قومی زبان

مرغے نے جھوٹ بولا

مرغے نے جھوٹ بولا مرغے کی چوں چوں ہو گئی بکری نے جھوٹ بولا بکری کی پوں پوں ہو گئی متھرا میں تین بندر جاتے تھے روز مندر کہتا جو بات پجاری رکھتے وہ یاد ساری برا کبھی نہ دیکھو برا کبھی نہ بولو بات جہاں ہو بری کان وہاں نہ کھولو جس نے برائی سیکھی اس کی تو یوں یوں ہو گئی دلی کا ایک ...

مزید پڑھیے

تنہائی کا زخم تھا کیسا سناٹوں نے بھرا نمک

تنہائی کا زخم تھا کیسا سناٹوں نے بھرا نمک ایسا چھلکا زخم کہ سارا پلکوں سے بہہ گیا نمک حلوے مانڈے سب میٹھے تھے کھا پی کر وہ بھول گئے تلخ عناصر کا سنگم تھا رگ رگ میں رہ گیا نمک زخموں کے گل کیا دھوئے گی رت رسیا برسات جہاں ہر موسم ہر آن بکھیرے چلتی پھرتی ہوا نمک انگڑائی کی محرابوں ...

مزید پڑھیے

کس نے کہا تھا شہر میں آ کر آنکھ لڑاؤ دیواروں سے

کس نے کہا تھا شہر میں آ کر آنکھ لڑاؤ دیواروں سے سایہ سایہ بھٹک بھٹک اب سر ٹکراؤ دیواروں سے گھات کی پلکیں جھپک رہے ہیں کھل کھل کر انجان دریچے زخموں کے اب پھول سمیٹو پتھر کھاؤ دیواروں سے قطع نظر کے بعد بھی اکثر بڑھ جاتی ہے دل کی دھڑکن آنکھ اٹھائے کیا بنتا ہے دل ہی اٹھاؤ دیواروں ...

مزید پڑھیے

سائے سے حوصلے کے بدکتے ہیں راستے

سائے سے حوصلے کے بدکتے ہیں راستے آگے بڑھوں تو پیچھے سرکتے ہیں راستے آنسو ہزار ٹوٹ کے برسیں تو پی کے چپ اک قہقہہ اڑے تو کھنکتے ہیں راستے سمجھو تو گھر سے گھر کا تعلق انہی سے ہے دیکھو تو بے مقام بھٹکتے ہیں راستے دامن میں ان کے پاؤں کے ایسے نشاں بھی ہیں رہ رہ کے جن کے دم سے دمکتے ...

مزید پڑھیے

یہ دلی

صدیوں کی حکایت کا کردار ہے دلی تاریخ کے فن کار کا شہکار ہے دلی تہذیب و تمدن کا روایات کا مرکز اقلیم وفا قبلۂ اقدار ہے دلی قرنوں کی ثقافت ہے یہاں اب بھی ہمکتی ہر دور کا گہوارۂ آثار ہے دلی اجڑی ہے کئی بار تو ابھری ہے کئی بار اے گردش دوراں ترا آکار ہے دلی محبوب ہے ہر زاویۂ نقد و ...

مزید پڑھیے

حسیں تجھ سے ترا حسن طلب تھا

حسیں تجھ سے ترا حسن طلب تھا میں اپنے آپ کو حاصل ہی کب تھا ادب ملحوظ تا حد ادب تھا میں بینا بھی جو نا بینا لقب تھا میں اپنے آپ سے بچھڑا تو جانا نہ ملنا بھی ترے ملنے کا ڈھب تھا ترے غم کی مسرت اللہ اللہ جو نم دیدہ تھا وہ خندہ بہ لب تھا ازل سے یوں تجھے سب جانتے ہیں کوئی پہچانتا اب ہے ...

مزید پڑھیے

جو بھی دینا ہے وہ خدا دے گا

جو بھی دینا ہے وہ خدا دے گا آدمی آدمی کو کیا دے گا اپنے احساس میں اتار اسے قرب کا لطف فاصلہ دے گا بھیڑ کو چیر کر مقام بنا ورنہ عالم نا راستہ دے گا خامۂ عدل بک گیا تو بکے وقت خود فیصلہ بنا دے گا میرے گھر کو اجاڑنے والے جا تجھے آسماں سزا دے گا آگ دے گا زمانہ گھر کو مرے اور شعلوں ...

مزید پڑھیے

ذرہ انسان کبھی دشت نگر لگتا ہے

ذرہ انسان کبھی دشت نگر لگتا ہے بعض اوقات ہمیں ایسا بھی ڈر لگتا ہے ہم نشیں تیری بھی آنکھوں میں جھلکتا ہے دھواں تو بھی منجملۂ ارباب نظر لگتا ہے کوئی لیتا ہے ترا نام تو رک جاتا ہوں اب ترا ذکر بھی صدیوں کا سفر لگتا ہے ہم پہ بیداد گرو سنگ اٹھانا ہے فضول کہیں افتادہ درختوں پہ ثمر ...

مزید پڑھیے

زنداں میں بھی وہی لب و رخسار دیکھتے

زنداں میں بھی وہی لب و رخسار دیکھتے دروازہ دیکھتے کبھی دیوار دیکھتے پستی نشین ہو کے میں کتنا بلند تھا گردن جھکا کے تم مرا معیار دیکھتے سب دوڑتے تھے اس کی عیادت کے واسطے جس کو ذرا سا نیند سے بیدار دیکھتے دل بیٹھنے لگے تو نگاہیں بھی تھک گئیں کب تک تری طرف ترے بیمار دیکھتے کس ...

مزید پڑھیے

کسی مرقد کا ہی زیور ہو جائیں

کسی مرقد کا ہی زیور ہو جائیں پھول ہو جائیں کہ پتھر ہو جائیں خشکیاں ہم سے کنارا کر لیں تم اگر چاہو سمندر ہو جائیں تو نے منہ پھیرا تو ہم ایسے لگے جس طرح آدمی بے گھر ہو جائیں یہ ستارے یہ سمندر یہ پہاڑ کس طرح لوگ برابر ہو جائیں اپنا حق لوگ کہاں چھوڑتے ہیں دوست بن جائیں برادر ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1700 سے 6203