قومی زبان

منتشر ذہن کی سوچوں کو اکٹھا کر دو

منتشر ذہن کی سوچوں کو اکٹھا کر دو تم جو آ جاؤ تو شاید مجھے تنہا کر دو در و دیوار پہ پڑھتا رہوں نوحہ کل کا اس اجالے سے تو بہتر ہے اندھیرا کر دو اے مرے غم کی چٹانو کبھی مل کر ٹوٹو اس قدر زور سے چیخو مجھے بہرا کر دو جا رہے ہو تو مرے خواب بھی لیتے جاؤ دل اجاڑا ہے تو آنکھوں کو بھی صحرا ...

مزید پڑھیے

تو اپنے پھول سے ہونٹوں کو رائیگاں مت کر

تو اپنے پھول سے ہونٹوں کو رائیگاں مت کر اگر وفا کا ارادہ نہیں تو ہاں مت کر تو میری شام کی پلکوں سے روشنی مت چھین جہاں چراغ جلائے وہاں دھواں مت کر پھر اس کے بعد تو آنکھوں کو سنگ ہونا ہے ملی ہے فرصت گریہ تو رائیگاں مت کر چھلک رہا ہے ترے دل کا درد چہرے سے چھپا چھپا کے محبت کو داستاں ...

مزید پڑھیے

گھر بسا کر بھی مسافر کے مسافر ٹھہرے

گھر بسا کر بھی مسافر کے مسافر ٹھہرے لوگ دروازوں سے نکلے کہ مہاجر ٹھہرے دل کے مدفن پہ نہیں کوئی بھی رونے والا اپنی درگاہ کے ہم خود ہی مجاور ٹھہرے اس بیاباں کی نگاہوں میں مروت نہ رہی کون جانے کہ کوئی شرط سفر پھر ٹھہرے پتیاں ٹوٹ کے پتھر کی طرح لگتی ہیں ان درختوں کے تلے کون مسافر ...

مزید پڑھیے

دن کی بے درد تھکن چہرے پہ لے کر مت جا

دن کی بے درد تھکن چہرے پہ لے کر مت جا بام و در جاگ رہے ہوں گے ابھی گھر مت جا میرے پرکھوں کی وراثت کا بھرم رہنے دے تو حویلی کو کھلا دیکھ کے اندر مت جا بوند بھر درد سنبھلتا نہیں کم ظرفوں سے رکھ کے تو اپنی ہتھیلی پہ سمندر مت جا پھوٹنے دے مری پلکوں سے ذرا اور لہو اے مری نیند ابھی چھوڑ ...

مزید پڑھیے

در و دیوار پہ ہجرت کے نشاں دیکھ آئیں

در و دیوار پہ ہجرت کے نشاں دیکھ آئیں آؤ ہم اپنے بزرگوں کے مکاں دیکھ آئیں آؤ بھیگی ہوئی آنکھوں سے پڑھیں نوحۂ دل آؤ بکھرے ہوئے رشتوں کا زیاں دیکھ آئیں ٹوٹا ٹوٹا ہوا دل لے کے پھریں گلیوں میں کچی مٹی کے کھلونوں کی دکاں دیکھ آئیں روشنی کے کہیں آثار تو باقی ہوں گے آؤ پگھلی ہوئی ...

مزید پڑھیے

بستی میں ہے وہ سناٹا جنگل مات لگے

بستی میں ہے وہ سناٹا جنگل مات لگے شام ڈھلے بھی گھر پہنچوں تو آدھی رات لگے مٹھی بند کئے بیٹھا ہوں کوئی دیکھ نہ لے چاند پکڑنے گھر سے نکلا جگنو ہات لگے تم سے بچھڑے دل کو اجڑے برسوں بیت گئے آنکھوں کا یہ حال ہے اب تک کل کی بات لگے تم نے اتنے تیر چلائے سب خاموش رہے ہم تڑپے تو دنیا بھر ...

مزید پڑھیے

صدیوں طویل رات کے زانو سے سر اٹھا

صدیوں طویل رات کے زانو سے سر اٹھا سورج افق سے جھانک رہا ہے نظر اٹھا اتنی بری نہیں ہے کھنڈر کی زمین بھی اس ڈھیر کو سمیٹ نئے بام و در اٹھا ممکن ہے کوئی ہاتھ سمندر لپیٹ دے کشتی میں سو شگاف ہوں لنگر مگر اٹھا شاخ چمن میں آگ لگا کر گیا تھا کیوں اب یہ عذاب در بدری عمر بھر اٹھا منزل پہ ...

مزید پڑھیے

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے تمہارے بس میں اگر ہو تو بھول جاؤ مجھے تمہیں بھلانے میں شاید مجھے زمانہ لگے جو ڈوبنا ہے تو اتنے سکون سے ڈوبو کہ آس پاس کی لہروں کو بھی پتا نہ لگے وہ پھول جو مرے دامن سے ہو گئے منسوب خدا کرے انہیں بازار کی ہوا نہ ...

مزید پڑھیے

مسافروں کا کبھی اعتبار مت کرنا

مسافروں کا کبھی اعتبار مت کرنا جہاں کہا تھا وہاں انتظار مت کرنا میں نیند ہوں مری حد ہے تمہاری پلکوں تک بدن جلا کے مرا انتظار مت کرنا میں بچ گیا ہوں مگر سارے خواب ڈوب گئے مری طرح بھی سمندر کو پار مت کرنا بہا لو اپنے شہیدوں کی قبر پر آنسو مگر یہ حکم ہے کتبے شمار مت کرنا ہوا عزیز ...

مزید پڑھیے

یہ زندگی ہے کہ آسیب کا سفر ہے میاں

یہ زندگی ہے کہ آسیب کا سفر ہے میاں چراغ لے کے نکلنا بڑا ہنر ہے میاں پتہ چلے جو محبت کا درد لے کے چلو مرے مکاں کی گلی کتنی مختصر ہے میاں نہائیں گی مری ضو میں ہزار ہا صدیاں میں وہ چراغ نہیں ہوں جو رات بھر ہے میاں تمہاری رات پہ اتنا ہی تبصرہ ہے بہت مکیں اندھیرے میں ہیں چاندنی میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1900 سے 6203