قومی زبان

شاعر کی تمنائیں

امنگیں دل سے اٹھ اٹھ کر تخیل میں سنورتی ہیں مرے ظلمت کدہ میں عرش سے حوریں اترتی ہیں وہ میری حسرتیں وہ آرزوئیں وہ تمنائیں جو بر آئیں تو دنیا کے جہنم سرد ہو جائیں یقیں ہوتا ہے دل کو جادۂ حق سے گزرنا ہے مجھے مستقبل انسانیت تعمیر کرنا ہے اٹھوں اٹھ کر نظام محفل ہستی بدل ڈالوں بڑھوں ...

مزید پڑھیے

وطن

بہت عزیز ہے مجھ کو وطن عزیز وطن وطن کی خاک ہے عنبر مری نگاہوں میں وطن کے قطرے سمندر مری نگاہوں میں وطن کے ذرے ہیں گوہر مری نگاہوں میں وطن کے خار گل تر مری نگاہوں میں بہت عزیز ہے مجھ کو وطن عزیز وطن مری نگاہوں میں وقعت ہے طور سینا کی مری نگاہوں میں عظمت ہے عرش عالی کی مری نگاہوں میں ...

مزید پڑھیے

بجھی ہوئی جوانیاں

نہ اضطراب غزنوی نہ مشرب ایاز ہے نہ خون میں حرارتیں نہ سوز ہے نہ ساز ہے نہ ذوق جام و مے کدہ نہ بت کدہ کی آرزو نہ طوف کوئے یار کا نہ حسرتیں نہ جستجو نہ ذوق‌ تیغ ناز ہے نہ شوق ناوک نظر نہ نالۂ حزیں رسا نہ آہ سرد میں اثر نہ ہم نشیں نہ ولولہ کہ لو کہیں لگائیں ہم نہ حوصلہ کہ سختیاں فراق کی ...

مزید پڑھیے

محبت زندگی ہے زندگی کا نام مستی ہے

محبت زندگی ہے زندگی کا نام مستی ہے اگر مستی نہ ہو تو زندگی مٹی سے سستی ہے اگاؤ دور تک اے دوستوں فصلیں محبت کی محبت جس جگہ ہوتی نہیں لعنت برستی ہے وہ راہ زندگی میں مسکرانا بھول جاتا ہے غریبی جس کو اپنی زلف کے پنجے میں کستی ہے کبھی وہ جوش تھا اپنے کنارے کاٹ دیتی تھی مگر اب تو ندی ...

مزید پڑھیے

وہ جان انتظار آئے نہ آئے

وہ جان انتظار آئے نہ آئے مرے دل کو قرار آئے نہ آئے یقیں ہے آئے گا دور مسرت کسی کو اعتبار آئے نہ آئے خزاں کا دور تو ہو جائے رخصت گلستاں میں بہار آئے نہ آئے کسے معلوم کب وہ روٹھ جائیں محبت سازگار آئے نہ آئے بلایا اس نے ہے تو جاؤں گا میں یہ موقع بار بار آئے نہ آئے

مزید پڑھیے

کوئی باہر سے کوئی اندر اندر ٹوٹ جاتا ہے

کوئی باہر سے کوئی اندر اندر ٹوٹ جاتا ہے جب انساں آتا ہے گردش کی زد پر ٹوٹ جاتا ہے اگر میں مٹ گیا حالات سے تو اس میں حیرت کیا مسلسل چوٹ پڑتی ہے تو پتھر ٹوٹ جاتا ہے سحر کے وقت جب سورج نکلنا چاہتا ہے تو فلک کی گود میں تاروں کا لشکر ٹوٹ جاتا ہے نہیں ہے بد نصیبی یہ تو اس کو کیا کہا ...

مزید پڑھیے

محبت کا جہاں ہے اور میں ہوں

محبت کا جہاں ہے اور میں ہوں مرا دار الاماں ہے اور میں ہوں حیات غم نشاں ہے اور میں ہوں مسلسل امتحاں ہے اور میں ہوں نگاہ شوق ہے اور ان کے جلوے شکست ناگہاں ہے اور میں ہوں اسی کا نام ہو شاید محبت کوئی بار گراں ہے اور میں ہوں محبت بے سہارا تو نہیں ہے مرا درد نہاں ہے اور میں ہوں محبت ...

مزید پڑھیے

لذت درد جگر یاد آئی

لذت درد جگر یاد آئی پھر تری پہلی نظر یاد آئی درد نے جب کوئی کروٹ بدلی زندگی بار دگر یاد آئی پڑ گئی جب ترے دامن پہ نظر عظمت دیدۂ تر یاد آئی اپنا کھویا ہوا دل یاد آیا ان کی مخمور نظر یاد آئی دیر و کعبہ سے جو ہو کر گزرے دوست کی راہ گزر یاد آئی دیکھ کر اس رخ زیبا پہ نقاب اپنی گستاخ ...

مزید پڑھیے

بے نقاب ان کی جفاؤں کو کیا ہے میں نے

بے نقاب ان کی جفاؤں کو کیا ہے میں نے وقت کے ہاتھ میں آئینہ دیا ہے میں نے خون خود شوق و تمنا کا کیا ہے میں نے اپنی تصویر کو اک رنگ دیا ہے میں نے یہ تو سچ ہے کہ نہیں اپنے گریباں کی خبر تیرا دامن تو کئی بار سیا ہے میں نے رسن و دار کی تقدیر جگا دی جس نے تیری دنیا میں وہ اعلان کیا ہے میں ...

مزید پڑھیے

تم اسی کو وجہ طرب کہو ہم اسی کو باعث غم کہیں

تم اسی کو وجہ طرب کہو ہم اسی کو باعث غم کہیں وہی اک فسانۂ عشق ہے کبھی تم کہو کبھی ہم کہیں کبھی ذکر مہر و وفا کریں کبھی داستان الم کہیں بڑے اعتماد سے وہ سنیں بڑے اعتماد سے ہم کہیں جسے انقلاب نہ چھو سکا اسے تو نے خود ہی مٹا دیا وہی ایک دل کا صنم کدہ جسے آبروئے حرم کہیں وہی دل خراش ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1922 سے 6203