دل کی بربادی کے آثار ابھی باقی ہیں
دل کی بربادی کے آثار ابھی باقی ہیں کچھ شکستہ در و دیوار ابھی باقی ہیں چند پروانے ہی رقصاں ہیں مگر شمع حزیں شکر کر کچھ ترے غم خوار ابھی باقی ہیں چند غنچوں کے جگر سی کے رفوگر نہ بنو کتنے دل ہیں جو دل افگار ابھی باقی ہیں وقت آیا تو تہ تیغ بھی دہرا دیں گے وہ فسانے جو سر دار ابھی باقی ...