کئی کوٹھے چڑھے گا وہ کئی زینوں سے اترے گا
کئی کوٹھے چڑھے گا وہ کئی زینوں سے اترے گا بدن کی آگ لے کر شب گئے پھر گھر کو لوٹے گا گزرتی شب کے ہونٹوں پر کوئی بے ساختہ بوسہ پھر اس کے بعد تو سورج بڑی تیزی سے چمکے گا ہماری بستیوں پر دور تک امڈا ہوا بادل ہوا کا رخ اگر بدلا تو صحراؤں پہ برسے گا غضب کی دھار تھی اک سائباں ثابت نہ رہ ...