قومی زبان

بھلے دن آئیں تو آنے والے برے دنوں کا خیال رکھنا

بھلے دن آئیں تو آنے والے برے دنوں کا خیال رکھنا تمام خوشیوں کے جمگھٹوں میں بھی تھوڑا تھوڑا ملال رکھنا وہ جا رہا ہو تو واپسی کے تمام امکان جان لینا جو لوٹ آئے تو کیسے گزری یہ اس سے پہلا سوال رکھنا اگر کبھی یوں لگے کہ سب کچھ اندھیری راتوں کے داؤ پر ہے تو ایسی راتوں میں ڈر نہ جانا ...

مزید پڑھیے

اس تگ و دو نے آخرش مجھ کو نڈھال کر دیا

اس تگ و دو نے آخرش مجھ کو نڈھال کر دیا جینے کے اہتمام نے جینا محال کر دیا اب ہم اسیر زلف ہیں کس کے کسی کو کیا غرض اس نے تو اپنی قید سے ہم کو بحال کر دیا بزم طرب سجائیں کیا اب ہم ہنسیں ہنسائیں کیا تم نے تو ہم کو جان جاں وقف ملال کر دیا شعر و سخن کا اک ہنر رکھتے تھے ہم سو شکر ہے کچھ دل ...

مزید پڑھیے

یہ واقعہ تو لگے ہے سنا ہوا سا کچھ

یہ واقعہ تو لگے ہے سنا ہوا سا کچھ ہر ایک شخص کہے ہے کہا ہوا سا کچھ وہ گہرے گہرے سبھی زخم بھر گئے جب سے نیا سا درد لگے ہے سہا ہوا سا کچھ یہ تیز و تند ہوائیں اڑا ہی لے جائیں اگر بچا کے نہ رکھوں بچا ہوا سا کچھ کراہنے کی صدائیں بھی اب نہیں آتیں تمام شہر لگے ہے ڈرا ہوا سا کچھ ہر ایک ...

مزید پڑھیے

خموش جھیل میں گرداب دیکھ لیتے ہیں

خموش جھیل میں گرداب دیکھ لیتے ہیں سمندروں کو بھی پایاب دیکھ لیتے ہیں ذرا جو عظمت رفتہ پہ حرف آنے لگے تو اک بچی ہوئی محراب دیکھ لیتے ہیں اچٹتی نیند سے حاصل بھی اور کیا ہوگا کٹے پھٹے ہوئے کچھ خواب دیکھ لیتے ہیں ہمیں بھی جرأت گفتار ہونے لگتی ہے جو ان کے لہجے کو شاداب دیکھ لیتے ...

مزید پڑھیے

میں دشت شعر میں یوں رائیگاں تو ہوتا رہا

میں دشت شعر میں یوں رائیگاں تو ہوتا رہا اسی بہانے مگر کچھ بیاں تو ہوتا رہا کوئی تعلق خاطر تو تھا کہیں نہ کہیں وہ خوش گماں نہ سہی بد گماں تو ہوتا رہا اسے خبر ہی نہیں کتنے لوگ راکھ ہوئے وہ اپنے لہجے میں آتش فشاں تو ہوتا رہا نہ احتیاج کے نالے نہ احتجاج کی لے بس ایک ہمہمۂ رائیگاں تو ...

مزید پڑھیے

موسم کے مطابق کوئی ساماں بھی نہیں ہے

موسم کے مطابق کوئی ساماں بھی نہیں ہے اور رت کے بدل جانے کا امکاں بھی نہیں ہے ڈھونڈو تو خوشی کا کوئی پل ہاتھ نہ آئے دیکھو تو یہاں کوئی پریشاں بھی نہیں ہے رشتے میں وہ پہلی سی تڑپ اب نہیں ملتی ہاں یوں تو بظاہر وہ گریزاں بھی نہیں ہے بس چھت کے شگافوں کو پڑے گھورتے رہئے یارا بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

پیارا سا خواب نیند کو چھو کر گزر گیا

پیارا سا خواب نیند کو چھو کر گزر گیا مایوسیوں کا زہر گلے میں اتر گیا آنکھوں کو کیا چھلکنے سے روکا غضب ہوا لگتا ہے سارا جسم ہی اشکوں سے بھر گیا دیکھے تہہ چراغ گھنی ظلمتوں کے داغ اور میں فزون کیف و مسرت سے ڈر گیا تنہائیاں ہی شوق سے پھر ہم سفر ہوئیں جب نشۂ جنون رفاقت اتر گیا کوچے ...

مزید پڑھیے

ہر لفظ اس کے منہ سے جو نکلا بھلا لگا

ہر لفظ اس کے منہ سے جو نکلا بھلا لگا ہر وہ لباس اس نے جو پہنا نیا لگا رہتا ہے پتھروں کے نگر میں وہ سنگ دل بے فائدہ ہے در پہ نہ اس کے صدا لگا بے چہرہ بے لباس ہیں بستی کے سارے لوگ کیسی حیا یہاں پہ نہ بند قبا لگا صورت سے اس کی مجھ کو ہے نفرت مگر یہ کیا تصویر سے اسی کی مرا گھر سجا ...

مزید پڑھیے

مری شناخت کے ہر نقش کو مٹاتا ہے

مری شناخت کے ہر نقش کو مٹاتا ہے وہ میرے سائے کو مجھ سے جدا دکھاتا ہے بس ایک پل میں مٹا دیں گی سر پھری موجیں گھروندے ریت کے ساحل پہ کیوں بناتا ہے فضا میں کمرے کی پھیلی ہوئی ہے اک خوشبو یہ کون آ کے کتابیں مری سجاتا ہے یہی ملا ہے صلہ مجھ کو حق پرستی کا کہ وقت نیزے پہ سر کو مرے اٹھاتا ...

مزید پڑھیے

کہنے کو یہاں جینے کا سامان بہت ہے

کہنے کو یہاں جینے کا سامان بہت ہے اک تو جو نہیں زندگی ویران بہت ہے ملتا ہے سر راہ تو کتراتا ہے مجھ سے اب اپنے کیے پہ وہ پشیمان بہت ہے چہرے کے تأثر سے تو لگتا ہے کہ خوش ہے گر روح میں جھانکو تو پریشان بہت ہے پھینک آیا تھا وہ مجھ کو کسی اندھی گپھا میں منزل پہ مجھے پا کے وہ حیران بہت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1656 سے 6203