قومی زبان

علم بدست کہیں آئنہ بکف ہوں میں

علم بدست کہیں آئنہ بکف ہوں میں ترے خلاف ہر اک سمت صف بہ صف ہوں میں مجھے تلاش نہ کر تو کہ اک زمانہ ہوا کتاب عشق کے ہر باب سے حذف ہوں میں ہزار بھیس بدلتا رہوں مگر اس پار کسی چمکتی ہوئی آنکھ کا ہدف ہوں میں بدلتا رہتا ہوں ہر لمحہ اپنے خد و خال کہیں گہر کہیں دریا کہیں صدف ہوں میں ڈٹا ...

مزید پڑھیے

لرزتے ٹوٹتے گرتے ہوئے جہاں سے نکل

لرزتے ٹوٹتے گرتے ہوئے جہاں سے نکل زیادہ خوف زدہ ہے تو اس مکاں سے نکل ہمارے دل کا تعلق نہیں زمانے سے سو اپنی خواہش دنیا اٹھا یہاں سے نکل ترے جمال کی لو تیرے بعد رہ جائے دیے جلاتا ہوا اس جہان جاں سے نکل میں رب کے نور سے محو کلام ہوں سر شام سوئے چراغ دعا تو بھی درمیاں سے نکل اب اس ...

مزید پڑھیے

یہ جو مجھ کو گرا دیا گیا ہے

یہ جو مجھ کو گرا دیا گیا ہے آپ کو راستہ دیا گیا ہے کوئی تیری مثال ہی نہ رہے آئنہ بھی ہٹا دیا گیا ہے دکھ تو یہ ہے ترے بچھڑنے کا دکھ آنسوؤں میں بہا دیا گیا ہے ایک دل ہی تھا ضو فشاں سر شام یہ دیا بھی بجھا دیا گیا ہے مجھ کو اس دشت عشق میں شہزادؔ قیس کا مرتبہ دیا گیا ہے

مزید پڑھیے

تجھے کھو کر کسی سے پیار ہونا چاہیے تھا

تجھے کھو کر کسی سے پیار ہونا چاہیے تھا ہمیں اتنا تو دنیا دار ہونا چاہیے تھا ابھی تک کھل نہیں پایا کہ تیری داستاں میں ہمارا کون سا کردار ہونا چاہیے تھا کسی کے فیصلے کو مسترد کرنے سے پہلے ہمیں بھی غیر جانب دار ہونا چاہیے تھا کہاں تک اس کنارے پر رہیں گے ہم کہ اب تو یہ دریا بھی ...

مزید پڑھیے

اگر مجبور ہفت افلاک ہوتا

اگر مجبور ہفت افلاک ہوتا ہماری طرح تو بھی خاک ہوتا زمیں تاریک رہتی اور سورج ہمارے جسم کی پوشاک ہوتا کہیں اس داستاں اور خواب کے بیچ ترا ملبوس گل بھی چاک ہوتا ہم اپنا فائدہ بھی سوچ لیتے اگر نقصان کا ادراک ہوتا ذرا موسم بدلتا اور پھر تو ہمارے ہجر میں نمناک ہوتا

مزید پڑھیے

کسی چشم ہنر کی پاسبانی میں نہیں رہنا

کسی چشم ہنر کی پاسبانی میں نہیں رہنا ستارے کو زیادہ دیر پانی میں نہیں رہنا یہ مٹی کیوں مرے قدموں سے لپٹی ہے کہ جب میں نے ہمیشہ کے لیے دنیائے فانی میں نہیں رہنا کہیں اس داستاں میں ایک ایسا موڑ آئے گا جہاں کردار نے اپنی کہانی میں نہیں رہنا تجھے ہم راہ تو رکھ لوں گا میں لیکن دل ...

مزید پڑھیے

کوئی چراغ عطا کر کوئی گلاب اتار

کوئی چراغ عطا کر کوئی گلاب اتار وگرنہ شہر ستم پر وہی عذاب اتار زمین شہر کو اس درجہ منجمد کر دے ہر ایک چیخ اٹھے سر پہ آفتاب اتار ہمیں برہنہ کیا تو نے ہر زمانے میں زمیں پہ تو بھی کبھی خود کو بے حجاب اتار ہر ایک ہاتھ میں یا کاسۂ گدائی دے وگرنہ سب کے لیے رزق بے حساب اتار میں تیرے ...

مزید پڑھیے

جہاں ہوتے کسی چشم ستارہ یاب میں ہوتے

جہاں ہوتے کسی چشم ستارہ یاب میں ہوتے ہم ایسے لوگ ہر لحظہ حصار آب میں ہوتے تو پھر ہم پر بھی کھلتا حسن تیرے عارض و لب کا اگر کچھ اور چہرے بھی ہمارے خواب میں ہوتے یہ مٹی پاؤں میں زنجیر کی صورت ہے ورنہ ہم زمیں کو چھوڑ کر اک خطۂ شاداب میں ہوتے سمندر کو بپھرتے دیکھ کر یہ جی میں آتا ...

مزید پڑھیے

لہو میں ڈوبا ہوا پیرہن چمکتا ہے

لہو میں ڈوبا ہوا پیرہن چمکتا ہے سلگتی ریت پر اک گل بدن چمکتا ہے ستارے بجھتے چلے جا رہے ہیں خیموں میں بس اک چراغ سر انجمن چمکتا ہے ضعیف چن تو رہا ہے جوان لاشوں کو مگر نگاہ میں اک بانکپن چمکتا ہے یہ کیسے پھول جھڑے شیر خار ہونٹوں سے کہ جن کے نور سے سارا چمن چمکتا ہے یہ کون ماہ ...

مزید پڑھیے

نئی زمین نیا آسماں بنانا ہے

نئی زمین نیا آسماں بنانا ہے ترے مکان سے بہتر مکاں بنانا ہے جو بات سچ ہے نہیں کھولنی زمانے پر تخیلات کو حسن بیاں بنانا ہے ہوا سے تیری حمایت میں گفتگو کے بعد دیے کی لو کو ترا پاسباں بنانا ہے تلاش کرنے ہیں کچھ اپنے جیسے لوگ مجھے اور ایک حلقۂ آوارگاں بنانا ہے سپرد کر کے کسی کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1919 سے 6203