قومی زبان

رابطہ رکھ تیرگی سے روشنی کو چھوڑ دے

رابطہ رکھ تیرگی سے روشنی کو چھوڑ دے جو اذیت ناک ہو ایسی خوشی کو چھوڑ دے جانتے سب ہیں کہ اس کے بعد ہے دور خزاں کیوں نہ دامان بہار زندگی کو چھوڑ دے وقت اپنے آپ میں اک فتنۂ بیدار ہے وقت کے کہنے پہ کوئی کیوں کسی کو چھوڑ دے اس سے پہلے تجھ کو نظروں سے گرا دے یہ جہاں مان لے کہنا خدارا ...

مزید پڑھیے

شام وعدہ ہے اگر اب بھی نہ وہ آئے تو پھر

شام وعدہ ہے اگر اب بھی نہ وہ آئے تو پھر اور اس غم میں جو دھڑکن دل کی رک جائے تو پھر جس سے تم دامن کشاں ہو زندگی کی راہ میں روح کی گہرائیوں میں وہ اتر جائے تو پھر تجھ کو ہے جس کی وفاؤں پر نہایت اعتماد ریزہ ریزہ کر کے وہ تجھ کو بکھر جائے تو پھر امن کا پرچم لئے پھرتے ہو سارے شہر ...

مزید پڑھیے

اس کو نذرانۂ جاں پیش کیا ہے میں نے

اس کو نذرانۂ جاں پیش کیا ہے میں نے یوں ثبوت اپنی وفاؤں کا دیا ہے میں نے اے مرے دامن صد چاک پہ ہنسنے والے یاد کر تیرا گریباں بھی سیا ہے میں نے خود کشی کی مرے دل نے مجھے دی ہے ترغیب جب کسی غیر کا احسان لیا ہے میں نے غیرت عشق کو پامال نہ ہونے دوں گا زندگی تجھ سے یہی عہد کیا ہے میں ...

مزید پڑھیے

جذبۂ عشق کا اظہار نہ ہونے پائے

جذبۂ عشق کا اظہار نہ ہونے پائے حسن رسوا سر بازار نہ ہونے پائے مدتوں محفل ساقی میں رہے ہیں لیکن جام چھونے کے گنہ گار نہ ہونے پائے بزم احباب میں آیا ہوں مگر ڈر یہ ہے کوئی فتنہ پس دیوار نہ ہونے پائے آؤ تعمیر کریں ایسا محبت کا مکان وقت کے ہاتھوں جو مسمار نہ ہونے پائے جن کے سینوں ...

مزید پڑھیے

مرے خدا نہ مجھے ذوق خود نمائی دے

مرے خدا نہ مجھے ذوق خود نمائی دے جو دینا ہے مجھے توفیق پارسائی دے ملے جو بیٹا تو اکبر سا جاں نثار ملے جو بھائی دے مجھے عباس جیسا بھائی دے بھٹک رہا ہوں میں اک برگ خشک کی مانند خدا کسی کو نہ مجھ جیسی بے نوائی دے مری نگاہ میں جلوے ترے سمٹ آئیں جہاں میں جاؤں وہیں تو ہی تو دکھائی ...

مزید پڑھیے

مری زمیں ترے افلاک سے زیادہ ہے

مری زمیں ترے افلاک سے زیادہ ہے مجھے یہ خاک ہر اک خاک سے زیادہ ہے نگار خانۂ دنیا مجھے دریدہ لباس تری عطا شدہ پوشاک سے زیادہ ہے شکستہ جسم الگ چیز ہے مگر ترا ظلم کہاں مرے دل بے باک سے زیادہ ہے کہانی کار تجھے کیا خبر یہ شہر دکھی ترے فسانۂ غمناک سے زیادہ ہے میں بجھ رہا ہوں مگر میری ...

مزید پڑھیے

میں نے بھی تہمت تکفیر اٹھائی ہوئی ہے

میں نے بھی تہمت تکفیر اٹھائی ہوئی ہے ایک نیکی مرے حصے میں بھی آئی ہوئی ہے مرے کاندھوں پہ دھرا ہے کوئی ہارا ہوا عشق یہی گٹھڑی ہے جو مدت سے اٹھائی ہوئی ہے تم تو آئے ہو ابھی دشت محبت کی طرف میں نے یہ خاک بہت پہلے اڑائی ہوئی ہے ٹوٹ جاؤں گا اگر مجھ کو بنایا بھی گیا کوئی شے ایسی مری ...

مزید پڑھیے

شمع محفل ہو کے بھی گرویدۂ محفل نہیں

شمع محفل ہو کے بھی گرویدۂ محفل نہیں میں ہوں دنیا میں مگر دنیا میں میرا دل نہیں میرے دل کی دھڑکنیں جب تک ہیں طوفاں سینکڑوں موج بیتابی ہے میری زندگی ساحل نہیں یہ نمازوں میں خیال جنت و حور و قصور زاہد کج بیں ابھی نو مشق ہے کامل نہیں بے نیاز فکر منزل بے خودی نے کر دیا اب مرے دامن پہ ...

مزید پڑھیے

فریب رنگ نہ دے جلوۂ بہار مجھے

فریب رنگ نہ دے جلوۂ بہار مجھے عزیز تر ہیں چمن میں گلوں سے خار مجھے مری خطاؤں پہ یہ باز پرس مالک حشر عطا ہوا تھا کبھی دل پہ اختیار مجھے یہ ان کی یاد یہ طوفان رنگ و بو توبہ ملی تو درد میں ڈوبی ہوئی بہار مجھے اب اس مقام پہ منزل ہے درد پیہم کی کہ ہر تڑپ میں ملی لذت قرار مجھے چمن میں ...

مزید پڑھیے

خدا سے

تجھ کو بھی کچھ خبر ہے دنیا بنانے والے یہ کارگاہ ہستی بازار اوج و پستی لے دیکھ ہو رہی ہے بے چینیوں کی بستی تجھ کو بھی کچھ خبر ہے دنیا بنانے والے 2 پھولوں کے چاک داماں غنچوں میں سوز پنہاں گلشن بہار میں بھی بے کیف و درد ساماں سوز دروں نہیں ہے جوش جنوں نہیں ہے دل ہی سے عاشقی تھی دل ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1921 سے 6203