قومی زبان

آتش سوز محبت کو بجھا سکتا ہوں میں

آتش سوز محبت کو بجھا سکتا ہوں میں دیدۂ پر نم سے اک دریا بہا سکتا ہوں میں حسن بے پروا ترا بس اک اشارہ چاہئے میری ہستی کیا ہے ہستی کو مٹا سکتا ہوں میں یہ تو فرما دیجئے تکمیل الفت کی قسم آپ کو کیا واقعی اپنا بنا سکتا ہوں میں عشق میں روز ازل سے دل ہے پابند وفا بھولنے والے تجھے ...

مزید پڑھیے

کہہ رہی ہے ساری دنیا تیرا دیوانہ مجھے

کہہ رہی ہے ساری دنیا تیرا دیوانہ مجھے تیری نظروں نے بنا ڈالا ہے افسانہ مجھے عشق میں اب مل گئی ہے مجھ کو معراج جنوں اب تو وہ بھی کہہ رہے ہیں اپنا دیوانہ مجھے درس عبرت ہے تمہارے واسطے میرا مآل غنچہ و گل کو سنانا ہے یہ افسانہ مجھے اک نگاہ ناز نے ساقی کی یہ کیا کر دیا رفتہ رفتہ کہہ ...

مزید پڑھیے

شام کو لوٹتی چڑیا

شام کو چہچہاتی لوٹتی چڑیا کو یہ نہیں معلوم کہ اس کے بسیرے والا پیڑ کاٹ دیا گیا ہے گھونسلے میں رکھے اس کے انڈے روند دئے گئے ہیں پیڑ والی جگہ پر مال بنانے کی پرکریہ جاری ہے لوٹتے لوٹتے چڑیا کو اندھیرا ہو جائے گا اور جب وہ گھر ڈھونڈتے ڈھونڈتے بھٹکے گی تو اندیشہ یہ ہے کہ کھلے پڑے بجلی ...

مزید پڑھیے

خواب آسمانوں سے

خواب آسمانوں سے رینگتی چینٹی سی زندگی دنیا سمیٹے دل اور چاک دامن کے چند چیتھڑے امید برقرار پھر بھی اور موسم سے ڈھل رہے ارادے دو گھڑی اور سلسلہ شاید دم نکلنے میں رہ گیا ہوگا ایسے لوگوں کی زندگی کیا ہے مرنے کے بعد ان کا کیا ہوگا مرنے کے بعد سب کا کیا ہوگا اور پھر یہ گماں گزرتا ...

مزید پڑھیے

روشنی سے بھرا شہر

روشنی سے بھرا اک شہر دیکھیے دل میں سارے اندھیرے چھپائے ہوئے کونے میں کترے میں کچرے کے ڈھیرے سڑی تنگ گلیوں میں بدبو کے ڈیرے دھسکتی دیواروں کے پر خوف گھیرے تھکی زرد آنکھوں کے بیمار چہرے جن کو صدیاں ہوئیں مسکرائے ہوئے روشنی سے بھرا اک شہر جہاں نونہالوں میں بچپن نہیں ہے جوانی ...

مزید پڑھیے

وہ جو سب کا بہت چہیتا تھا

وہ جو سب کا بہت چہیتا تھا قبر کی ساعتوں میں تنہا تھا جس نے دنیا کو خوب دیکھا تھا اس کی آنکھوں میں قہقہہ سا تھا رنج کیا خواب کے بکھرنے کا کچھ نہ تھا ریت کا گھروندا تھا اس کے آنگن میں روشنی تھی مگر گھر کے اندر بڑا اندھیرا تھا وہ بھی پتھرا کے رہ گیا آخر اس کی آنکھوں میں جو سویرا ...

مزید پڑھیے

تھوڑی سی شہرت بھی ملی ہے تھوڑی سی بدنامی بھی

تھوڑی سی شہرت بھی ملی ہے تھوڑی سی بدنامی بھی میری سیرت میں اے قیصرؔ خوبی بھی ہے خامی بھی کتنے عاشق سنبھل گئے ہیں میرا فسانہ سن سن کر میرے حق میں جیسی بھی ہو کام کی ہے ناکامی بھی محفل محفل ذکر ہمارا سوچ سمجھ کے کر واعظ اپنے مخالف بھی ہیں کتنے اور ہیں کتنے حامی بھی ایسا تو ممکن ...

مزید پڑھیے

ایک پودا جو اگا ہے اسے پانی دینا

ایک پودا جو اگا ہے اسے پانی دینا اپنے آنگن کو نئی رت کی کہانی دینا تری آواز سے جب ٹوٹے مرے گھر کا سکوت در و دیوار کو بھی سحر بیانی دینا پونچھ لینا مری پلکوں سے لہو کی بوندیں مری آنکھوں کو اگر منظر ثانی دینا کشتیاں دینا مگر اذن سفر سے پہلے ٹھہرے پانی کو بھی دریا کی روانی ...

مزید پڑھیے

کہاں ہے کوئی خدا کا خدا کے بندوں میں

کہاں ہے کوئی خدا کا خدا کے بندوں میں گھرا ہوا ہوں ابھی تک انا کے بندوں میں نہ کوئی سمت مقرر نہ کوئی جائے قرار ہے انتشار کا عالم ہوا کے بندوں میں وہ کون ہے جو نہیں اپنی مصلحت کا غلام کہاں ہے بوئے وفا اب وفا کے بندوں میں خدا کرے کہ سماعت سے میں رہوں محروم کبھی جو ذکر ہو میرا ریا کے ...

مزید پڑھیے

موسم تو بدلتے ہیں لیکن کیا گرم ہوا کیا سرد ہوا

موسم تو بدلتے ہیں لیکن کیا گرم ہوا کیا سرد ہوا اے دوست ہمارے آنگن میں رہتی ہے ہمیشہ زرد ہوا سب اپنے شناسا چھوڑ گئے رستے میں ہمیں غیروں کی طرح چہرے پہ ہمارے ڈال گئی لا کر یہ کہاں کی گرد ہوا چھوٹے نہ کبھی پھولوں کا نگر کوشش تو یہی ہے اپنی مگر اک روز اڑا لے جائے گی پتوں کی طرح بے درد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1880 سے 6203