قومی زبان

طلسم حلقۂ سیارگاں میں کیا رہنا

طلسم حلقۂ سیارگاں میں کیا رہنا کسی کی سلطنت بے اماں میں کیا رہنا الگ جلایا ہے اپنا چراغ اس خاطر تمام عمر صف دوستاں میں کیا رہنا نہ جانے چھین لے کب ہم سے شاہ کا کردار فریب عمر تری داستاں میں کیا رہنا یہ وقت لمحۂ موجود کا تسلسل ہے ملال خواہش آئندگان میں کیا رہنا اگر وہ خرم و ...

مزید پڑھیے

ہم نے ہر غم دل صد چاک سے باہر رکھا

ہم نے ہر غم دل صد چاک سے باہر رکھا آگ کو پیرہن خاک سے باہر رکھا زیب تن ہم نے بھی کر رکھی یہ دنیا لیکن تیرے ہر رنگ کو پوشاک سے باہر رکھا خواب در خواب تجھے ڈھونڈنے والوں نے بھی اب نیند کو دیدۂ نمناک سے باہر رکھا اک طرح دھیان ہی ایسا کہ جسے ہم نے یہاں نفع نقصان کے پیچاک سے باہر ...

مزید پڑھیے

تجھ سے بچھڑوں گا ترے دھیان میں رہ جاؤں گا

تجھ سے بچھڑوں گا ترے دھیان میں رہ جاؤں گا میں رہا ہو کے بھی زندان میں رہ جاؤں گا وہ گزر جائے گا سو راستے کر کے لیکن میں کہیں وعدہ و پیمان میں رہ جاؤں گا بانجھ پیڑوں کو نہ کاٹے گا کوئی دست اجل میں کہ پھل دار ہوں نقصان میں رہ جاؤں گا ایک لمحہ وہ پذیرائی کرے گا اور میں عمر بھر سایۂ ...

مزید پڑھیے

سبھی کچھ خاک میں تحلیل ہوتا جا رہا ہے

سبھی کچھ خاک میں تحلیل ہوتا جا رہا ہے چلو یہ شہر بھی تبدیل ہوتا جا رہا ہے کسی کی گفتگو میں ایک وہ مفہوم ہے جو حقائق سے الگ ترسیل ہوتا جا رہا ہے میں کیسے ترک کر دوں اب کہ یہ کار محبت کسی کے حکم کی تعمیل ہوتا جا رہا ہے میں کیا ترتیب دینا چاہتا ہوں اور مجھ سے یہ کیا ہے جو یہاں تشکیل ...

مزید پڑھیے

جو زندگی کے ہر ایک دھارے میں جاگتا ہے

جو زندگی کے ہر ایک دھارے میں جاگتا ہے ترا بدن اس چراغ پارے میں جاگتا ہے گریز کیسے کرے گا میرے وجود سے تو کہ تیرا سورج مرے ستارے میں جاگتا ہے مجھے خبر ہے خموش سویا ہوا یہ دریا کہیں کسی دوسرے کنارے میں جاگتا ہے بہت کٹھن تو نہیں ہے سچ کو تلاش کرنا کہ یہ لہو کے ہر استعارے میں جاگتا ...

مزید پڑھیے

کسی کے عکس کو حیران کرنا چاہتا ہوں

کسی کے عکس کو حیران کرنا چاہتا ہوں میں سنگ و آئنہ یک جان کرنا چاہتا ہوں بلند کرتا ہوں دست دعا کہ جیسے میں کسی کی ذات پر احسان کرنا چاہتا ہوں بہت حقیر ہے لیکن تجھے عطا کر کے میں دل کو تخت سلیمان کرنا چاہتا ہوں مجھے یہ زندگی دشوار بھی قبول مگر کہیں کہیں اسے آسان کرنا چاہتا ...

مزید پڑھیے

کسی عشق و رزق کے جال میں نہیں آئے گا

کسی عشق و رزق کے جال میں نہیں آئے گا یہ فقیر اب تری چال میں نہیں آئے گا میں منا تو لوں گا اسے مگر وہ انا پرست مری سمت اب کسی حال میں نہیں آئے گا میں کہوں گا حرف طلب کچھ ایسے کمال سے مرا درد میرے سوال میں نہیں آئے گا کبھی اپنی ایک جھلک مجھے بھی نواز دے کوئی فرق تیرے جمال میں نہیں ...

مزید پڑھیے

لہو میں تر یہ دیار بھی دیکھنا ہے اک دن

لہو میں تر یہ دیار بھی دیکھنا ہے اک دن مجھے ترا اختیار بھی دیکھنا ہے اک دن گزرنا ہے ایک راستے سے ہوا کی صورت چراغ کو سوگوار بھی دیکھنا ہے اک دن تلاش کرنی ہے اشک اور آئینے میں نسبت کسی کی آنکھوں کے پار بھی دیکھنا ہے اک دن ابھی تو دنیا کی سرد مہری سے لڑ رہا ہوں سلوک پروردگار بھی ...

مزید پڑھیے

آئنہ خانۂ گمان کو چھوڑ

آئنہ خانۂ گمان کو چھوڑ تو مرے ذکر میرے دھیان کو چھوڑ خلقت شہر جھوٹ بولتی ہے خلقت شہر کے بیان کو چھوڑ رنج مت کر الاؤ بجھنے کا زخم در زخم داستان کو چھوڑ اس زمیں پر گلاب وصل کھلا بانجھ مٹی کے آسمان کو چھوڑ شام ہونے سے پیشتر شہزادؔ تو بھی اس جسم کے مکان کو چھوڑ

مزید پڑھیے

دل میں جب سے ہوا قیام ترا

دل میں جب سے ہوا قیام ترا ہر کوئی پوچھتا ہے نام ترا سب کے احساس پر ہے چھایا تو ہر جگہ پر ہے ذکر عام ترا ہٹ کے چلتی ہے تیرے پیکر سے دھوپ کرتی ہے احترام ترا تیرے قدموں کے ساتھ چلتا ہے راستہ بھی ہوا غلام ترا روز آتی تو ہے صبا انجمؔ پھر بھی لاتی نہیں پیام ترا

مزید پڑھیے
صفحہ 1920 سے 6203