اپنے دیوار و در سے پوچھتے ہیں
اپنے دیوار و در سے پوچھتے ہیں گھر کے حالات گھر سے پوچھتے ہیں کیوں اکیلے ہیں قافلے والے ایک اک ہم سفر سے پوچھتے ہیں کیا کبھی زندگی بھی دیکھیں گے بس یہی عمر بھر سے پوچھتے ہیں جرم ہے خواب دیکھنا بھی کیا رات بھر چشم تر سے پوچھتے ہیں یہ ملاقات آخری تو نہیں ہم جدائی کے ڈر سے پوچھتے ...