قومی زبان

خبر لیایا ہے ہدہد میرے تئیں اس یار جانی کا

خبر لیایا ہے ہدہد میرے تئیں اس یار جانی کا خوشی کا وقت ہے ظاہر کروں راز نہانی کا مرے جیو آرسی میں خیال تج مکھ کا سو دستا ہے کرے او خیال منج دل میں نشانی زر فشانی کا چتا ہو عشق کے جنگل میں بیٹھا ہے دری لے کر لیا ہے جھانپ سوں آہو نمن دل منج ایانی کا خدا کا شکر ہے تج سلطنت تھے کام ...

مزید پڑھیے

کھلی کھڑکی سے دن بھر جھانکتا ہوں

کھلی کھڑکی سے دن بھر جھانکتا ہوں میں ہر چہرے میں تجھ کو ڈھونڈھتا ہوں تجھے میں کس طرح پہچان پاؤں کہ اپنے آپ سے نا آشنا ہوں جہاں انسان پتھر ہو چکے ہیں میں اس بستی میں کیسے جی رہا ہوں جہاں سے کل مجھے کاٹا گیا تھا وہیں سے آج میں پھر اگ رہا ہوں میں اس سنگین سناٹے میں قائمؔ کسی طوفاں ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

دل کا دریا چڑھ جائے تو آنکھوں پر بند باندھنا مشکل ہو جاتا ہے اک لمحہ اک صدی بنے تو کہنے والی بات ادھوری رہ جاتی ہے یہ موسم یہ وصال کا موسم پتی پتی ہو جاتا ہے ہونے اور نہ ہونے کا احساس بھی مٹنے لگتا ہے دل کا دریا چڑھ جائے تو آنکھوں پر بند باندھنا مشکل ہو جاتا ہے

مزید پڑھیے

دروازہ کھلا رکھنا

کس قدر خموشی ہے کس قدر ہے سناٹا رات بھر کی بارش بھی اب تھکی تھکی سی ہے آسماں پہ رنگوں کی ایک رہ گزر سی ہے اب کسی کے آنے میں کچھ ہی دیر باقی ہے

مزید پڑھیے

میں اپنے سائے سے سورج کھا سکتا ہوں

میں اپنے سائے سے سورج کھا سکتا ہوں لیکن کیا میں اور اک سورج لا سکتا ہوں بس اک وقت کی ڈوری ہاتھ مرے آ جائے برسوں آگے صدیوں پیچھے جا سکتا ہوں چاند تو اک قرطاس ہے میرے فن کی خاطر جو بھی چاہوں اس پر نقش بنا سکتا ہوں جھوٹ کبھی ہوتے ہوں گے ایسے دعوے پر آج میں سچ مچ تارے توڑ کے لا سکتا ...

مزید پڑھیے

ہم دور جاہلیت کے شاعر

ہر نظم دنیا کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے ہر پیدا ہونے والی بچی کی طرح مگر ہم اپنی زندگی دور جاہلیت میں جی رہے ہیں جو سمجھ نہیں آتیں ان نظموں کو زندہ درگور کر دیتے ہیں اور ہمیں وہ پیغمبر بھی نہیں ملتا کہ جس کے سامنے اپنے گناہ کا اعتراف کریں اور اس کی داڑھی بھگو دیں کل ایک نظم ...

مزید پڑھیے

تم نے خودکشی کیوں کی

میں خودکشی نہ کرتا تو مر جاتا میں نے بچوں کی آنکھوں میں خواہشیں بلکتی دیکھیں تو آنگن میں سیبوں کے بونسائی درخت لگا دئے جب بچے بڑے ہوئے اور انہوں نے سیب توڑنا چاہے سیبوں کے درخت کھجوروں کے درخت بن گئے بچوں کے ہاتھ دعاؤں کی طرح اٹھے رہے گئے میں نے کھجور کے تنے کو بانہوں میں لے ...

مزید پڑھیے

ازل تھے ہے مجے خوباں سوں اخلاص

ازل تھے ہے مجے خوباں سوں اخلاص ابد لگ مج ہے محبوباں سوں اخلاص اگر توں عاشق صادق ہے طالب نہ کر توں باج مطلوباں سوں اخلاص سکی کا حسن کیتا جذب مولود اسی تے مج ہے مجذوباں سوں اخلاص پیاری کے چھنداں ہے سب کوں مرغوب مجے لازم ہے مرغوباں سوں اخلاص جو ہے مکتوب مانند خال و خط سوں دھروں ...

مزید پڑھیے

نظر تج پہ ہے کیا تماشا کا حاجت

نظر تج پہ ہے کیا تماشا کا حاجت نہیں سبز خط آگے چمپا کا حاجت طبیباں کریں منج کوں بالی سوں دارو کہ بالی ہیں موہن ہے بالا کا حاجت ہمیں نیشکر نمنے ہلجے ہیں بند میں نہیں ہور ہمنا کوں جالا کا حاجت خماری نین تھے کھلے پھول جیو میں نہیں مو کو دونا و بالا کا حاجت مرا دل ہے زر بفت کا ...

مزید پڑھیے

حرم کی راہ میں ساقی کا گھر بھی آتا ہے

حرم کی راہ میں ساقی کا گھر بھی آتا ہے سفر میں لمحۂ ترک سفر بھی آتا ہے تجھے کہ پردہ نشیں یہ ہنر بھی آتا ہے نظر بھی آتا نہیں اور نظر بھی آتا ہے دبی دبی سی زباں میں یہ پوچھنا قاصد کبھی خیال میں آشفتہ سر بھی آتا ہے تمہاری بات ہے کچھ اور یوں تو آنے کو غریب خانے پہ اکثر قمر بھی آتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1847 سے 6203