قومی زبان

عہد جنوں میں بیٹھے بیٹھے جو غزلیں لکھ ڈالی تھیں

عہد جنوں میں بیٹھے بیٹھے جو غزلیں لکھ ڈالی تھیں ہم کو رسوا دنیا بھر کو پاگل کرنے والی تھیں آنکھوں میں وہ شام کا ٹکڑا اکثر چبھتا رہتا ہے گھر میں آندھی جب آئی تھی شمعیں جلنے والی تھیں چاند ستارے ٹوٹ رہے تھے خوابوں کی انگنائی میں آنکھ کھلی تو دیکھا گھر کی سب دیواریں کالی ...

مزید پڑھیے

قصر ویراں

میں اس کو تکتا رہتا ہوں جو فرخ زاد کی غزلوں کی صورت خوب صورت ہے کہ جس کے پھول سے تن کو کسی رنگین تتلی کے رسیلے معتبر ہونٹوں کے بوسوں کی ضرورت ہے وہ اک شہکار ہے شاید خدائے پاک کے فن کا کہ جس کی سادگی میں بھی ہے رقصاں حسن کا جادو کمر سینہ ہو گردن ہو کہ اس کے دست اور بازو تراشیں سب کی ...

مزید پڑھیے

حسرت

جب شام کے سائے ڈھل جائیں جب شمعیں فلک کی جل جائیں جب رات درخشاں ہو جائے پر نور شبستاں ہو جائے تب ساتھ مرے تم سو جانا اور خواب زریں میں کھو جانا

مزید پڑھیے

گل بہ نوک خار

مری زلفیں نہیں کالی گھٹا ہیں مری پیشانی ہے مہتاب جیسی مری آنکھیں کنول کی پنکھڑی ہیں مرے لب ہیں گلابوں سے مشابہ مرے گالوں میں ہے لالی شفق کی مری گردن صراحی دار دیکھو مری باہیں ہیں مثل شاخ صندل بدن میرا ہے لالہ زار دیکھو اداؤں میں مری جادوگری ہے مری ہستی مکمل شاعری ہے ہوس کے مارو ...

مزید پڑھیے

بجتے ہوئے گھنگھرو تھے اڑتی ہوئی تانیں تھیں

بجتے ہوئے گھنگھرو تھے اڑتی ہوئی تانیں تھیں پہلے انہی گلیوں میں نغموں کی دکانیں تھیں یوں بیٹھ رہیں دل میں شوریدہ تمنائیں گویا کسی جنگل میں پتوں کی اڑانیں تھیں یا رب مرے ہاتھوں میں تیشہ بھی دیا ہوتا ہر منزل ہستی میں جب اتنی چٹانیں تھیں وہ لمحۂ لرزاں بھی دیکھا ہے سر محفل اک ...

مزید پڑھیے

دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے

دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے کتنے دنوں کے پیاسے ہوں گے یارو سوچو تو شبنم کا قطرہ بھی جن کو دریا لگتا ہے آنکھوں کو بھی لے ڈوبا یہ دل کا پاگل پن آتے جاتے جو ملتا ہے تم سا لگتا ہے اس بستی میں کون ہمارے آنسو پونچھے گا جو ملتا ہے اس کا دامن ...

مزید پڑھیے

ذہن میں کون سے آسیب کا ڈر باندھ لیا

ذہن میں کون سے آسیب کا ڈر باندھ لیا تم نے پوچھا بھی نہیں رخت سفر باندھ لیا بے مکانی کی بھی تہذیب ہوا کرتی ہے ان پرندوں نے بھی ایک ایک شجر باندھ لیا راستے میں کہیں گر جائے تو مجبوری ہے میں نے دامان دریدہ میں ہنر باندھ لیا اپنے دامن پہ نظر کر مرے ہاتھوں پہ نہ جا میں نے پتھراؤ کیا ...

مزید پڑھیے

پھر مرے سر پہ کڑی دھوپ کی بوچھار گری

پھر مرے سر پہ کڑی دھوپ کی بوچھار گری میں جہاں جا کے چھپا تھا وہیں دیوار گری لوگ قسطوں میں مجھے قتل کریں گے شاید سب سے پہلے مری آواز پہ تلوار گری اور کچھ دیر مری آس نہ ٹوٹی ہوتی آخری موج تھی جب ہاتھ سے پتوار گری اگلے وقتوں میں سنیں گے در و دیوار مجھے میری ہر چیخ مرے عہد کے اس پار ...

مزید پڑھیے

دشت تنہائی میں کل رات ہوا کیسی تھی

دشت تنہائی میں کل رات ہوا کیسی تھی دیر تک ٹوٹتے لمحوں کی صدا کیسی تھی زندگی نے مرا پیچھا نہیں چھوڑا اب تک عمر بھر سر سے نہ اتری یہ بلا کیسی تھی سنتے رہتے تھے محبت کے فسانے کیا کیا بوند بھر دل پہ نہ برسی یہ گھٹا کیسی تھی کیا ملا فیصلۂ ترک تعلق کر کے تم جو بچھڑے تھے تو ہونٹوں پہ ...

مزید پڑھیے

اپنی تنہائی کی پلکوں کو بھگو لوں پہلے

اپنی تنہائی کی پلکوں کو بھگو لوں پہلے پھر غزل تجھ پہ لکھوں بیٹھ کے رو لوں پہلے خواب کے ساتھ کہیں کھو نہ گئی ہو آنکھیں جب اٹھوں سو کے تو چہرے کو ٹٹولوں پہلے میرے خوابوں کو ہے موسم پہ بھروسہ کتنا بعد میں پھول کھلیں ہار پرو لوں پہلے دیکھنا ہے وہ خفا رہتا ہے مجھ سے کب تک میں نے سوچا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1902 سے 6203