قومی زبان

یوں بھی ہوتی ہے سخاوت اس کا اندازہ نہ تھا

یوں بھی ہوتی ہے سخاوت اس کا اندازہ نہ تھا بھیک اس گھر سے ملی جس گھر کا دروازہ نہ تھا شکریہ تیرا نگاہ ناز تیرا شکریہ منتشر اس طرح اپنے دل کا شیرازہ نہ تھا اب نہ مستقبل عیاں ہے اور نہ ماضی کے نقوش وقت کا چہرہ بہت شفاف تھا غازہ نہ تھا تھی مجھے دنیا سے نفرت تھا مجھے لوگوں سے بیر آپ ...

مزید پڑھیے

کیا اس کا گلا یورش تہمات بہت ہے

کیا اس کا گلا یورش تہمات بہت ہے زندہ ہیں جو ہم لوگ یہی بات بہت ہے جو تم نے بجھا ڈالے دئے ان کو جلا لو اے صبح کے متوالو ابھی رات بہت ہے اس واسطے گلچیں کو ہوئی مجھ سے عداوت تزئین گلستاں میں مرا ہاتھ بہت ہے ان فرقہ پرستوں کے دلوں میں ہے کدورت اور ورد زباں لفظ مساوات بہت ہے ان امن ...

مزید پڑھیے

میں کیوں زباں سے وفا کا یقیں دلاؤں تمہیں

میں کیوں زباں سے وفا کا یقیں دلاؤں تمہیں تم آزماؤ مجھے اور میں آزماؤں تمہیں میں بھولنے کو تو اک پل میں بھول جاؤں گا یہ سوچتا ہوں کہیں میں نہ یاد آؤں تمہیں مری غزل ہے مری کیفیت کا آئینہ اب اور حال دل زار کیا سناؤں تمہیں مری طرف سے سدا بد گماں رہے ہو تم قریب آؤ تو میں کیا ہوں یہ ...

مزید پڑھیے

اٹھا بھی دل سے اگر میری چشم تر میں رہا

اٹھا بھی دل سے اگر میری چشم تر میں رہا خدا کا شکر ہے طوفان گھر کا گھر میں رہا نہ جانے کون سی اس میں کشش تھی پوشیدہ تمام عمر وہ چہرا مری نظر میں رہا ستم شعار سے ہم جیتے جی یہ کیوں کہہ دیں کہ حوصلہ نہ ہمارے دل و جگر میں رہا نہ روک پاؤں گا ہرگز میں تیری رسوائی تو اشک بن کے اگر میری ...

مزید پڑھیے

دل سنبھلتا نہیں سنبھالے سے

دل سنبھلتا نہیں سنبھالے سے یوں دھڑکتا ہے اک حوالے سے دودھیا ہو گئی فضا ساری چاندنی رات کے اجالے سے ساقیا لا مجھے صراحی دے پیاس بجھتی نہیں پیالے سے گوریاں کر رہی ہیں پوجا پاٹ گھنٹیاں بج اٹھیں شوالے سے بو ہے بارود کی فضاؤں میں کھیتیاں بھی جلیں جوالے سے وہ جو دو وقت کا رہے ...

مزید پڑھیے

ہم کہاں ساز پہ گانے کو غزل کہتے ہیں

ہم کہاں ساز پہ گانے کو غزل کہتے ہیں اپنے دکھ درد بھلانے کو غزل کہتے ہیں ورنہ بے جان سے لفظوں کی حقیقت کیا ہے تجھ سے ملنے کے بہانے کو غزل کہتے ہیں ڈھال کر تجھ کو تخیل کے حسیں پیکر میں روٹھ جائے تو منانے کو غزل کہتے ہیں آپ کے دل میں اتر جائے تعجب کیا ہے ہم تو رگ رگ میں سمانے کو غزل ...

مزید پڑھیے

کیا کوئی دے سکے پتہ میرا

کیا کوئی دے سکے پتہ میرا بھید مجھ پر بھی کب کھلا میرا آنکھ کی لو میں ہے ضمیر کی لو مجھ میں زندہ ہے رہنما میرا خاک ہو کر روش روش لکھوں جانے کس سمت ہو خدا میرا گا رہا ہوں میں وقت کی لے پر لمحہ لمحہ ہے آشنا میرا ریزہ ریزہ ہوئے ہیں خواب مرے پھر بھی قائم ہے حوصلہ میرا

مزید پڑھیے

بچوں کے لیے خصوصی نظم

خواب خرگوش توڑ دینا ہے تم کو پڑھنا ہے خوب پڑھنا ہے میں تمہیں تتلیوں سے بہلاؤں یا پتنگیں اڑا کے پھسلاؤں اور کیرم کی گوٹیوں کے ساتھ وقت برباد کرنا سکھلاؤں ایک ہی کام کر گزرنا ہے تم کو پڑھنا ہے خوب پڑھنا ہے نانی دادی سے لوریاں بھی سن کون کہتا ہے تجھ سے موتی چن اتنا نادان ہو گیا ہے ...

مزید پڑھیے

دلبراں کا اپس کوں داس نہ کر

دلبراں کا اپس کوں داس نہ کر داس ہوتا تو دل اداس نہ کر گر الک پر ہے لک تو چک سوں جھٹک چک کی امید الک کی آس نہ کر لٹ کوں لٹ پٹ ہو رخ پہ ریج نکو سوت کانتی کو پھر کپاس نہ کر بوالہوس بلبلاں نمن ہر بن دیکھ اپس دکھ کی التماس نہ کر یعنی یک ٹھار یک یقیں سو اچھ باج یک دوسرا قیاس نہ کر گر جو ...

مزید پڑھیے

یار اب ہے سو کچھ عجب ہے رے

یار اب ہے سو کچھ عجب ہے رے اب جو سب ہے سو کچھ عجب ہے رے یعنی ناسوت یک عجب ہے مقام یو عجب ہے سو کچھ عجب ہے رے ایک کچھ بولتا ہے یک خاموش پن طلب ہے سو کچھ عجب ہے رے اب تو ہے دلبراں کی من بے دل جاں بہ لب ہے سو کچھ عجب ہے رے رنگ اچھو زلف اچھو او زیبا خال او جو چھب ہے سو کچھ عجب ہے رے گوند ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1848 سے 6203