یوں بھی ہوتی ہے سخاوت اس کا اندازہ نہ تھا
یوں بھی ہوتی ہے سخاوت اس کا اندازہ نہ تھا بھیک اس گھر سے ملی جس گھر کا دروازہ نہ تھا شکریہ تیرا نگاہ ناز تیرا شکریہ منتشر اس طرح اپنے دل کا شیرازہ نہ تھا اب نہ مستقبل عیاں ہے اور نہ ماضی کے نقوش وقت کا چہرہ بہت شفاف تھا غازہ نہ تھا تھی مجھے دنیا سے نفرت تھا مجھے لوگوں سے بیر آپ ...