قومی زبان

آپ کے محرم اسرار تھے اغیار کہ ہم

آپ کے محرم اسرار تھے اغیار کہ ہم دل غم ناک کے تم رہتے تھے غم خوار کہ ہم شکوہ آلود نصیحت نہیں اچھی ناصح آپ ہیں کشتۂ بیداد ستم گار کہ ہم حشر اگر کہوے مددگار ہمارا ہے کون بول اٹھے صاف ترا فتنۂ رفتار کہ ہم آپ کی شان کا سامان کہاں سے آیا یوسف حسن کے تھے آپ خریدار کہ ہم ہم برا غیر سے ...

مزید پڑھیے

کیا آ کے جہاں میں کر گئے ہم

کیا آ کے جہاں میں کر گئے ہم اک داغ جگر پہ دھر گئے ہم مہمان جہاں تھے ایک شب کے شام آئے تھے اور سحر گئے ہم جوں شمع تمام عمر روئے ہر بزم سے چشم تر گئے ہم اپنی ہی نظر نہیں وگرنہ تو ہی تھا ادھر جدھر گئے ہم نالے میں اثر تو کیوں نہ ہوتا پر تیرا لحاظ کر گئے ہم ہم جانتے ہیں کہ تو ہے ہم ...

مزید پڑھیے

دوستی اس کی دشمنی ہی سہی

دوستی اس کی دشمنی ہی سہی دوست تو ہو وہ مدعی ہی سہی مستی و بحث عذر کفارہ توبہ سے توبہ ہم نے کی ہی سہی ہے اگر کچھ وفا تو کیا کہنے کچھ نہیں ہے تو دل لگی ہی سہی جی ہے یہ بن لگے نہیں رہتا کچھ تو ہو شغل عاشقی ہی سہی محتسب ختم کیجئے حجت پی ہے تو خیر ہم نے پی ہی سہی حیف خمیاز ہائے حسرت و ...

مزید پڑھیے

ان سے کہا کہ صدق محبت مگر دروغ

ان سے کہا کہ صدق محبت مگر دروغ کہنے لگے یہ سچ ہے کہ ہر طرح پر دروغ دزد حنا پہ دزدیٔ جاں کا ہے اتہام خون دل و جگر سر تیغ نظر دروغ آنا صباح حشر کا شام فراق جھوٹ اڑ جانا شور نالہ سے رنگ سحر دروغ ہر لحظہ تیغ جاننا ابرو کا افتراک ہر لمحہ ذوق قتل میں سر ہاتھ پر دروغ سر سنگ در سے پھوڑنا ...

مزید پڑھیے

دیدۂ صرف انتظار ہے شمع

دیدۂ صرف انتظار ہے شمع میری حالت کی یادگار ہے شمع نہیں دل میں کسی کے سوز و گداز کہ تماشاۓ روزگار ہے شمع پئے جنبش سدا تڑپتی ہے تپش ناتواں شکار ہے شمع رخ روشن ہے نور بینائی چشم عشاق کا غبار ہے شمع روز تیرہ میں بد نما خورشید شب روشن میں تیرہ کار ہے شمع یاد گل رخ سے پھول جھڑتے ...

مزید پڑھیے

ہے خموشیٔ انتظار بلا

ہے خموشیٔ انتظار بلا است ہے ایک چپ ہزار بلا دیکھ لے اک نظر کہ ہے منظور صد تباہی و صد ہزار بلا دلبری پر ہے جاں فزا بے داد دل دہی پر ہے جاں نثار بلا ہجر میں آسماں مدارائی وصل میں ہے ستیزہ کار بلا کج کلاہی کا ہم نشیں فتنہ خم گیسو کی دوست دار بلا آ گئی سر پہ عاقبت آفت ہو گئی چشم ...

مزید پڑھیے

دل کے ہر جزو میں جدائی ہے

دل کے ہر جزو میں جدائی ہے کیا بلا وصل کی سمائی ہے نارسائی سر رسائی ہے ضعف کی طاقت آزمائی ہے جام و مینا پہ نور برسے ہے کیا گھٹا مے کدے پہ چھائی ہے یوں تو وہ عالم آشنا ہے مگر اک مجھی سے ذرا لڑائی ہے تو ملا غیر سے کہ خاک میں ہم عاقبت ہر طرح صفائی ہے تم جدا غیر سے ہوئے تھے کب واجبی ...

مزید پڑھیے

چل دیے ہم اے غم عالم وداع

چل دیے ہم اے غم عالم وداع شور ماتم تا کجا ماتم وداع جاتے ہی تیرے ہر اک کا کوچ ہے جاں وداع و دل وداع و دم وداع روز میت بھی نہیں کم عید سے پہلے رحلت سے ہوا ہر غم وداع ہے قیامت ایک دن اس کا قیام دل کو کر اے طرۂ خوش خم وداع اس کا رستہ کوئے غیر اور اپنا خلد وہ ادھر رخصت ادھر ہیں ہم ...

مزید پڑھیے

ماتم دید ہے دیدار کا خواہاں ہونا

ماتم دید ہے دیدار کا خواہاں ہونا جس قدر دیکھنا اتنا ہی پشیماں ہونا سخت دشوار ہے آسان کا آساں ہونا خون فرصت ہے یہاں سر بہ گریباں ہونا تیرا دیوانہ تو وحشت کی بھی حد سے نکلا کہ بیاباں کو بھی چاہے ہے بیاباں ہونا کوچۂ غیر میں کیوں کر نہ بناؤں گھر کو میری آبادی سے آباد ہے ویراں ...

مزید پڑھیے

رشتۂ رسم محبت مت توڑ

رشتۂ رسم محبت مت توڑ توڑ کر دل کو قیامت مت توڑ کام ناکامی بھی اک کام سہی توڑ امید کو ہمت مت توڑ رات فرقت کی پڑی ہے اے دل ایک ہی نالے میں طاقت مت توڑ اس کی رحمت کو نہ بے کار سمجھ مے و میخانے کی نیت مت توڑ دیکھ اچھی نہیں یہ خر مستی ساغر بادۂ فرصت مت توڑ اے دل امید رہائی مت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1893 سے 6203