قومی زبان

رکے ہوئے ہیں جو دریا انہیں روانی دے

رکے ہوئے ہیں جو دریا انہیں روانی دے تو اپنے ہونے کی مجھ کو کوئی نشانی دے پلٹ کے دیکھ لوں تجھ کو تو سنگ ہو جاؤں مرے یقین کو ایسی کوئی کہانی دے میں شاہ کار ہوں تیرا تو اے خدا اک دن یہ مژدہ آ کے مرے رو بہ رو زبانی دے وہ میرے خوابوں کو آنکھوں سے چھین لیتا ہے اسے نہ شہر تمنا کی حکمرانی ...

مزید پڑھیے

مری شکست کا کتنا عجیب منظر تھا

مری شکست کا کتنا عجیب منظر تھا کہ قتل میں ہی ہوا میرے ہاتھ خنجر تھا تمام شہر اندھیروں کی نذر کیسے ہوا ابھی تو کل ہی چراغاں یہاں پہ گھر گھر تھا نہتا ہو کے میں سورج سے کس طرح لڑتا کہ اس کے ہاتھ میں کرنوں کا ایک لشکر تھا مرے وجود سے قائم ہے زندگی تو بھی وگرنہ مجھ میں کوئی وصف تھا نہ ...

مزید پڑھیے

اپنی قسمت کے ہوئے سارے ستارے پتھر

اپنی قسمت کے ہوئے سارے ستارے پتھر پھول دامن میں ترے اور ہمارے پتھر ہم بھی عیسیٰ کی طرح تم سے یہی کہتے ہیں جو گناہ گار نہیں ہے وہی مارے پتھر حق نہ مل پائے مشقت کا تو ہوتا ہے یہی ظلم کے سامنے ہوتے ہیں سہارے پتھر معجزہ عشق کا یہ بھی ہے زمانے والو میرے آنگن میں ہوئے پھول تمہارے ...

مزید پڑھیے

یہ چھو کر مجھے کون جانے لگا

یہ چھو کر مجھے کون جانے لگا بدن میں لہو سرسرانے لگا ہوا جب بھی ذکر وفا بزم میں وہ مجھ سے نگاہیں چرانے لگا جو سویا ہے مجھ میں وہ بیدار ہو کوئی ضرب ایسی زمانے لگا میں اب ختم ہوتا ہوں اے زندگی مری خاک کو لے ٹھکانے لگا میں حرف غلط تو نہیں اے ظفرؔ زمانہ مجھے کیوں مٹانے لگا

مزید پڑھیے

کیسا ہے میرا عکس نہیں دیکھنا مجھے

کیسا ہے میرا عکس نہیں دیکھنا مجھے لگتی ہے میری ذات ہی خود آئینہ مجھے اپنا ہی بن سکا نہ کسی کا میں ہو سکا خود آگہی کے زعم نے دھوکا دیا مجھے مل کر میں اس سے آئنہ خانے میں جب گیا حیرت سے تک رہا تھا ہر اک آئنہ مجھے دیر و حرم کی راہ فراموش ہو گئی تیری تلاش نے یہ کہاں گم کیا مجھے اب ...

مزید پڑھیے

شام کی اڑان

شام کے سرمئی اندھیرے میں اک پرندہ اڑان بھرتا ہے چاہتا ہے کسی کا ساتھ ملے رات کی بے قراریوں کا عذاب یاد کر کے وہ کانپ اٹھتا ہے اس لیے شام کے دھندلکے میں گھونسلے کو وہ چھوڑ دیتا ہے اور مسلسل سفر میں رہتا ہے لیکن اس کا سفر سدا کی طرح تشنگی کا عذاب سہتا ہے

مزید پڑھیے

جنگل کی لکڑیاں

پہاڑی راستوں پر لکڑیوں کی گٹھریاں سر پر سنبھالے جا رہا ہے آدی واسی عورتوں کا قافلہ یہ قافلہ کچھ دور جا کر گاؤں کے بازار میں ٹھہرے گا اور پھر لکڑیاں سر سے اتاری جائیں گی خوب صورت جنگلوں سے کاٹ کر لائی گئی یہ لکڑیاں بازار کی زینت بنیں گی لکڑیوں کا بوجھ ڈھو کر لانے والی عورتیں خاموش ...

مزید پڑھیے

تجھ سے قریب تر تری تنہائیوں میں ہوں

تجھ سے قریب تر تری تنہائیوں میں ہوں دھڑکن ہوں تیرے قلب کی گہرائیوں میں ہوں دکھ ہے کہ تیری ذات میں شامل تھا میں کبھی اور آج تیرے جسم کی پرچھائیوں میں ہوں خودبیں نہ بن بغور ذرا آئنہ تو دیکھ میں بھی تو تیرے حسن کی رعنائیوں میں ہوں لٹکا ہوں میں صلیب پہ ہر عہد کی طرح اس جرم پر کہ وقت ...

مزید پڑھیے

مری شناخت کے ہر نقش کو مٹاتا ہے

مری شناخت کے ہر نقش کو مٹاتا ہے وہ میرے سائے کو مجھ سے جدا دکھاتا ہے بس ایک پل میں مٹا دیں گی سرپھری موجیں گھروندے ریت کے ساحل پہ کیوں بناتا ہے فضا میں کمرے کی پھیلی ہوئی ہے اک خوشبو یہ کون آ کے کتابیں مری سجاتا ہے یہی ملا ہے صلہ مجھ کو حق پرستی کا کہ وقت نیزے پہ سر کو مرے اٹھاتا ...

مزید پڑھیے

چاند تنہا ہے کہکشاں تنہا

چاند تنہا ہے کہکشاں تنہا ہجر کی رات آسماں تنہا بھاگتی ریل شور سناٹا رہ گئی بے صدا زباں تنہا رنگ اور نور سے رہے محروم ہم فقیروں کے آستاں تنہا کیسی نفرت کی آگ پھیلی ہے جل رہا ہے مرا مکاں تنہا آندھیاں بجلیاں شجر کمزور بچ نہ پائے گا آشیاں تنہا تھک کے سب سو گئے ہیں محفل میں خود ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1657 سے 6203