قومی زبان

بحر غم کا کنارا

سب نے مجھ سے کیا ہے کنارا صرف تیرا ہے یا رب سہارا اشک غم یوں ہی بہتے رہیں گے یا رکے گا کبھی غم کا دھارا میری کشتی ہے طوفاں کی زد میں مل گیا بحر غم کا کنارا ضبط کی بھی کوئی انتہا ہے میں کہاں تک کروں غم گوارہ سوئے منزل بڑھی ہوں میں یا رب تیری رحمت کا لے کر سہارا کس طرح حال دل کا ...

مزید پڑھیے

پاس وفا

دل ہے رنجور یہاں ہے یہ دستور یہاں رہرو آتے ہیں یہاں لوٹے جاتے ہیں یہاں نہ کوئی پاس وفا اور نہ احساس وفا کرتے ہیں جور و جفا ظلم ہے ان کو روا کچھ بھروسہ ہی نہیں کوئی اپنا ہی نہیں اجنبی بن کے رہیں ہر جفا دل پہ سہیں روز بیداد نئی روز افتاد نئی کیا کریں حال بیاں بیکسی کا ہے سماں حال دل ...

مزید پڑھیے

اس در کی سی راحت بھی دو عالم میں کہیں ہے

اس در کی سی راحت بھی دو عالم میں کہیں ہے جینا بھی یہیں ہے مجھے مرنا بھی یہیں ہے اب واقف مفہوم وفا قلب حزیں ہے اب آپ کی بیداد بھی بیداد نہیں ہے تم اور مری خانہ خرابی پہ تبسم امید سے بڑھ کر ابھی قدر دل و دیں ہے یا تیرے سوا حسن ہی دنیا میں نہیں تھا یا دیکھ رہا ہوں کہ جو منظر ہے حسیں ...

مزید پڑھیے

سوچئے ہم سے تغافل بھی بجا ہے کہ نہیں

سوچئے ہم سے تغافل بھی بجا ہے کہ نہیں کہ یہی مقصد ارباب فنا ہے کہ نہیں زیست میں لمحۂ اندوہ جفا ہے کہ نہیں اے محبت کوئی تیری بھی خطا ہے کہ نہیں پست کر دیتے ہیں موجوں کو ابھرنے والے ڈوبنا خود نہ ابھرنے کی سزا ہے کہ نہیں چھاؤں میں پھولوں کی آنکھیں تو مچی جاتی ہیں کون دیکھے یہ چمن ...

مزید پڑھیے

احساس بندگی سے بیگانہ کر دیا ہے

احساس بندگی سے بیگانہ کر دیا ہے افراط بندگی نے دیوانہ کر دیا ہے جو راز اتفاقاً منہ سے نکل گیا تھا وہ راز احتیاطاً افسانہ کر دیا ہے میں نے قدم قدم پر کعبہ بنا بنا کر کعبے میں اہتماماً بت خانہ کر دیا ہے لازم ہے احتیاط اب ہر لفظ گفتگو میں دنیا نے رازؔ کس کو رسوا نہ کر دیا ہے

مزید پڑھیے

دل مایوس

دل مایوس بتا اے دل ناکام بتا مبتلائے ستم گردش ایام بتا جی کے میں کیا کروں دنیا میں مرا کام ہے کیا خون امید کا ہوتا ہے سر بزم طرب بن گیا حوصلہ غم ہی مصیبت کا سبب جی کے میں کیا کروں دنیا میں مرا کام ہے کیا درد بڑھ جائے اگر چارہ گری کون کرے ہے کٹھن راہ وفا راہبری کون کرے جی کے میں کیا ...

مزید پڑھیے

بیکس انساں

فٹ پاتھ پہ اک بیکس انساں تکلیف میں تڑپا کرتا ہے دنیا میں کوئی غم خوار نہیں مجبور ہے آہیں بھرتا ہے برسات ہو یا جاڑا گرمی ہر موسم ایک گزرتا ہے احساس نہ کپڑوں کا تن پر بس بھوک کے مارے مرتا ہے انبار پہ کوڑے کے جا کر وہ پیٹ کا دوزخ بھرتا ہے پھر بھی تجھ پہ جاں دیتا ہے پھر بھی تیرا دم ...

مزید پڑھیے

میری تصویر

مری تصویر لے کر کیا کرو گے مری تصویر اک خواب پریشاں چھپے ہیں اس میں لاکھوں غم کے طوفاں مری تصویر لے کر کیا کرو گے مری تصویر ہے مایوس و مضطر میری تصویر رنج و غم کا پیکر یہ اک دن بار ہو جائے گی تم پر مری تصویر لے کر کیا کرو گے مری تصویر میں کب زندگی ہے سراپا غم سراپا بیکسی ہے جبیں روشن ...

مزید پڑھیے

بیتے ہوئے دن

برسات کی بہارو مجھ کو نہ اب ستاؤ جو خود ہی مٹ رہا ہے اس کو نہ تم مٹاؤ اے موسم نگاراں اے ابر نو بہاراں ایسے میں یاد ان کی مجھ کو نہ تم دلاؤ بچھڑے ہوئے کسی سے مدت گزر چکی ہے ماضی کے حادثوں کے قصے نہ تم سناؤ بیتے ہوئے دنوں کی یادیں بھلا چکی ہوں بیتے ہوئے دنوں کو پھر سامنے نہ لاؤ دل میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1809 سے 6203