قومی زبان

سمندر آج چپ ہے

سمندر آج چپ ہے کوئی ہلچل ہی نہ لہروں کا ترنم ایک سناٹا ہوا بھی سرسرانا بھول کر ہے دم بخود سی جھاگ بھی اڑنا مچلنا بھول کر چپ چاپ لپٹا ہے چٹانوں سے یہ خاموشی کسی طوفان کی آمد کا شاید پیش خیمہ ہے فضا کی صد ہزار آنکھیں ہیں لبریز آنسوؤں سے جو ٹپک پڑتے ہیں شبنم بن کے اور پھر جذب ہو جاتے ...

مزید پڑھیے

رنگ لہو کا

آخر کب تک دور چناروں کے پیچھے ٹھٹھری اکڑی ایک معصوم سی چنری ہے جس کے رنگوں میں اب تک بھی وہی تازگی وہی دمک اور وہی پھبن ہے ہاں اس چنری کے رنگوں کے بیچ میں اک اور رنگ نے مسکن بنا لیا ہے رنگ لہو کا جو چنری سے رستا رستا برف کے ذروں میں گھل مل کر تھم سا گیا ہے جم سا گیا ہے جیسے آنسو اور ...

مزید پڑھیے

مے ملے یا نہ ملے رسم نبھا لی جائے

مے ملے یا نہ ملے رسم نبھا لی جائے خالی بوتل ہے تو خالی ہی اچھالی جائے ہم بھی ہیں سینہ سپر آپ بھی شمشیر بکف بات تو جب ہے کوئی وار نا خالی جائے گھر کے آنگن میں تعصب کی یہ سڑتی ہوئی لاش کتنے دن بیت گئے اب تو اٹھا لی جائے کیا تعجب ہے کہ کچھ سوتے ہوئے جاگ اٹھیں سونی بستی میں اک آواز ...

مزید پڑھیے

اٹھی نگاہ تو اپنے ہی رو بہ رو ہم تھے

اٹھی نگاہ تو اپنے ہی رو بہ رو ہم تھے زمین آئینہ خانہ تھی چار سو ہم تھے دنوں کے بعد اچانک تمہارا دھیان آیا خدا کا شکر کہ اس وقت با وضو ہم تھے وہ آئینہ تو نہیں تھا پر آئینے سا تھا وہ ہم نہیں تھے مگر یار ہو بہ ہو ہم تھے زمیں پہ لڑتے ہوئے آسماں کے نرغے میں کبھی کبھی کوئی دشمن کبھو ...

مزید پڑھیے

کیسے کہوں سفینے کو سیلاب لے گیا

کیسے کہوں سفینے کو سیلاب لے گیا میرا نصیب تھا جو تہہ آب لے گیا اک جان آرزو کی تمنائے دید میں جانے کہاں کہاں دل بیتاب لے گیا ماتم کناں ہے شاخ فضائے چمن اداس یہ کون توڑ کر گل شاداب لے گیا گویا متاع دل ہی تھی میری متاع زیست دل لے کے کوئی زیست کے اسباب لے گیا صورت دکھا کے خواب میں ...

مزید پڑھیے

جب نہ شیشہ ہے نہ ساغر ہے نہ پیمانہ مرا

جب نہ شیشہ ہے نہ ساغر ہے نہ پیمانہ مرا کس طرح کہہ دوں یہ مے خانہ ہے مے خانہ مرا چھپ سکے گا باغ میں کیوں کر مری وحشت کا حال پتے پتے کی زباں کہتی ہے افسانہ مرا ہیں مکیں اب بھی دل محزوں میں لاکھوں حسرتیں خیر سے ہے آج بھی آباد ویرانہ مرا ہو بھلا کیوں کر عیاں میری حقیقت آپ پر آپ اکثر ...

مزید پڑھیے

آج پھر ساقیٔ گلفام سے باتیں ہوں گی

آج پھر ساقیٔ گلفام سے باتیں ہوں گی مے گساروں کی مئے و جام سے باتیں ہوں گی پھر ترے عارض و گیسو کے نظارے ہوں گے پھر نئی صبح نئی شام سے باتیں ہوں گی ہو چکیں عیش و مسرت سے بہت کچھ باتیں ہوں گی اب تو غم و آلام سے باتیں ہوں گی عمر بھر کھائیں گے ہم وعدۂ فردا کا فریب عمر بھر حسرت ناکام سے ...

مزید پڑھیے

غافل تری نظر ہی سے پردہ اٹھا نہ تھا

غافل تری نظر ہی سے پردہ اٹھا نہ تھا ورنہ وہ کس مقام پہ جلوہ نما نہ تھا روشن چراغ عشق نے کی منزل حیات ورنہ وہ تیرگی تھی کہ کچھ سوجھتا نہ تھا مقصود ایک تیرے ہی در کی تھی جستجو دیر و حرم سے مجھ کو کوئی واسطہ نہ تھا آواز دے رہے تھے جسے بے خودی میں ہم دیکھا تو وہ ہمیں تھے کوئی دوسرا نہ ...

مزید پڑھیے

پھولوں سے چھپ سکا ہے کہیں گلستاں کا حال

پھولوں سے چھپ سکا ہے کہیں گلستاں کا حال ہم جانتے ہیں آج ہے جو اس جہاں کا حال نظروں میں دار و گیر کا عالم ہے آج بھی کس دل سے ہم بتائیں تمہیں کارواں کا حال بجلی کی زد میں آ گیا فصل بہار میں المختصر یہی ہے میرے آشیاں کا حال نقشہ کسی کی بزم کا آنکھوں میں پھر گیا واعظ نے آج چھیڑا جو ...

مزید پڑھیے

کدھر رواں ہے مرا کارواں نہیں معلوم

کدھر رواں ہے مرا کارواں نہیں معلوم نصیب لے کے چلا ہے کہاں نہیں معلوم ہمارا خرمن دل بھی تو جل چکا یا رب گرے گی اب کہاں برق تپاں نہیں معلوم بس اک نگاہ محبت سے ان کو دیکھا تھا ہیں مجھ سے کس لئے وہ بد گماں نہیں معلوم بنے ہیں آج وہی منتظم گلستاں کے کہ جن کو فرق بہار و خزاں نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1748 سے 6203