قومی زبان

اس طرح آہ کل ہم اس انجمن سے نکلے

اس طرح آہ کل ہم اس انجمن سے نکلے فصل بہار میں جوں بلبل چمن سے نکلے آتی لپٹ ہے جیسی اس زلف عنبریں سے کیا تاب ہے جو وہ بو مشک ختن سے نکلے تم کو نہ ایک پر بھی رحم آہ شب کو آیا کیا کیا ہی آہ و نالے اپنے دہن سے نکلے اب ہے دعا یہ اپنی ہر شام ہر سحر کو یا وہ بدن سے لپٹے یا جان تن سے نکلے تو ...

مزید پڑھیے

ناصحا فائدہ کیا ہے تجھے بہکانے سے

ناصحا فائدہ کیا ہے تجھے بہکانے سے کار ہشیار کہیں بھی ہوا دیوانے سے نہ غرض کعبے سے مطلب ہے نہ بت خانے سے ہے فقط ذوق مجھے یار کے گھر جانے سے وہ اٹھا کیا کہ ابر کرم پہلو سے چشم سے چشم بہے شوخ کے اٹھ جانے سے سوزش دل نہ یقیں ہو تو جگر چیر کے دیکھ آبلے لاکھوں پڑے تیرے ہی غم کھانے سے

مزید پڑھیے

نقرئی اجالے پر سرمئی اندھیرا ہے

نقرئی اجالے پر سرمئی اندھیرا ہے یعنی میری قسمت کو گردشوں نے گھیرا ہے وقت نے جدائی کے زخم بھر دئے لیکن زخم کی کہانی بھی وقت کا ہی پھیرا ہے ٹوٹتے بکھرتے ان حوصلوں کو سمجھاؤ الجھنوں کی شاخوں پر لذتوں کا ڈیرا ہے آنے والا سناٹا مستیاں اڑا دے گا ناگنو! سنبھل جاؤ سامنے سپیرا ہے

مزید پڑھیے

اک نشہ سا ذہن پر چھانے لگا

اک نشہ سا ذہن پر چھانے لگا آپ کا چہرہ مجھے بھانے لگا چاندنی بستر پہ اترانے لگی چاند بانہوں میں نظر آنے لگا روح پر مدہوشیاں چھانے لگیں جسم غزلیں وصل کی گانے لگا تم کرم فرما ہوئے صد شکریہ خواب میرا مجھ کو یاد آنے لگا رفتہ رفتہ یاسمیں کھلنے لگی موسم گل عشق فرمانے لگا زلف کی ...

مزید پڑھیے

آسماں سے چھن گیا جب چاند تاروں کا لباس

آسماں سے چھن گیا جب چاند تاروں کا لباس شبنمی کپڑوں میں لپٹی تھی زمیں کی نرم گھاس توڑ کر دیوار لمحوں کی ہوا جب رو بہ رو میں بھی افسردہ تھا اس کا دل بھی تھا بے حد اداس موجزن امروز کا کھارا سمندر تھا بہت تیری یادوں کے جزیرے تھے مگر کچھ آس پاس جب بدن کلیوں کا سورج کی کرن چھونے ...

مزید پڑھیے

اپنوں کے درمیان سلامت نہیں رہے

اپنوں کے درمیان سلامت نہیں رہے دیوار و در مکان سلامت نہیں رہے نفرت کی گرد جمع نگاہوں میں رہ گئی الفت کے قدردان سلامت نہیں رہے روشن ہیں آرزو کے بہت زخم آج بھی زخموں کے کچھ نشان سلامت نہیں رہے ایسا نہیں کہ صرف یقیں در بدر ہوا دل کے کئی گمان سلامت نہیں رہے محفوظ بام و در ہیں ...

مزید پڑھیے

ابھی سے مت کہو دل کا خلل جاوے تو بہتر ہے

ابھی سے مت کہو دل کا خلل جاوے تو بہتر ہے یہ راہ عشق ہے یہاں دم نکل جاوے تو بہتر ہے لہو آنکھوں سے بدلے اشک کے تو ہو گیا جاری رہی ہے جان باقی یہ بھی گل جاوے تو بہتر ہے شکستہ دل کا تو احوال پہنچے اے سرورؔ اس تک یہ شیشہ طاق الفت سے پھسل جاوے تو بہتر ہے

مزید پڑھیے

کس طرح پر ایسے بد خو سے صفائی کیجیے

کس طرح پر ایسے بد خو سے صفائی کیجیے جس کی طینت میں یہی ہو کج ادائی کیجیے جب مسیحا کی ہو مرضی کج ادائی کیجیے اس جگہ کیا درد دل کی پھر دوائی کیجیے اس سے کھنچ رہتا ہوں جب تب یہ کہے ہے مجھ سے دل عاشقی یا کیجیے یا میرزائی کیجیے گر یہ دل اپنا کہے میں اپنے ہووے ناصحا بیٹھ کر کنج قناعت ...

مزید پڑھیے

مریض ہجر کو صحت سے اب تو کام نہیں

مریض ہجر کو صحت سے اب تو کام نہیں اگرچہ صبح کو یہ بچ گیا تو شام نہیں رکھو یا نہ رکھو مرہم اس پہ ہم سمجھے ہمارے زخم جدائی کو التیام نہیں جگر کہیں ہے کہیں دل کہیں ہیں ہوش و حواس فقط جدائی میں اس گھر کا انتظام نہیں کوئی تو وحشی ہے کہتا کوئی ہے دیوانہ بتوں کے عشق میں اپنا کچھ ایک نام ...

مزید پڑھیے

لازم ہے سوز عشق کا شعلہ عیاں نہ ہو

لازم ہے سوز عشق کا شعلہ عیاں نہ ہو جل بجھیے اس طرح سے کہ مطلق دھواں نہ ہو زخم جگر کا وا کسی صورت وہاں نہ ہو پیکان یار اس میں جو شکل زباں نہ ہو اللہ رے بے حسی کہ جو دریا میں غرق ہوں تالاب کی طرح کبھی پانی رواں نہ ہو گل خندہ زن ہے چہچہے کرتی ہے عندلیب پھیلی ہوئی چمن میں کہیں زعفراں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1715 سے 6203