شاعر کی تمنائیں
امنگیں دل سے اٹھ اٹھ کر تخیل میں سنورتی ہیں مرے ظلمت کدہ میں عرش سے حوریں اترتی ہیں وہ میری حسرتیں وہ آرزوئیں وہ تمنائیں جو بر آئیں تو دنیا کے جہنم سرد ہو جائیں یقیں ہوتا ہے دل کو جادۂ حق سے گزرنا ہے مجھے مستقبل انسانیت تعمیر کرنا ہے اٹھوں اٹھ کر نظام محفل ہستی بدل ڈالوں بڑھوں ...