قومی زبان

اشک آنکھوں میں اور دل میں آہوں کے شرر دیکھے

اشک آنکھوں میں اور دل میں آہوں کے شرر دیکھے برسات کے موسم میں جلتے ہوئے گھر دیکھے آخر کو یہ دن تو نے اے دیدۂ تر دیکھے ملتے ہوئے مٹی میں انمول گہر دیکھے جلووں کی حدیں آخر کیسے متعین ہوں آنکھوں نے ترے جلوے تا حد نظر دیکھے گہنائے ہوئے چاند اور دھندلائے ہوئے سورج فرقت میں ان ...

مزید پڑھیے

ناکام میری کوشش ضبط الم نہیں

ناکام میری کوشش ضبط الم نہیں یوں مطمئن ہوں جیسے مجھے کوئی غم نہیں تاریکیوں میں آج بھی گم ہے وہ رہ گزر جس کو نصیب آپ کے نقش قدم نہیں اس دور میں کہ جس میں ہے جنس وفا کا قحط ہم سے وفا شعار جو باقی ہیں کم نہیں تیرے سوا کسی سے اجالوں کی بھیک لے کم ظرف اس قدر تو مری شام غم نہیں بکھرے ...

مزید پڑھیے

سنا ہے چپ کی بھی کوئی پکار ہوتی ہے

سنا ہے چپ کی بھی کوئی پکار ہوتی ہے یہ بد گمانی مجھے بار بار ہوتی ہے خیال و خواب کی دنیا سراب کی دنیا نظر فقیر کی پردے کے پار ہوتی ہے عذاب دیدہ کوئی رنگ سینچتے کیسے خزاں گزیدگی آشفتہ بار ہوتی ہے میں اپنے حصے کے منظر اجالنے سے رہا یہ آگہی تو بہت دل فگار ہوتی ہے امید ہی سے زمانے ...

مزید پڑھیے

آخری ہچکی لے گا کون

آخری ہچکی لے گا کون میری جنگ لڑے گا کون میرا لہجہ دھیما ہے میری بات سنے گا کون سرخ کبوتر زرد منڈیر یہ تاریخ لکھے گا کون شاید ہم پر وقت آئے پہلا وار کرے گا کون اتنی خاموشی کے بعد دل کی بات کہے گا کون میں نے دامن جھاڑ دیا اتنا درد سہے گا کون انہونی کی ہونی دیکھ دوسری بار ملے گا ...

مزید پڑھیے

وقت کی دسترس سے باہر ہوں

وقت کی دسترس سے باہر ہوں میں نئے قافیے کا مصدر ہوں مجھ کو اس پار سوچنے والے میں ترے سامنے کا منظر ہوں یہ ابھی تک نہیں کھلا مجھ پر گھر میں ہوتے ہوئے بھی بے گھر ہوں مجھ کو آنکھیں پسند آتی ہیں میں کسی شام کا مقدر ہوں میں قلندر مزاج ہوں راحلؔ دشت کی خامشی کا مظہر ہوں

مزید پڑھیے

زندگی حسن سے تعبیر بھی ہو سکتی تھی

زندگی حسن سے تعبیر بھی ہو سکتی تھی چاندنی دشت پہ تحریر بھی ہو سکتی تھی بے بس جادۂ‌ پر خار پہ لائی مجھ کو بے بسی پاؤں کی زنجیر بھی ہو سکتی تھی ایک آواز طلسمات میں ڈوبی آواز ایسی آواز کہ تصویر بھی ہو سکتی تھی ایک سایہ پس دیوار بھی لہراتا تھا سنسنی اتنی ہمہ گیر بھی ہو سکتی ...

مزید پڑھیے

کچھ نہ کچھ مان سلامت ہے ابھی

کچھ نہ کچھ مان سلامت ہے ابھی ایک امکان سلامت ہے ابھی کھینچ سکتا ہوں غم دل کا سرور اتنا سامان سلامت ہے ابھی اک مسلمان کا سر کاٹا گیا اک مسلمان سلامت ہے ابھی میری بیٹی مرے ورثے کی امیں یہ قلم دان سلامت ہے ابھی ان ہواؤں میں نمی ہے راحلؔ کوئی انسان سلامت ہے ابھی

مزید پڑھیے

ادھورے خواب کا چہرہ اداسی

ادھورے خواب کا چہرہ اداسی بدلتے وقت کا لہجہ اداسی چراغ آخر شب آخری لو خموشی بولتی ہے یا اداسی گماں کا پہلا منظر روشنی ہے گماں کا آخری لمحہ اداسی ترا ہونا بھی اب کافی نہیں ہے اداسی ہے بہت بے جا اداسی یہ پھیکی مسکراہٹ بھیگی پلکیں پرانی یاد کا رشتہ اداسی

مزید پڑھیے

شام غم بیمار کے دل پر وہ بن آئی کہ بس

شام غم بیمار کے دل پر وہ بن آئی کہ بس ہر طرف تاریکیاں اور ایسی تنہائی کہ بس دل کی بربادی کا افسانہ ابھی چھیڑا ہی تھا انجمن میں ہر طرف سے اک صدا آئی کہ بس ان کی آنکھوں میں جو اشک آئے تو یوں آئے کہ اف ان کے ہونٹوں پر ہنسی آئی تو یوں آئی کہ بس عمر بھر کے واسطے چپ ہو گیا بیمار غم آپ نے ...

مزید پڑھیے

بے نام سی خلش کہ جو دل میں جگر میں ہے

بے نام سی خلش کہ جو دل میں جگر میں ہے ہلچل بپا کئے ہوئے یہ بحر و بر میں ہے جاتی ہوئی بہار کے منظر کو دیکھ کر آتی ہوئی بہار کا منظر نظر میں ہے ہے دید اولیں بھی یقیناً حسیں مگر بات اور ہی نظارۂ بار دگر میں ہے آئے گی ایک منزل بے شام و بے سحر پنہاں یہ راز گردش شام و سحر میں ہے راہیؔ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1746 سے 6203