قومی زبان

بھول جاتے ہیں تقدس کے حسیں پل کتنے

بھول جاتے ہیں تقدس کے حسیں پل کتنے لوگ جذبات میں ہو جاتے ہیں پاگل کتنے روز خوشبو کے مقدر میں رہی خود سوزی اپنی ہی آگ میں جلتے رہے صندل کتنے سبز موسم نہ یہاں پھر سے پلٹ کر آیا ہو گئے زرد مرے گاؤں کے پیپل کتنے خود کشی قتل انا ترک تمنا بیراگ زندگی تیرے نظر آنے لگے حل کتنے بارشیں ...

مزید پڑھیے

روز اٹھتا ہے دھواں کوہ ندا کے اس پار

روز اٹھتا ہے دھواں کوہ ندا کے اس پار چاند چپ چاپ سلگتا ہے فضا کے اس پار بھیگ جاتی ہے یہ معصوم سی دھرتی ہر صبح کون روتا ہے بتاؤ تو گھٹا کے اس پار سرحد جسم سے آگے حد امکاں سے پرے شہر جاں رہتا ہے دیوار انا کے اس پار نیکیاں بانٹتے رہنے کی سزا لازم ہے پارہ پارہ ہے بدن کوئے جزا کے اس ...

مزید پڑھیے

جاڑوں بھر کیوں میرے آنگن میں سایہ تھا

جاڑوں بھر کیوں میرے آنگن میں سایہ تھا سورج نے کس چھت پر خیمہ لگوایا تھا اک پتھر تھا جو ماتھے سے ٹکرایا تھا پھینکنے والا شاید میرا ماں جایا تھا پھول کو کب تھی سیر کی اور تفریح کی خواہش شوخ ہوا ہی نے یہ رستہ دکھلایا تھا طوطوں اور چڑیوں کو اب کیوں ڈھونڈ رہے ہو نیم کا پیڑ تو خود تم ...

مزید پڑھیے

ایک اک کر کے سبھی لوگ بچھڑ جاتے ہیں

ایک اک کر کے سبھی لوگ بچھڑ جاتے ہیں دل کے جنگل یوں ہی بستے ہیں اجڑ جاتے ہیں کیسے خوش رنگ ہوں خوش ذائقہ پھل ہوں لیکن وقت پر چکھے نہیں جائیں تو سڑ جاتے ہیں اپنے لفظوں کے تأثر کا ذرا دھیان رہے حاکم شہر کبھی لوگ بھی اڑ جاتے ہیں ریت تاریخ کے سینے میں ہٹاتے ہیں وہی آبلے پیاسی زبانوں ...

مزید پڑھیے

مئی کا آگ لگاتا ہوا مہینہ تھا

مئی کا آگ لگاتا ہوا مہینہ تھا گھٹا نے مجھ سے مرا آفتاب چھینا تھا بجا کہ تجھ سا رفوگر نہ مل سکا لیکن یہ تار تار وجود ایک دن تو سینا تھا اسے یہ ضد تھی کہ ہر سانس اس کی خاطر ہو مگر مجھے تو زمانے کے ساتھ جینا تھا یہ ہم ہی تھے جو بچا لائے اپنی جاں دے کر ہوا کی زد پہ تری یاد کا سفینہ ...

مزید پڑھیے

گھرے ہیں چاروں طرف بیکسی کے بادل پھر

گھرے ہیں چاروں طرف بیکسی کے بادل پھر سلگ رہا ہے ستاروں بھرا اک آنچل پھر بس ایک بار ان آنکھوں کو اس نے چوما تھا ہمیشہ نم ہی رہا آنسوؤں سے کاجل پھر یہ کیسی آگ ہے جو پور پور روشن ہے یہ کس نے رکھ دی مری انگلیوں پہ مشعل پھر پھر اب کی بار لہو رنگ بارشیں برسیں کسی نے کاٹ دئے ہیں سروں کے ...

مزید پڑھیے

ہر زباں پر ہے گفتگو تیری

ہر زباں پر ہے گفتگو تیری ہے ہر اک دل میں آرزو تیری مہر و مہ دونوں تجھ سے ششدر ہیں یہ تجلی ہے چار سو تیری مے سے اے شیخ گر طہارت کر آبرو ہو دم وضو تیری زلف سنبل ہے اور کمر رگ گل ہے یہ تعریف مو بہ مو تیری گل نہ پھولیں سمائے جامہ میں گر صبا سے وہ پائیں بو تیری لائی آہو کو دام میں ...

مزید پڑھیے

شکست

افق کی منڈیروں پہ دن کا تھکا ماندہ سورج کھڑا تھا اور اس کا بدن سرخ شالوں کی زد میں جھلستا رہا وہ چپ چاپ گم سم خلاؤں کو تکتا رہا ایک گونگا تماشائی بن کر یکایک خلاؤں کی پہنائیوں میں پس پردۂ شب سے اک چیخ ابھری وہ مغرور سورج جو اپنی تکمیلی شعاعوں کے زہریلے کانٹوں سے معصوم دھرتی کا ...

مزید پڑھیے

ستم میں بھی تو پہلو ان کی زینت کہ نکلتے ہیں

ستم میں بھی تو پہلو ان کی زینت کہ نکلتے ہیں ہمارے خوں شدہ دل کو حسیں تلووں سے ملتے ہیں شگاف سینہ سوراخ جگر چاک دل عاشق محبت کی گلی سے سیکڑوں رستے نکلتے ہے تمہاری مانگ کے عاشق ہیں شیخ و برہمن دونوں یہ وہ رستہ ہے جس پر دوست دشمن ساتھ چلتے ہیں کھٹک آج آنسوؤں کی دے رہی ہے یہ خبر مجھ ...

مزید پڑھیے

خود فریبی ہے دغا بازی ہے عیاری ہے

خود فریبی ہے دغا بازی ہے عیاری ہے آج کے دور میں جینا بھی اداکاری ہے تم جو پردیس سے آؤ تو یقیں آ جائے اب کے برسات یہ سنتے ہیں بڑی پیاری ہے میرے آنگن میں تو کانٹے بھی ہرے ہو نہ سکے اس کی چھت پہ تو مہکتی ہوئی پھلواری ہے چوڑیاں کانچ کی قاتل نہ کہیں بن جائیں سحر انگیز بری ان کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1785 سے 6203