رابطہ رکھ تیرگی سے روشنی کو چھوڑ دے
رابطہ رکھ تیرگی سے روشنی کو چھوڑ دے
جو اذیت ناک ہو ایسی خوشی کو چھوڑ دے
جانتے سب ہیں کہ اس کے بعد ہے دور خزاں
کیوں نہ دامان بہار زندگی کو چھوڑ دے
وقت اپنے آپ میں اک فتنۂ بیدار ہے
وقت کے کہنے پہ کوئی کیوں کسی کو چھوڑ دے
اس سے پہلے تجھ کو نظروں سے گرا دے یہ جہاں
مان لے کہنا خدارا بے حسی کو چھوڑ دے
وقت پر انجمؔ نہ تیرے کام آئے گا کوئی
دوستوں سے پھیر لے منہ دوستی کو چھوڑ دے