قومی زبان

دل کی بربادی کے آثار ابھی باقی ہیں

دل کی بربادی کے آثار ابھی باقی ہیں کچھ شکستہ در و دیوار ابھی باقی ہیں چند پروانے ہی رقصاں ہیں مگر شمع حزیں شکر کر کچھ ترے غم خوار ابھی باقی ہیں چند غنچوں کے جگر سی کے رفوگر نہ بنو کتنے دل ہیں جو دل افگار ابھی باقی ہیں وقت آیا تو تہ تیغ بھی دہرا دیں گے وہ فسانے جو سر دار ابھی باقی ...

مزید پڑھیے

شورش پیہم بھی ہے افسردگئ دل بھی ہے

شورش پیہم بھی ہے افسردگئ دل بھی ہے زندگی بہتا ہوا دھارا بھی ہے ساحل بھی ہے قیس کی نظروں سے کوئی دیکھنے والا تو ہو نجد میں لیلیٰ بھی ہے جلوے بھی ہیں محمل بھی ہے قصۂ دار و رسن یا قصہ گیسو و قد کچھ تو چھیڑو وقت بھی ہے رنگ پر محفل بھی ہے کیا کرے پامال غم اک یاد ماضی ہی نہیں حال کی بھی ...

مزید پڑھیے

ہر دور میں ہر عہد میں تابندہ رہیں گے

ہر دور میں ہر عہد میں تابندہ رہیں گے ہم اہل محبت ہیں درخشندہ رہیں گے جو نقش قدم اہل جنوں چھوڑ گئے ہیں تم لاکھ مٹاؤ گے وہ پایندہ رہیں گے تم نے وہ ستم ڈھائے ہیں ارباب وفا پر تاریخ کے اوراق بھی شرمندہ رہیں گے حالات جو ماضی میں تھے وہ آج نہیں ہیں درپیش جو اب ہیں وہ نہ آئندہ رہیں ...

مزید پڑھیے

ساتھ لے کر اپنی بربادی کے افسانے گئے

ساتھ لے کر اپنی بربادی کے افسانے گئے آبروئے انجمن تھے جو وہ دیوانے گئے ابتدا یہ تھی کہ دنیا بھر کی نظریں ہم پہ تھیں انتہا یہ ہے کہ خود سے بھی نہ پہچانے گئے تیری فیاضی سے کب انکار ہے ساقی مگر ایسے میکش بھی ہیں کچھ جن تک نہ پیمانے گئے محفلیں مہکی ہوئی تھیں جن سے وہ گل کیا ...

مزید پڑھیے

دل والے ہیں ہم رسم وفا ہم سے ملی ہے

دل والے ہیں ہم رسم وفا ہم سے ملی ہے دنیا میں محبت کو بقا ہم سے ملی ہے وہ خندہ بہ لب ذکر گلستاں پہ یہ بولے غنچوں کو تبسم کی ادا ہم سے ملی ہے صدیوں سے ترستے ہوئے کانوں میں جو پہنچی تاریخ سے پوچھو وہ صدا ہم سے ملی ہے ہم وہ ہیں کہ خود پھونک دیئے اپنے نشیمن گلشن کے اندھیروں کو ضیا ہم ...

مزید پڑھیے

رقص کرتے مستیوں کے سینکڑوں عالم گئے

رقص کرتے مستیوں کے سینکڑوں عالم گئے محفل جم بن گئی جس انجمن میں ہم گئے ہر الم سے ہر بلا سے مل گئی دل کو نجات جب سے تیرا غم ملا ہے اپنے سارے غم گئے آ گئی کیا جانئے پھر کس مسیحا دم کی یاد درد پیہم رک گیا اشک مسلسل تھم گئے چھا گئیں رندان محفل پر بلا کی مستیاں بزم میں جس سمت چھلکاتے ...

مزید پڑھیے

یہ نہ پوچھو تم خدارا کہ مرا مکاں کہاں ہے

یہ نہ پوچھو تم خدارا کہ مرا مکاں کہاں ہے جسے آگ دی ہے تم نے وہی میرا آشیاں ہے تمہیں کیا سناؤں اب میں غم عشق کا فسانہ وہی قصۂ علم ہے وہی غم کی داستاں ہے مجھے روشنی ملے گی رہ زیست میں اسی سے ترا نقش پا ہے جاناں کہ چراغ کارواں ہے مری ہر نشاط و غم کو تری ذات سے ہے نسبت تو جو آئے تو ...

مزید پڑھیے

ایک چھوٹی سی نظم

میں نے اپنے آپ کو کنویں میں ڈھکیلا اور قہقہے لگائے کیوں کہ میں نہیں جانتا تھا کہ یہ ایسا کنواں ہے جس سے نکلنا ممکن نہیں میں سمجھتا تھا کہ میں نے ایک بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے اب میرے قہقہوں کو لوگ سنتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں

مزید پڑھیے

یافت اور نایافت کا مسئلہ

یافت اور نایافت میں الجھے ہوئے یہ سوچتے رہتے ہیں ہم اکثر کہ پانا آپ اپنے کو نہیں آساں مہد سے تا لحد ہم ڈھونڈتے رہتے ہیں خود کو کون جانے کب ہماری یافت کا لمحہ کسی پارس کی صورت ہم سے ٹکرائے نہ جانے کب ہم اپنے آپ کو پا لیں مگر یہ بھی ضروری تو نہیں ہوگا کہ پھر سے گم نہ کر دیں خود کو اس ...

مزید پڑھیے

ادھوری آرزو

کبھی میں سوچتا ہوں خول سے اپنے نکل کر اک پرندے کی طرح بادل کو چھو لوں یا کبھی جھرنے میں بچوں کی طرح کلکاریاں بھر کر اچھالوں آپ اپنے جسم پر پانی کبھی جا کر سمندر کے کنارے ریت پر لیٹوں گھروندے ریت کے تعمیر کر کے ایک ٹھوکر سے گرا دوں یا کسی مصروف سی شہہ راہ پر جاؤں وہاں چیخوں ہنسوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1747 سے 6203