قومی زبان

زندگی کی چاہت میں زندگی سے مت کھیلو

زندگی کی چاہت میں زندگی سے مت کھیلو روشنی کے دیوانو روشنی سے مت کھیلو اے بتان بے پروا کچھ خدا نہیں ہو تم پیار کی خدائی میں بندگی سے مت کھیلو آپ ہی نے کر ڈالا زندگی سے بیگانہ آپ ہی تو کہتے تھے زندگی سے مت کھیلو پیار دل کا سودا ہے عقل دل کی بیماری دوستی کے پردے میں دوستی سے مت ...

مزید پڑھیے

ان آنکھوں سے پہلے بھی کہیں بات ہوئی ہے

ان آنکھوں سے پہلے بھی کہیں بات ہوئی ہے سوچوں گا کہاں تم سے ملاقات ہوئی ہے تقدیس محبت پہ کہیں حرف نہ آئے تسکین ہوس شامل جذبات ہوئی ہے یہ روشنی شائستہ اجالوں کا ہے دھوکہ اے دوست ابھی ختم کہاں رات ہوئی ہے حالات ہی ایسے ہیں کہ تھمتے نہیں آنسو اب زندگی بے وقت کی برسات ہوئی ہے جس ...

مزید پڑھیے

آج ویرانیوں میں مرا دل نیا سلسلہ چاہتا ہے

آج ویرانیوں میں مرا دل نیا سلسلہ چاہتا ہے شام ڈھلنے کو ہے زندگی کی خدا اور کیا چاہتا ہے دھوپ کی نیتوں میں بھڑکنے لگے نفرتوں کے الاؤ اے گھٹا اس لیے تجھ کو میرا بدن اوڑھنا چاہتا ہے نیند کی راحتوں سے نہیں مطمئن سلسلہ دھڑکنوں کا پھر دل زار رعنائیوں میں گندھا رتجگا چاہتا ہے تیری ...

مزید پڑھیے

رقص نیرنگی ہے نظاروں کے بیچ

رقص نیرنگی ہے نظاروں کے بیچ جی رہا ہوں شعبدہ کاروں کے بیچ ایک دنیا کو ہے لٹ جانے کا ڈر ایک ہم ہیں لٹ گئے یاروں کے بیچ شکوۂ جور و جفا کس سے کروں پیار سے محروم ہوں پیاروں کے بیچ ملک و ملت قوم و مذہب دوستو کیا نہیں بکتا خریداروں کے بیچ عظمت حوا کا اک اور آئنہ ہو گیا نیلام بازاروں ...

مزید پڑھیے

نرم لہجے میں تحمل سے ذرا بات کرو

نرم لہجے میں تحمل سے ذرا بات کرو پھر بصد شوق سر عام مجھے مات کرو یا نثار آج کرو مجھ پہ تمام اپنے ہنر یا نظر بند مرے سارے کمالات کرو میں روایات سے باغی تو نہیں ہوں لیکن تم سے ممکن ہو تو تبدیل خیالات کرو ایک مدت سے مرے دل کا نگر ہے ویراں آؤ اس دشت پہ تم پھولوں کی برسات کرو فصل ...

مزید پڑھیے

کتنا جاں سوز ہے منظر مری تنہائی کا

کتنا جاں سوز ہے منظر مری تنہائی کا حوصلہ مجھ میں نہیں انجمن آرائی کا میں نے سمجھا تھا جسے باعث تسکین نظر اس نے سامان کیا ہے مری رسوائی کا میری باتوں میں نیا رنگ کہاں سے آئے میرے دل میں بھی ہے اک زخم شناسائی کا بات تو جب ہے کہ جذبوں سے صداقت پھوٹے یوں تو دعویٰ ہے ہر اک شخص کو ...

مزید پڑھیے

مثل بہشت خوش نما کون و مکان میں

مثل بہشت خوش نما کون و مکان میں انسان مبتلا ہے عجیب امتحان میں بجھتی نہیں ہے کوشش دریا کے باوجود یہ کیسی تشنگی ہے مرے جسم و جان میں وہ دھوپ میں کھڑا ہے بڑے اطمینان سے لو دے رہا ہے میرا بدن سائبان میں کیوں نام انتساب میں لکھا گیا مرا کردار جب نہیں تھا مرا داستان میں اس بار ...

مزید پڑھیے

دور تک دشت میں اجالا ہے

دور تک دشت میں اجالا ہے جانے کس قہر کا حوالہ ہے پھر اگلنے لگی ہے آگ زمیں پھر کوئی قتل ہونے والا ہے شہر خوش بخت کا مکیں ہوں مگر گرد میرے غموں کا ہالہ ہے دل نے غم کا الاؤ لفظوں میں کس مہارت سے آج ڈھالا ہے جرم سرزد ہوا تھا آدم سے مجھ کو جنت سے کیوں نکالا ہے تیری اک آرزو نے لوگوں ...

مزید پڑھیے

زندہ ہیں مرے خواب یہ کب یاد ہے مجھ کو

زندہ ہیں مرے خواب یہ کب یاد ہے مجھ کو ہاں ترک محبت کا سبب یاد ہے مجھ کو تفصیل عنایات تو اب یاد نہیں ہے پر پہلی ملاقات کی شب یاد ہے مجھ کو خوشبو کی رفاقت کا نشہ ٹوٹ رہا ہے لیکن وہ سفر داد طلب یاد ہے مجھ کو اب شام کے ہاتھوں جو گرفتار ہے سورج دوپہر میں تھا قہر و غضب یاد ہے مجھ ...

مزید پڑھیے

محبتوں کی مسافت سے کٹ کے دیکھتے کیا

محبتوں کی مسافت سے کٹ کے دیکھتے کیا مسافر شب ہجراں پلٹ کے دیکھتے کیا سرور عشق میں گم ہو گئے تھے ہم دونوں ہوائے دامن شب سے لپٹ کے دیکھتے کیا طلسم یار رگ و پے میں ڈھل رہا تھا، ہم نشاط و غم کے صحیفے الٹ کے دیکھتے کیا بہار نو کو جنم دے رہی تھی وصل کی شب ہم عافیت کی رتوں میں سمٹ کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1797 سے 6203