خواب
آؤ واپس چلیں رات کے راستے پر وہاں نیند کی بستیاں تھیں جہاں خاک چھانیں کوئی خواب ڈھونڈیں کہ سورج کے رستے کا رخت سفر خواب ہے اور اس دن کے بازار میں کل تلک خواب کمیاب تھا آج نایاب ہے
آؤ واپس چلیں رات کے راستے پر وہاں نیند کی بستیاں تھیں جہاں خاک چھانیں کوئی خواب ڈھونڈیں کہ سورج کے رستے کا رخت سفر خواب ہے اور اس دن کے بازار میں کل تلک خواب کمیاب تھا آج نایاب ہے
تھی اک ایسی رات کہ ہم دونوں تنہا تھے چاند بھی ہم بھی چاند یہ بولا دیوانے آ بات کریں کچھ ہجر کی رات بہت بھاری ہے میں تو کب سے سرد پڑا ہوں اس نیلے صحرا میں یوں ہی میں صدیوں سے آوارہ ہوں اور تنہا ہوں دیوانے آ بات کریں کچھ تیرے دل میں شاید اب تک کوئی دہکتا انگارہ ہے ہجر کی ٹھنڈی راکھ کی ...
کیوں مری تلخ نوائی سے خفا ہوتے ہو زہر ہی مجھ کو ملا زہر پیا ہے میں نے کوئی اس دشت جنوں میں مری وحشت دیکھے اپنے ہی چاک گریباں کو سیا ہے میں نے دیر و کعبہ میں جلائے مری وحشت نے چراغ میری محراب تمنا میں اندھیرا ہی رہا رخ تاریخ پہ ہے میرے لہو کا غازہ پھر بھی حالات کی آنکھوں میں کھٹکتا ...
ہم کیا جانیں قصہ کیا ہے ہم ٹھہرے دیوانے لوگ اس بستی کے بازاروں میں روز کہیں افسانے لوگ یادوں سے بچنا مشکل ہے ان کو کیسے سمجھائیں ہجر کے اس صحرا تک ہم کو آتے ہیں سمجھانے لوگ کون یہ جانے دیوانے پر کیسی سخت گزرتی ہے آپس میں کچھ کہہ کر ہنستے ہیں جانے پہچانے لوگ پھر صحرا سے ڈر لگتا ...
رنگ ہوا سے چھوٹ رہا ہے موسم کیف و مستی ہے پھر بھی یہاں سے حد نظر تک پیاسوں کی اک بستی ہے دل جیسا ان مول رتن تو جب بھی گیا بے رام گیا جان کی قیمت کیا مانگیں یہ چیز تو خیر اب سستی ہے دل کی کھیتی سوکھ رہی ہے کیسی یہ برسات ہوئی خوابوں کے بادل آتے ہیں لیکن آگ برستی ہے افسانوں کی ...
سو گئی رات بہت دیر ہوئی تھک کے لیٹی تھی کسی راہ گزر پر کسی کمرے کسی ویرانے میں کسی مسجد کسی مے خانہ میں کسی پتھر کے ستوں سے ٹک کر کسی دیوار کے سینے سے لگائے ہوئے سر سو گئی رات بہت دیر ہوئی چاند بھی ڈوب گیا تارے بد خواہ پڑوسی کی طرح غور سے دیکھ رہے ہیں کہ کسی اور پڑوسی کے یہاں روشنی ...
کٹ گئی رات مگر رات ابھی باقی ہے حسرت دید ابھی زندہ ہے دل دھڑکتا ہے ابھی شوق ملاقات ابھی زندہ ہے دل کے صحرائے وفا میں ہے غزالوں کا ہجوم اور اس چاند کے پیالے سے چھلکتی ہے مری پیاس ابھی زندگی آئی نہیں راس ابھی صبح سے پہلی ملاقات ابھی باقی ہے کٹ گئی رات مگر رات ابھی باقی ہے
ماں سے اک بچے نے پوچھا چاند میں یہ دھبا کیسا ہے ماں یہ بولی چندا بیٹے جس کو تم دھبا کہتے ہو وہ تو اک پاگل بڑھیا ہے بچے نے معصوم آنکھوں سے کچھ لمحوں تک ماں کو بڑی حیرت سے دیکھا اور یہ پوچھا ماں جب میں چندا بیٹا ہوں تو مجھ میں بھی اک پاگل بڑھیا ہوگی ماں نے اس کو بھینچ لیا اس کے لب ...
میں اک پھیری والا بیچوں یادیں سستی مہنگی سچی جھوٹی اجلی میلی رنگ برنگی یادیں ہونٹ کے آنسو آنکھوں کی مسکان ہری فریادیں میں اک پھیری والا بیچوں یادیں یادوں کے رنگین غبارے نیلے پیلے لال گلابی رنگ برنگے دھاگوں کے کندھوں پر بیٹھے کھیل رہے ہیں ٹھیس لگی تو چیخ اٹھیں گے دھاگے کی گردن ...
میں اک جوہی کا پودا ہوں یہ بھی مجھ کو یاد نہیں ہے میں اس راہ گزر پر کب سے بس یوں ہی خاموش کھڑا ہوں مجھ سے یہ پوچھا نہ کسی نے کیسے ہو کیا سوچ رہے ہو کیوں آخر خاموش کھڑے ہو جیسے انہیں کی طرح میں خود بھی اس آباد حسیں دنیا کی وحدت کا حصہ ہی نہیں ہوں جیسے میں زندہ ہی نہیں ہوں میرے لفظوں ...