قومی زبان

میری راہوں میں کئی مرحلے دشوار آئے

میری راہوں میں کئی مرحلے دشوار آئے دیر آیا حرم آیا رسن و دار آئے جلوہ گاہوں میں ابھی شمع یقیں جلنے دو کیا عجب ہے جو کوئی طالب دیدار آئے محفل ناز کے آداب ہیں سب پر لازم کوئی دیوانہ یہاں آئے کہ ہشیار آئے عشق میں وسعت کونین سے شائستہ گزر کیا خبر ہے کہ کہاں جلوہ گہہ یار آئے ساز ...

مزید پڑھیے

ساقیا طنز نہ کر چشم کرم رہنے دے

ساقیا طنز نہ کر چشم کرم رہنے دے میرے ساغر میں اگر کم ہے تو کم رہنے دے عشق آوارہ کو محروم کرم رہنے دے اپنے ماتھے پہ شکن زلف میں خم رہنے دے تو زمانے کو مٹاتا ہے مٹا دے لیکن عشق کی راہ میں کچھ نقش قدم رہنے دے میرے الجھے ہوئے حالات غنیمت ہیں مجھے دل کی باتوں میں نہ آ پرسش غم رہنے ...

مزید پڑھیے

ہیں اب تو حیلے بہانے کے قیل و قال کے دن

ہیں اب تو حیلے بہانے کے قیل و قال کے دن بھلا کے رکھ دئے تو نے مری مجال کے دن کہ دکھ نے کوچۂ شب پار کر لیا شاید طلوع ہونے لگے اس لیے ملال کے دن ہر ایک لفظ پشیماں پس غبار سکوت جواب کی وہ ہوں راتیں کہ پھر سوال کے دن چراغ صوت و صدا آج کچھ منور ہے وصال شب کے قریں ہیں مرے غزال کے دن یہ ...

مزید پڑھیے

کیا رنج کہ یوسف کا خریدار نہیں ہے

کیا رنج کہ یوسف کا خریدار نہیں ہے یہ شہر کوئی مصر کا بازار نہیں ہے کیوں میری گرفتاری پہ ہنگامہ ہے ہر سو وہ کون ہے جو تیرا گرفتار نہیں ہے کس کس پہ عنایت نہ ہوئی تیری نظر کی بس ایک مری سمت گہر بار نہیں ہے کیوں جرأت اظہار پہ حیران ہو میری ابرو ہیں تمہارے کوئی تلوار نہیں ہے سایہ ہے ...

مزید پڑھیے

پھر وہی خانۂ برباد ہمارے لیے ہے

پھر وہی خانۂ برباد ہمارے لیے ہے شہر غرناطہ و بغداد ہمارے لیے ہے جھیلنا ہے ہمیں پھر کرب فراموشی کا پھر وہی سلسلۂ یاد ہمارے لیے ہے نیند کے شہر طلسمات مبارک ہوں تمہیں جاگتے رہنے کی افتاد ہمارے لیے ہے غم ہیں آشوب خودی میں ہمیں ورنہ اک شہر خوں سے تر شور سے آباد ہمارے لیے ...

مزید پڑھیے

کسی کے دست طلب کو پکارتا ہوں میں

کسی کے دست طلب کو پکارتا ہوں میں اٹھاؤ ہاتھ مجھے مانگ لو دعا ہوں میں مرے ازل اور ابد میں نہیں ہے فصل کوئی ابھی شروع ابھی ختم ہو گیا ہوں میں بسی ہے مجھ میں یگوں سے عجیب ویرانی بدن سے روح تلک بے کراں خلا ہوں میں نہ کوئی آگ ہے مجھ میں نہ روشنی نہ دھواں کسی کے خواب میں جلتا ہوا دیا ...

مزید پڑھیے

وہ بات بات پہ کہتا ہے بے وفا مجھ کو

وہ بات بات پہ کہتا ہے بے وفا مجھ کو سکھا دیا انہیں باتوں نے بولنا مجھ کو میں اپنی ذات میں گم ہو گیا تھا سب سے دور تری نظر سے ملا ہے مرا پتہ مجھ کو حقیقتوں سے نظر کب تلک چراؤں گا کہ بار بار دکھاتی ہیں آئنہ مجھ کو وہ چاہتا تھا کہ میں اس کی اک جھلک دیکھوں میں سوچتا تھا کہیں سے وہ دے ...

مزید پڑھیے

پیش منظر میں ہے کچھ اور کچھ پس منظر میں ہے

پیش منظر میں ہے کچھ اور کچھ پس منظر میں ہے کچھ حقیقت کچھ فسانہ رام اور بابر میں ہے غم کے مارو مختصر ہے عرصۂ تیرہ شبی اور اس کے بعد سب کچھ پنجۂ داور میں ہے خواب سارے ہو گئے ہیں نیند سے اب ماورا پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے حال ماضی اور مستقبل سبھی تو اس کے ہیں ہستی اپنی اس ...

مزید پڑھیے

خواب نہیں ہے سناٹا ہے لیکن ہے تعبیر بہت

خواب نہیں ہے سناٹا ہے لیکن ہے تعبیر بہت سچی باتیں کم کم ہیں اور جھوٹ کی ہے تشہیر بہت کیا کیا چہرے ہیں آنکھوں میں شکلیں کیا کیا ذہن میں ہیں یادیں گویا البم ہیں اور البم میں تصویر بہت قصہ ہے بس دو پل کا یہ ملنے اور بچھڑنے کا کرنے والے عشق کی یوں تو کرتے ہیں تفسیر بہت ہم تو صاحب ...

مزید پڑھیے

پانیوں میں راستہ شعلوں میں گھر دیکھے گا کون

پانیوں میں راستہ شعلوں میں گھر دیکھے گا کون اے گمان خوش نظر اب کے ادھر دیکھے گا کون چشم پر نم سوز دل اپنی جگہ لیکن یہاں موسم سر سبز میں رقص شرر دیکھے گا کون اس صدی سے اس صدی تک رشتے ناطے دوستی پیچھے کیا کیا رہ گیا ہے لوٹ کر دیکھے گا کون درہم و دینار ہیں انعام ہجرت کا مگر گھر سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1924 سے 6203