قومی زبان

تہہ و بالا جہاں کو کر رکھا ہے اپنی اودھم سے

تہہ و بالا جہاں کو کر رکھا ہے اپنی اودھم سے سوا اس کے کہیں ہم کیا خدا ہی سمجھے ویلیم سے بہار جرمنی اب کوئی دم میں ہوتی ہے آخر نہیں یہ وار اس کے حق میں کم ونڈ آف آٹم سے جو مارے جانے سے بچ بھی گئے اس جنگ یورپ میں وہ بے شک بہرے ہو جائیں گے توپوں کی دھما دھم سے ہوئیں تعلیم پا کر بیبیاں ...

مزید پڑھیے

ہو رہے ہیں نت نئے قانون جاری ان دنوں

ہو رہے ہیں نت نئے قانون جاری ان دنوں چل رہی ہے دل پہ عالم کے کٹاری ان دنوں ٹیکس کی بھر مار سے ماتم ہے سارے ہند میں کچھ سنی جاتی نہیں فریاد و زاری ان دنوں حاکمان ہند کو اپنی ہی عشرت سے ہے کام کون کرتا ہے ہماری غم گساری ان دنوں مال و عزت جاہ و منصب اپنے سب جاتے رہے رہ گئی ہے صرف ان ...

مزید پڑھیے

گئے دنوں کی مسافرت کا بہ یک قلم اشتہار لکھنا

گئے دنوں کی مسافرت کا بہ یک قلم اشتہار لکھنا مرے پسینے کا پیار لکھنا لہو کا اپنے قرار لکھنا عجب ہے کیا میری سمت آ کر تمام پتھر مہک اٹھیں گے تمہارے اطراف کس قدر ہے مرے خطوں کا حصار لکھنا دلیل چاہے اگر قلم میری طرح آنکھوں کو موند لینا تمام اندھی نگاہ والوں کو بے جھجک شب گزار ...

مزید پڑھیے

تال سوچیں نہ سمندر سوچیں

تال سوچیں نہ سمندر سوچیں صرف اک موج منور سوچیں شور بازار سے ہٹ کر بیٹھیں اپنے اندر جو ہے محشر سوچیں پس در نکلے حقارت کہ پسند دستکیں دی ہیں تو کیوں کر سوچیں ہم بھی ساکت ہیں جمود ان پر بھی خود کو بت سمجھیں کہ آذر سوچیں ہم کہاں اور کہاں چور قدم شہہ کوئی پائیں تو کھل کر سوچیں خوب ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں زندگی کے تماشے اچھال کر

آنکھوں میں زندگی کے تماشے اچھال کر اے غربت نگاہ نہ اتنے سوال کر رہنے دے آسمان کو اک پردۂ خیال لیکن زمیں کو سایۂ جنت بحال کر کوئی طلب نہیں ہے تری بارگاہ سے ہم بے خیال آئے ہیں اتنا خیال کر آرام جاں ہیں ہم کو یہی سرسراہٹیں پچھتانے والے ہم نہیں سانپوں کو پال کر آ رکھ دے ہاتھ ...

مزید پڑھیے

حیرت

پیار تمہارا جوہی کی بیلوں سے لپٹا ایک دریچہ خوشبو خوشبو چاند تاروں تاروں رات کی ٹھنڈک صبح کا تازہ کہرا پیاسوں کی مقبول دعا یا رم جھم رم جھم بارش صحرائی دھوپوں سے جھلسا میں ریتیلا پیکر میری آنکھیں مٹی پتھر دھول میں مہماں منظر جانے تم نے کیوں کر سوچا کہرے سے مٹی بھیگے گی بارش میں ...

مزید پڑھیے

عوامی صبح

عوامی صبح پھر آئی زمیں نے کر لیا رخ اپنا پھر سورج کے اس نقطے کی جانب جہاں یاران ہم مجلس نے امیدوں کی کرنوں کا سہانا روپ دیکھا تھا کئی صدیوں کی ظلمت کی تہوں سے کنواری دھوپ کا گھونگھٹ اٹھایا تھا قفس کی کھپچیوں پر لیٹ کر آزاد آنکھوں سے کئی سپنے بنے تھے جہاں سے اک نئے احساس کا ہالا ...

مزید پڑھیے

گردش

سراپا آگ کا مٹی کے پیکر کو گھلائے جا رہا ہے زمیں کے جسم کا سایہ خلاؤں سے پلٹ کر اسی کے اپنے آدھے جسم کو ہر لمحہ کالا کر رہا ہے یہی جادو مسلط ہے ازل سے کئی پگڈنڈیوں کا جال سا پھیلا ہوا ہے گزر گاہوں کے کچھ شفاف کچھ موہوم خاکے ہمیں گرم سفر رکھے ہوئے ہیں سراپا آگ کا

مزید پڑھیے

اتنا نزدیک ہوا جتنا اسے دور کیا

اتنا نزدیک ہوا جتنا اسے دور کیا پھر اسی شخص کی نفرت مجھے مشہور کیا رت جگا چھوڑ میں اس شرط پہ اب سویا تھا نیند کے ساتھ ترا خواب بھی منظور کیا خامشی صبر کی حدت سے پگھل سکتی تھی تیری چوپال کے آداب نے مجبور کیا تشنگی اور بڑھی جسم کو جب ڈھانپا گیا آنکھ نے وقت کی تمثیل کو مخمور ...

مزید پڑھیے

دیتا ہے مجھ کو چرخ کہن بار بار داغ

دیتا ہے مجھ کو چرخ کہن بار بار داغ اف ایک میرا سینہ ہے اس پر ہزار داغ دیتے ہیں میرے سینے میں کیا ہی بہار داغ کھائے نہ ان کو دیکھ کے کیوں لالہ زار داغ لالہ کرے گا دل کی مرے کیا برابری اس پر ہے ایک داغ یہاں بے شمار داغ دنیا کے سارے صدمے ہیں کم ہجر یار سے دے مدعی کو بھی نہ یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1673 سے 6203