مجھے کیف ہجر عزیز ہے تو زر وصال سمیٹ لے
مجھے کیف ہجر عزیز ہے تو زر وصال سمیٹ لے میں جو تیرا کوئی گلہ کروں مری کیا مجال سمیٹ لے مرے حرف و صوت بھی چھین لے مرے صبر و ضبط کے ساتھ تو مرا کوئی مال برا نہیں میرا سارا مال سمیٹ لے یہ تمام دن کی مسافتیں یہ تمام رات کی آفتیں مجھے ان دنوں سے نجات دے مرا یہ وبال سمیٹ لے سبھی ریزہ ...