تری بے وفائی کے بعد بھی مرے دل کا پیار نہیں گیا
تری بے وفائی کے بعد بھی مرے دل کا پیار نہیں گیا شب انتظار گزر گئی غم انتظار نہیں گیا میں سمندروں کا نصیب تھا مرا ڈوبنا بھی عجیب تھا مرے دل نے مجھ سے بہت کہا میں اتر کے پار نہیں گیا تو مرا شریک سفر نہیں مرے دل سے دور مگر نہیں تری مملکت نہ رہی مگر ترا اختیار نہیں گیا اسے اتنا سوچا ...