عہد جنوں میں بیٹھے بیٹھے جو غزلیں لکھ ڈالی تھیں
عہد جنوں میں بیٹھے بیٹھے جو غزلیں لکھ ڈالی تھیں ہم کو رسوا دنیا بھر کو پاگل کرنے والی تھیں آنکھوں میں وہ شام کا ٹکڑا اکثر چبھتا رہتا ہے گھر میں آندھی جب آئی تھی شمعیں جلنے والی تھیں چاند ستارے ٹوٹ رہے تھے خوابوں کی انگنائی میں آنکھ کھلی تو دیکھا گھر کی سب دیواریں کالی ...