سکوں پسند جو دیوانگی مری ہوتی
سکوں پسند جو دیوانگی مری ہوتی خبر کسی کو نہ انجام عشق کی ہوتی غلط بتاتے ہو ناصح جو میری فریادیں خطا معاف محبت کسی سے کی ہوتی
سکوں پسند جو دیوانگی مری ہوتی خبر کسی کو نہ انجام عشق کی ہوتی غلط بتاتے ہو ناصح جو میری فریادیں خطا معاف محبت کسی سے کی ہوتی
مجھے یاد آ رہا ہے کوئی آنسوؤں میں ڈھل کے کوئی آ گیا یہاں بھی مرے ساتھ ساتھ چل کے اک پل قرار آتا دو دن کی زندگی میں بے چینیاں ہی ملتیں صورت بدل بدل کے ہم مفلسوں کی جھولی خالی ہے دل بھرے ہیں سمجھا کے راہزن کو ہم آئے بچ نکل کے کچھ تو قلیلؔ تم بھی اپنا خیال رکھنا مقتل میں ڈھل گئے ...
جب وہ جھگڑے مٹا چکے ہوں گے خون کتنا بہا چکے ہوں گے چاند کا زخم دیکھنے والے شمعیں کتنی بجھا چکے ہوں گے کل کے سپنوں کو پالنے والو کل تو سپنے رلا چکے ہوں گے ان کے تم دوست ہو کہ دشمن ہو وہ جو مقتل میں جا چکے ہوں گے بس قلیلؔ ان کی یاد باقی ہے دشمنی جو نبھا چکے ہوں گے
مری یاد تم کو بھی آتی تو ہوگی گزشتہ محبت ستاتی تو ہوگی ادھوری محبت کی بسری کہانی کبھی دل کے ہاتھوں رلاتی تو ہوگی نہ جانے کہاں ہم نہ جانے کہاں تم یہ بچھڑوں کو قسمت ملاتی تو ہوگی کہیں بھول سے مل نہ جائیں خدایا مری طرح تم بھی مناتی تو ہوگی بس اتنا بتا دو کہ خوش ہو جہاں ہو نظر آئنے ...
چلو کہ زہر کے دریا کی سیر کی جائے اسے متھیں اور امرت کی کھوج کی جائے اپنے خود غرض ارادوں کی باٹ بٹ کر کے کائنات اک نئی شروع کی جائے وہ جو دانوؤں کو بھسم کرتی ہو جو دیوتاؤں کو انسان کرتی ہو وہ جس میں شیو کو زہر پینا نہ پڑے وہ کائنات جو سب کو سمان کرتی ہو وہ جس میں بھیس راہو بدل نہ ...
طویل رات خلوت نیم باز آنکھیں بولتی ہمت یاس تا حد نظر فراق ماضی کی تلخ یادیں فرد بے سلسلہ احساس کمتری زندگی ان سے اوبر پائے تو سوچ پاؤں کہ تم کو جواب کیا دوں
کچھ انتظار اور کرو صبر ناگوار اور کرو کچھ اپنے سروں کو قلم گریباں کو چاک اور کرو اپنے اندر کی گرمیٔ خوں سنبھال کر رکھو اندھیروں میں سخت پہروں میں ذرا یہ جور اور سہو فضا پلٹنے میں جور تھمنے میں وقت ہے شاید صبح ہونے میں وقت ہے یا صرف ایسا لگتا ہے درد سینے میں اٹھ اٹھ کے ناکامیوں کو ...
چلو کہ زہر کے دریا کی سیر کی جائے اسے متھیں اور امرت کی کھوج کی جائے اپنے خود غرض ارادوں کی باٹ بٹ کر کے کائنات اک نئی شروع کی جائے وہ جو دانوؤں کو بھسم کرتی ہو جو دیوتاؤں کو انسان کرتی ہو وہ جس میں شیو کو زہر پینا نہ پڑے وہ کائنات جو سب کو سمان کرتی ہو وہ جس میں بھیس راہو بدل نہ ...
گزرے ہوئے وقتوں سے نکل کر دیکھا آج کا دور علاحدہ تو نہیں ہے وہ ہی آواز کے سائے وہ ہی بے شرم سراب آج بھی موجود ہیں کل جیسے خراب چہرے ذرا بدلے ہیں نئی بات نہیں ہے مانا بیتے ہوئے کل سے ندامت ہے مجھے ایسا کچھ بھی تو نہیں جس سے عقیدت ہے مجھے ماضی ولے کچھ بھی ہو جینے کا بہانہ ہے مرے اک ...
اگر چھوٹا بھی اس سے آئنہ خانہ تو کیا ہوگا وہ الجھے ہی رہیں گے زلف میں شانہ تو کیا ہوگا بھلا اہل جنوں سے ترک ویرانہ تو کیا ہوگا خبر آئے گی ان کی ان کا اب آنا تو کیا ہوگا سنے جاؤ جہاں تک سن سکو جب نیند آئے گی وہیں ہم چھوڑ دیں گے ختم افسانہ تو کیا ہوگا اندھیری رات زنداں پاؤں میں ...