آپ کے محرم اسرار تھے اغیار کہ ہم
آپ کے محرم اسرار تھے اغیار کہ ہم دل غم ناک کے تم رہتے تھے غم خوار کہ ہم شکوہ آلود نصیحت نہیں اچھی ناصح آپ ہیں کشتۂ بیداد ستم گار کہ ہم حشر اگر کہوے مددگار ہمارا ہے کون بول اٹھے صاف ترا فتنۂ رفتار کہ ہم آپ کی شان کا سامان کہاں سے آیا یوسف حسن کے تھے آپ خریدار کہ ہم ہم برا غیر سے ...