قومی زبان

کئی کوٹھے چڑھے گا وہ کئی زینوں سے اترے گا

کئی کوٹھے چڑھے گا وہ کئی زینوں سے اترے گا بدن کی آگ لے کر شب گئے پھر گھر کو لوٹے گا گزرتی شب کے ہونٹوں پر کوئی بے ساختہ بوسہ پھر اس کے بعد تو سورج بڑی تیزی سے چمکے گا ہماری بستیوں پر دور تک امڈا ہوا بادل ہوا کا رخ اگر بدلا تو صحراؤں پہ برسے گا غضب کی دھار تھی اک سائباں ثابت نہ رہ ...

مزید پڑھیے

میرا سارا بدن راکھ ہو بھی چکا میں نے دل کو بچایا ہے تیرے لیے

میرا سارا بدن راکھ ہو بھی چکا میں نے دل کو بچایا ہے تیرے لیے ٹوٹے پھوٹے سے دیوار و در ہیں سبھی پھر بھی گھر کو سجایا ہے تیرے لیے کتنی محنت ہوئی خوں پسینہ ہوا جسم مٹی ہوا رنگ میلا ہوا خود تو جلتا رہا دوزخوں میں مگر گھر کو جنت بنایا ہے تیرے لیے تیری ہر بات تھی تلخیوں سے بھری تیرا ...

مزید پڑھیے

دل کا غم سے غم کا نم سے رابطہ بنتا گیا

دل کا غم سے غم کا نم سے رابطہ بنتا گیا دھیرے دھیرے بارشوں کا سلسلہ بنتا گیا درد و غم سہنے کی عادت اس قدر پختہ ہوئی ہارنا آخر ہمارا مشغلہ بنتا گیا ایک اک کر کے بہت دکھ ساتھ میرے ہو لیے مرحلہ در مرحلہ اک قافلہ بنتا گیا ضبط کا دامن جو چھوٹا ہاتھ سے میرے تو پھر میرا چہرہ کرب کا اک ...

مزید پڑھیے

لوگ کہتے ہیں یہاں ایک حسیں رہتا تھا

لوگ کہتے ہیں یہاں ایک حسیں رہتا تھا سر آئینہ کوئی ماہ جبیں رہتا تھا وہ بھی کیا دن تھے کہ بر دوش ہوا تھے ہم بھی آسمانوں پہ کوئی خاک نشیں رہتا تھا میں اسے ڈھونڈتا پھرتا تھا بیابانوں میں وہ خزانے کی طرح زیر زمیں رہتا تھا پھر بھی کیوں اس سے ملاقات نہ ہونے پائی میں جہاں رہتا تھا وہ ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں ہے بسا ہوا طوفان دیکھنا

آنکھوں میں ہے بسا ہوا طوفان دیکھنا نکلے ہیں دل سے یوں مرے ارمان دیکھنا بھولا ہوں جس کے واسطے میں اپنے آپ کو وہ بھی ہے میرے حال سے انجان دیکھنا دیکھا جو مسکراتے ہوئے آج ان کو پھر روشن ہوا ہے جینے کا امکان دیکھنا ہے حرف حرف زخم کی صورت کھلا ہوا فرصت ملے تو تم مرا دیوان ...

مزید پڑھیے

واقعہ کوئی تو ہو جاتا سنبھلنے کے لیے

واقعہ کوئی تو ہو جاتا سنبھلنے کے لیے راستہ مجھ کو بھی ملتا کوئی چلنے کے لیے کیوں نہ سوغات سمجھ کر میں اسے کرتا قبول بھیجتے زہر وہ مجھ کو جو نگلنے کے لیے اتنی سردی ہے کہ میں بانہوں کی حرارت مانگوں رت یہ موزوں ہے کہاں گھر سے نکلنے کے لیے چاہیے کوئی اسے ناز اٹھانے والا دل تو تیار ...

مزید پڑھیے

برباد ہو گئے ہیں بہت تیرے پیار میں

برباد ہو گئے ہیں بہت تیرے پیار میں افسردہ آج بیٹھے ہیں غم کے حصار میں لیتی ہوں روز لطف اذیت بہار میں انگلی چبھوتی رہتی ہوں میں نوک خار میں کب لوٹ کر تو آئے گا اے میرے ہم نشیں صدیاں گزر گئیں ہیں ترے انتظار میں بکھرا ہوا ہے چار سو یادوں کا اک ہجوم ہلچل مچی ہوئی ہے دل بے قرار ...

مزید پڑھیے

روز اب آگ پہ چلنا ہوگا

روز اب آگ پہ چلنا ہوگا اسی ماحول میں پلنا ہوگا راستہ تم کو بدلنا ہوگا ورنہ کانٹوں پہ ہی چلنا ہوگا کچھ دکھائی نہیں دیتا ہے یہاں دشت ظلمت سے نکلنا ہوگا ہم اگر حوصلہ بردار رہے چڑھتے سورج کو بھی ڈھلنا ہوگا دھندھ میں گم ہوا منزل کا سراغ اب ہمیں ہاتھ ہی ملنا ہوگا سیر گلشن کی اجازت ...

مزید پڑھیے

عشق کی دھوپ میں ہم تو جلتے رہے

عشق کی دھوپ میں ہم تو جلتے رہے آبلے پڑ گئے پھر بھی چلتے رہے اک چراغ محبت جلا تھا کہیں شمع کی طرح ہم بھی پگھلتے رہے بے حجابانہ محفل میں وہ آ گئے اور دوانوں کے ارماں مچلتے رہے تنگ حالی میں پورے نہیں ہو سکے خواب مفلس کی آنکھوں میں پلتے رہے انتہا ہو گئی وحشیوں کی یہاں کتنی معصوم ...

مزید پڑھیے

اب میں خود کو آزمانا چاہتی ہوں

اب میں خود کو آزمانا چاہتی ہوں غم میں کھل کر مسکرانا چاہتی ہوں یہ تماشہ بھی دکھانا چاہتی ہوں آگ پانی میں لگانا چاہتی ہوں ہجرتوں کا بوجھ اب اٹھتا نہیں ہے مستقل کوئی ٹھکانا چاہتی ہوں دشمنوں کا امتحاں میں لے چکی ہوں دوستوں کو آزمانا چاہتی ہوں مجھ کو زینتؔ سونے دیتی ہی نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 180 سے 6203