قومی زبان

تری بے وفائی کے بعد بھی مرے دل کا پیار نہیں گیا

تری بے وفائی کے بعد بھی مرے دل کا پیار نہیں گیا شب انتظار گزر گئی غم انتظار نہیں گیا میں سمندروں کا نصیب تھا مرا ڈوبنا بھی عجیب تھا مرے دل نے مجھ سے بہت کہا میں اتر کے پار نہیں گیا تو مرا شریک سفر نہیں مرے دل سے دور مگر نہیں تری مملکت نہ رہی مگر ترا اختیار نہیں گیا اسے اتنا سوچا ...

مزید پڑھیے

چاندنی تھا کہ غزل تھا کہ صبا تھا کیا تھا

چاندنی تھا کہ غزل تھا کہ صبا تھا کیا تھا میں نے اک بار ترا نام سنا تھا کیا تھا اب کے بچھڑے ہیں تو لگتا ہے کہ کچھ ٹوٹ گیا میرا دل تھا کہ ترا عہد وفا تھا کیا تھا خودکشی کر کے بھی بستر سے اٹھا ہوں زندہ میں نے کل رات کو جو زہر پیا تھا کیا تھا تم تو کہتے تھے خدا تم سے خفا ہے قیصرؔ ڈوبتے ...

مزید پڑھیے

گھر لوٹ کے روئیں گے ماں باپ اکیلے میں

گھر لوٹ کے روئیں گے ماں باپ اکیلے میں مٹی کے کھلونے بھی سستے نہ تھے میلے میں کانٹوں پہ چلے لیکن ہونے نہ دیا ظاہر تلووں کا لہو دھویا چھپ چھپ کے اکیلے میں اے داور محشر لے دیکھ آئے تری دنیا ہم خود کو بھی کھو بیٹھے وہ بھیڑ تھی میلے میں خوشبو کی تجارت نے دیوار کھڑی کر دی آنگن کی ...

مزید پڑھیے

مایوسی کی برف پڑی تھی لیکن موسم سرد نہ تھا

مایوسی کی برف پڑی تھی لیکن موسم سرد نہ تھا آج سے پہلے دل میں یارو! اتنا ٹھنڈا درد نہ تھا تنہائی کی بوجھل راتیں پہلے بھی تو برسی تھیں زخم نہیں تھے اتنے قاتل غم اتنا بے درد نہ تھا پھرتے ہیں اب رسوا ہوتے کل تک یہ رفتار نہ تھی شہر میں تھیں سو کوئے ملامت دل آوارہ گرد نہ تھا مرنے پر ...

مزید پڑھیے

تم سے دو حرف کا خط بھی نہیں لکھا جاتا

تم سے دو حرف کا خط بھی نہیں لکھا جاتا جاؤ اب یوں بھی تعلق نہیں توڑا جاتا دل کا احوال نہ پوچھو کہ بہت روز ہوئے اس خرابے کی طرف میں نہیں آتا جاتا تشنگی نے کبھی دریاؤں سے ملنے نہ دیا ہم جدھر جاتے اسی راہ میں صحرا جاتا زندگی! رہنے بھی دے سوچ کی حد ہوتی ہے اتنا سوچا ہے کہ صدیوں میں نہ ...

مزید پڑھیے

ٹوٹے ہوئے خوابوں کی چبھن کم نہیں ہوتی

ٹوٹے ہوئے خوابوں کی چبھن کم نہیں ہوتی اب رو کے بھی آنکھوں کی جلن کم نہیں ہوتی کتنے بھی گھنیرے ہوں تری زلف کے سائے اک رات میں صدیوں کی تھکن کم نہیں ہوتی ہونٹوں سے پئیں چاہے نگاہوں سے چرائیں ظالم تری خوشبوئے بدن کم نہیں ہوتی ملنا ہے تو مل جاؤ یہیں حشر میں کیا ہے اک عمر مرے وعدہ ...

مزید پڑھیے

تری گلی میں تماشا کیے زمانہ ہوا

تری گلی میں تماشا کیے زمانہ ہوا پھر اس کے بعد نہ آنا ہوا نہ جانا ہوا کچھ اتنا ٹوٹ کے چاہا تھا میرے دل نے اسے وہ شخص میری مروت میں بے وفا نہ ہوا ہوا خفا تھی مگر اتنی سنگ دل بھی نہ تھی ہمیں کو شمع جلانے کا حوصلہ نہ ہوا مرے خلوص کی صیقل گری بھی ہار گئی وہ جانے کون سا پتھر تھا آئینہ ...

مزید پڑھیے

یوں بڑی دیر سے پیمانہ لیے بیٹھا ہوں

یوں بڑی دیر سے پیمانہ لیے بیٹھا ہوں کوئی دیکھے تو یہ سمجھے کہ پئے بیٹھا ہوں آخری ناؤ نہ آئی تو کہاں جاؤں گا شام سے پار اترنے کے لیے بیٹھا ہوں مجھ کو معلوم ہے سچ زہر لگے ہے سب کو بول سکتا ہوں مگر ہونٹ سیے بیٹھا ہوں لوگ بھی اب مرے دروازے پہ کم آتے ہیں میں بھی کچھ سوچ کے زنجیر دیے ...

مزید پڑھیے

دل بے تب و تاب ہو گیا ہے

دل بے تب و تاب ہو گیا ہے آئینہ خراب ہو گیا ہے ہر شخص ہے اشتہار اپنا ہر چہرہ کتاب ہو گیا ہے ہر سانس سے آ رہی ہیں لپکیں ہر لمحہ عذاب ہو گیا ہے جس دن سے بنے ہو تم مسیحا حال اور خراب ہو گیا ہے ہونٹوں پہ کھلا ہوا تبسم زخموں کی نقاب ہو گیا ہے سوچا تھا تو عشق تھا حقیقت دیکھا ہے تو خواب ...

مزید پڑھیے

دل کی آگ کہاں لے جاتے جلتی بجھتی چھوڑ چلے

دل کی آگ کہاں لے جاتے جلتی بجھتی چھوڑ چلے بنجاروں سے ڈرنے والو لو ہم اپنی بستی چھوڑ چلے آگے آگے چیخ رہا ہے صحرا کا اک زرد سفر دریا جانے ساحل جانے ہم تو کشتی چھوڑ چلے مٹی کے انبار کے نیچے ڈوب گیا مستقبل بھی دیواروں نے دیکھا ہوگا بچے تختی چھوڑ چلے دنیا رکھے چاہے پھینکے یہ ہے پڑی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1901 سے 6203