قومی زبان

محبت باعث دیوانگی ہے اور بس میں ہوں

محبت باعث دیوانگی ہے اور بس میں ہوں کہ اب پیہم عنایت آپ کی ہے اور بس میں ہوں سکوں حاصل ہے دن میں اور نہ شب کو چین ملتا ہے کہ اب تو کشمکش میں زندگی ہے اور بس میں ہوں نہ جانے ماجرا کیا ہے نظر کچھ بھی نہیں آتا کہ اب حد نظر تک تیرگی ہے اور بس میں ہوں نہیں ہے آج مجھ کو خدشۂ ظلمت زمانے ...

مزید پڑھیے

نظر نواز نظاروں سے بات کرتا ہوں

نظر نواز نظاروں سے بات کرتا ہوں سکوں نصیب سہاروں سے بات کرتا ہوں الجھ رہا ہے جو خاروں میں پھر سے یہ دامن خزاں بدوش بہاروں سے بات کرتا ہوں تمہارے عشق میں تم سے جدا جدا رہ کر غم فراق کے ماروں سے بات کرتا ہوں ترے بغیر یہ عالم ارے معاذ اللہ فلک کے چاند ستاروں سے بات کرتا ہوں وفور ...

مزید پڑھیے

نظام گلشن ہستی بدل کے دم لیں گے

نظام گلشن ہستی بدل کے دم لیں گے حدود رنج و الم سے نکل کے دم لیں گے شعور حاصل مقصد جسے سمجھتا ہے یہ عزم ہے اسی منزل پہ چل کے دم لیں گے متاع امن لٹائیں گے ہم زمانے میں نظام جبر و تشدد کچل کے دم لیں گے ندیم بحر مصیبت میں صورت طوفاں مچل مچل کے اٹھیں گے سنبھل کے دم لیں گے نہیں پسند ...

مزید پڑھیے

اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں

اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں اشک بہہ جاتے ہیں لیکن آنکھ تر ہوتی نہیں پھر کوئی کم بخت کشتی نذر طوفاں ہو گئی ورنہ ساحل پر اداسی اس قدر ہوتی نہیں تیرا انداز تغافل ہے جنوں میں آج کل چاک کر لیتا ہوں دامن اور خبر ہوتی نہیں ہائے کس عالم میں چھوڑا ہے تمہارے غم نے ساتھ جب قضا ...

مزید پڑھیے

شکستہ خواب کے ملبے میں ڈھونڈھتا کیا ہے

شکستہ خواب کے ملبے میں ڈھونڈھتا کیا ہے کھنڈر کھنڈر ہے یہاں دھول کے سوا کیا ہے نظر کی دھند میں ہیں بھولی بسری تصویریں پلٹ کے دیکھنے والے یہ دیکھنا کیا ہے ابھی تو کاٹ رہی ہے ہر ایک سانس کی دھار ازل جب آئے تو دیکھوں کہ انتہا کیا ہے رہے گی دھوپ مرے سر پہ آخری دن تک جواں ہے پیڑ مگر ...

مزید پڑھیے

سلگ رہی ہے زمیں یا سپہر آنکھوں میں

سلگ رہی ہے زمیں یا سپہر آنکھوں میں دھواں دھواں سا ہے کیوں تیرا شہر آنکھوں میں کھلے دریچے کے باہر ہے کون سا موسم کہ آگ بھرنے لگی سرد لہر آنکھوں میں کہاں ہے نیند کہ ہم خواب دیکھیں امرت کا جو شام گزری ہے اس کا ہے زہر آنکھوں میں خفا ہوئے بھی کسی سے تو کیا کیا ہم نے بہت ہوا تو رہا دل ...

مزید پڑھیے

ابلتے پانیوں میں ہوں کہاں ابال کی طرح

ابلتے پانیوں میں ہوں کہاں ابال کی طرح میں آج بھی ہوں تہہ نشیں گزشتہ سال کی طرح دلوں میں سب کے چبھ رہی ہے اک سوال کی طرح تری نگاہ یاس بھی ہے میرے حال کی طرح کروں گا تجھ سے گفتگو ذرا ٹھہر نمٹ تو لوں کھڑا ہے کوئی بیچ میں ابھی سوال کی طرح نہ پوچھ مجھ سے حال دل کہ ان دنوں ہے زندگی کسی ...

مزید پڑھیے

ہونے لگے ہیں رستے رستے، آپس کے ٹکراؤ بہت

ہونے لگے ہیں رستے رستے، آپس کے ٹکراؤ بہت ایک ساتھ کے چلنے والوں میں بھی ہے الگاؤ بہت بہکے بہکے سے بادل ہیں کیا جانے یہ جائیں کدھر بدلی ہوئی ہواؤں کا ہے ان پر آج دباؤ بہت سوچ کا ہے یہ پھیر کہ یارو پیچ و خم کی دنیا میں ڈھونڈ رہے ہو ایسا رستہ جس میں نہیں گھماؤ بہت اپنے آپ میں الجھی ...

مزید پڑھیے

عالم امکاں میں دنیا کی ہوا تھی میں نہ تھا

عالم امکاں میں دنیا کی ہوا تھی میں نہ تھا جلوہ آرا صرف ذات کبریا تھی میں نہ تھا کر دیا بیدار جس نے ساکنان عرش کو وہ کسی درد آشنا دل کی صدا تھی میں نہ تھا منتشر جس نے کیا تھا ان کی زلف ناز کو سچ اگر پوچھو تو وہ باد صبا تھی میں نہ تھا کھل گیا جو راز الفت آج اہل بزم پر یہ تمہاری مست ...

مزید پڑھیے

منحرف مجھ سے اک زمانہ ہے

منحرف مجھ سے اک زمانہ ہے بدنصیبی کا کیا ٹھکانہ ہے بہکی جاتی ہے چشم زاہد بھی ہر ادا تیری والہانہ ہے کیوں جبیں اب ہے مائل سجدہ کیا یہیں ان کا آستانہ ہے ظرف میکش کو تاڑ لیتی ہے چشم ساقی کا کیا ٹھکانا ہے والیان چمن نہیں واقف برق آسا ہر آشیانہ ہے اب تو رسوائیاں یقینی ہیں ان کے لب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1879 سے 6203