے کہاں نہیں ملتے انقلاب جہاں ارے توبہ ہم جہاں تھے وہاں نہیں ملتے دوستوں کی کمی نہیں ہمدم ایسے ...

مزید پڑھیے

نظر ہے جلوۂ جاناں ہے دیکھیے کیا ہو

نظر ہے جلوۂ جاناں ہے دیکھیے کیا ہو شکست عشق کا امکاں ہے دیکھیے کیا ہو ابھی بہار گزشتہ کا غم مٹا بھی نہیں پھر اہتمام بہاراں ہے دیکھیے کیا ہو قدم اٹھے بھی نہیں بزم ناز کی جانب خیال ابھی سے پریشاں ہے دیکھیے کیا ہو کسی کی راہ میں کانٹے کسی کی راہ میں پھول ہماری راہ میں طوفاں ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1923 سے 6203