قومی زبان

مجھے کیف ہجر عزیز ہے تو زر وصال سمیٹ لے

مجھے کیف ہجر عزیز ہے تو زر وصال سمیٹ لے میں جو تیرا کوئی گلہ کروں مری کیا مجال سمیٹ لے مرے حرف و صوت بھی چھین لے مرے صبر و ضبط کے ساتھ تو مرا کوئی مال برا نہیں میرا سارا مال سمیٹ لے یہ تمام دن کی مسافتیں یہ تمام رات کی آفتیں مجھے ان دنوں سے نجات دے مرا یہ وبال سمیٹ لے سبھی ریزہ ...

مزید پڑھیے

یادوں کے دریچوں کو ذرا کھول کے دیکھو

یادوں کے دریچوں کو ذرا کھول کے دیکھو ہم لوگ وہی ہیں کہ نہیں بول کے دیکھو ہم اوس کے قطرے ہیں کہ بکھرے ہوئے موتی دھوکا نظر آئے تو ہمیں رول کے دیکھو کانوں میں پڑی دیر تلک گونج رہے گی خاموش چٹانوں سے کبھی بول کے دیکھو ذرے ہیں مگر کم نہیں پاؤ گے کسی سے پھر جانچ کے دیکھو ہمیں پھر تول ...

مزید پڑھیے

کاش میرے ڈوبنے کا وہ بھی منظر دیکھتا

کاش میرے ڈوبنے کا وہ بھی منظر دیکھتا لیکن اس کو کیا پڑی تھی کیوں پلٹ کر دیکھتا دشمنوں سے خوف کھاتا عمر بھر میں بھی اگر دوستوں کی آستینوں میں نہ خنجر دیکھتا شہر سے نکلے ہیں ہم کس جرم کی پاداش میں یہ تو اس کو دیکھنا تھا وہ ستم گر دیکھتا میں تھا شاہیں سب کی نظریں تھیں مری پرواز ...

مزید پڑھیے

ہم تو دن رات اسی سوچ میں مر جائیں گے

ہم تو دن رات اسی سوچ میں مر جائیں گے تجھ سے بچھڑیں گے تو کس حال میں گھر جائیں گے ہاں اسی پیڑ کے نیچے میں لہو رویا تھا لوگ اس راہ سے گزریں گے تو ڈر جائیں گے ہم ہیں حساس بہت ہم کو بچا کر رکھنا پھر نہ سمٹیں گے جو اک بار بکھر جائیں گے اب تو صحرا بھی گلستاں ہے بہار آنے پر شہر کو چھوڑ کے ...

مزید پڑھیے

سرما تھا مگر پھر بھی وہ دن کتنے بڑے تھے

سرما تھا مگر پھر بھی وہ دن کتنے بڑے تھے اس چاند سے جب پہلے پہل نین لڑے تھے رستے بڑے دشوار تھے اور کوس کڑے تھے لیکن تری آواز پہ ہم دوڑ پڑے تھے بہتا تھا مرے پاؤں تلے ریت کا دریا اور دھوپ کے نیزے مری نس نس میں گڑے تھے پیڑوں پہ کبھی ہم نے بھی پتھراؤ کیا تھا شاخوں سے مگر سوکھے ہوئے ...

مزید پڑھیے

روشنی والے تو دنیا دیکھیں

روشنی والے تو دنیا دیکھیں ہم اندھیرے کے سوا کیا دیکھیں اپنی قسمت میں بھی کچھ ہے کہ نہیں اب ذرا ہاتھ تو پھیلا دیکھیں تو کبھی صبح کا تارا بن جائے ہم تجھے دور سے تنہا دیکھیں آگ پانی میں اگر جنگ ہوئی کس طرف آدمی ہوگا دیکھیں جان سے ہاتھ نہ دھوئے جائیں اور بہتا ہوا دریا دیکھیں کس ...

مزید پڑھیے

میں اندھیروں کا پجاری ہوں مرے پاس نہ آ

میں اندھیروں کا پجاری ہوں مرے پاس نہ آ اپنے ماحول سے عاری ہوں مرے پاس نہ آ روپ محلوں کی تو رانی ہے ترا نام بڑا میں تو کلیوں کا بھکاری ہوں مرے پاس نہ آ مری آواز نے کتنے ہی چمن پھونک دیے نالۂ صبح بہاری ہوں مرے پاس نہ آ رنج و آلام کے صحراؤں میں دریا بن کر میں بڑے زور سے جاری ہوں مرے ...

مزید پڑھیے

مسکراتی آنکھوں کو دوستوں کی نم کرنا

مسکراتی آنکھوں کو دوستوں کی نم کرنا رام ایسے افسانے چھوڑ دو رقم کرنا اب کہاں وہ پہلی سی فرصتیں میسر ہیں سارا دن سفر کرنا ساری رات غم کرنا صبر کی روایت میں جبر کی عدالت میں لب کبھی نہ وا کرنا سر کبھی نہ زخم کرنا میں گناہ گاروں میں صاحب طریقت ہوں داخلی شہادت پر میرا سر قلم ...

مزید پڑھیے

لہکتی لہروں میں جاں ہے کنارے زندہ ہیں

لہکتی لہروں میں جاں ہے کنارے زندہ ہیں وجود آب کے سب استعارے زندہ ہیں وہ ہجرتوں کی حکایت تمہیں سنائیں گے جنہوں نے سر سے یہ طوفاں گزارے زندہ ہیں ہمارے کرب کتابوں میں ہیں ابھی محفوظ وہ سارے صفحے وہ سب گوشوارے زندہ ہیں ازل سے جبر و صداقت کی جنگ جاری ہے ابھی تلک نہیں مظلوم ہارے ...

مزید پڑھیے

گزشتہ اہل سفر کو جہاں سکون ملا

گزشتہ اہل سفر کو جہاں سکون ملا نہ جانے کیوں ہمیں ان منزلوں پہ خون ملا خراب وقت ہے اب فاصلہ ہی بہتر ہے کبھی ملیں گے جو ماحول پر سکون ملا کبھی زمانے سے مانگا تھا پیکر شیریں تراشنے کو ہمیں کوہ بے ستون ملا وہ رامؔ نخل وفا ہے میں برگ آوارہ اسے جمود ملا ہے مجھے جنون ملا

مزید پڑھیے
صفحہ 1701 سے 6203