اشک بہایا میں نے
گوشۂ دل میں تیرا درد چھپایا میں نے چشم تر کو بھی نہ یہ راز بتایا میں نے کون وہ شب ہے جو بے اشک بہائے گزری کون وہ غم ہے جو دل پر نہ اٹھایا میں نے کی زمانے سے کبھی کوئی شکایت نہ گلہ اپنے رستے ہوئے زخموں کو چھپایا میں نے اب تو دم ضبط کی شدت سے گھٹا جاتا ہے اس قدر درد کو سینے میں دبایا ...