قومی زبان

اشک بہایا میں نے

گوشۂ دل میں تیرا درد چھپایا میں نے چشم تر کو بھی نہ یہ راز بتایا میں نے کون وہ شب ہے جو بے اشک بہائے گزری کون وہ غم ہے جو دل پر نہ اٹھایا میں نے کی زمانے سے کبھی کوئی شکایت نہ گلہ اپنے رستے ہوئے زخموں کو چھپایا میں نے اب تو دم ضبط کی شدت سے گھٹا جاتا ہے اس قدر درد کو سینے میں دبایا ...

مزید پڑھیے

داغ

فسانۂ غم دل اب نہیں سنے جاتے شب فراق میں تارے نہیں گنے جاتے دل و جگر میں ہے اک درد کہکشاں کی طرح غلط جگہ کبھی افشاں نہیں چنے جاتے لگی ہے چوٹ مسلسل کچھ اس طرح دل میں کہ ہم سے داغ جگر بھی نہیں گنے جاتے اثر ہو جس کا وہی شعر شعر ہے ناشادؔ ہر ایک شعر پہ سر بھی نہیں دھنے جاتے

مزید پڑھیے

روداد خزاں

کیوں ٹیس سی دل میں اٹھتی ہے کیوں درد سے جی گھبراتا ہے پہلے تو نہ تھا ایسا عالم اب دل کیوں ڈوبا جاتا ہے چاہت سے کسی کی سیکھا تھا غم سہنا اور آنسو پینا لیکن اب تو ہر اشک الم آنکھوں سے ٹپک ہی جاتا ہے آداب محبت کی خاطر راحت غم کو سمجھے ہیں تو پھر کیوں دل سے آہ نکلتی ہے کیوں چکر سا آ ...

مزید پڑھیے

ذوق شاعرانہ

میں تلاش کر رہی تھی غم دل کا کچھ بہانہ مری راہ میں یہ ناحق کہاں آ گیا زمانہ مرے حال پر کرم کر کبھی دوست غائبانہ وہ سکون بخش دل کو کہ تڑپ اٹھے زمانہ ہے طواف اب بھی جاری ترے آستاں کا لیکن نہیں مل سکا جبیں کو ترا سنگ آستانہ تری بارگاہ تک ہو مری کس طرح رسائی مجھے دی گئی گدائی تجھے تخت ...

مزید پڑھیے

کوئی اتنا بے سہارا کیسے ہو سکتا ہے یار

کوئی اتنا بے سہارا کیسے ہو سکتا ہے یار ایک منظر پر گزارا کیسے ہو سکتا ہے یار خاک پانی اور صبا کا بھی تو کچھ حصہ رہے پھول آخر بس تمہارا کیسے ہو سکتا ہے یار عشق میں ہو وصل یا کے ہجر دونوں ہیں بجا دل کا سودا ہے خسارہ کیسے ہو سکتا ہے یار موت سے پہلے کروں توبہ میں یاد یار سے مجھ سے ...

مزید پڑھیے

اب کہاں وہ وقت کے بے لوث یاری چاہیئے

اب کہاں وہ وقت کے بے لوث یاری چاہیئے عمر کے اس دور میں اب ذمہ داری چاہیئے وصل‌ و فرقت کے طلسمی دائروں سے ٹوٹ کر اب رفاقت میں ہمیں کچھ پائیداری چاہیئے یوں نہیں کے صبر کی تلقین کر کے چل دئے چارہ گر ہیں تو مسلسل غم گساری چاہیئے کس قدر ہیں لوگ میرے حال پر ماتم کناں شکل پر اپنی بھی ...

مزید پڑھیے

یوں جونؔ پڑھ کر لہو اگلنے کی مجھ سے شرطیں نہ باندھ لینا

یوں جونؔ پڑھ کر لہو اگلنے کی مجھ سے شرطیں نہ باندھ لینا غرض کے بے جا گمان پر تم یقیں کی گرہیں نہ باندھ لینا طویل رستہ سفر ہے مشکل اثاثہ کم ہی رکھو تو بہتر سو ایسا کرنا کہ اپنے دامن میں میری نظمیں نہ باندھ لینا ابل رہا ہے جو ایک چشمہ وہ بحر اعظم بنے گا اک دن کسی کنارے کہ چاہ میں تم ...

مزید پڑھیے

مانا کہ تری بزم میں چاند آئے ہوئے ہیں

مانا کہ تری بزم میں چاند آئے ہوئے ہیں لیکن وہ ترے سامنے گہنائے ہوئے ہیں جو ہم سے نہ ملنے کی قسم کھائے ہوئے ہیں شاید وہی اغیار کے بہکائے ہوئے ہیں مہتاب کے حالات بھی دیکھیں تو کبھی وہ اس حسن دو روزہ پہ جو اترائے ہوئے ہیں کہہ دو انہیں آ کر مری جنت میں وہ بس جائیں جنت سے نکالے ہوئے ...

مزید پڑھیے

تیرا کیا جاتا جو ملتا جام ریحانی مجھے

تیرا کیا جاتا جو ملتا جام ریحانی مجھے مے کے بدلے ساقیا تو نے دیا پانی مجھے مے گساری میں وہ اب پہلی سی کیفیت نہیں دے دیا ساقی نے کیا بے کیف سا پانی مجھے اب کسی مشروب سے دل چین پا سکتا نہیں کاش وہ آ کے پلا دے تیغ کا پانی مجھے دے دیا ساقی نے بھر کر مجھ کو بھی جام شراب میں تو کہتا ہی ...

مزید پڑھیے

یہی اک بات ساقی کو بتانے کی ضرورت ہے

یہی اک بات ساقی کو بتانے کی ضرورت ہے ہمارے قرب میں اک بادہ خانے کی ضرورت ہے کہاں جائیں ترے مستانے اے ساقی کہاں جائیں ترے ہی سائے میں مستوں کو آنے کی ضرورت ہے خدا کے سامنے سر کو اٹھانے سے ہے کیا حاصل خدا کے سامنے سر کو جھکانے کی ضرورت ہے گھٹائیں گھر کے آئی ہیں سر مے خانہ اے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1810 سے 6203