قومی زبان

اس اعتبار سے وہ زود رنج اچھا ہے

اس اعتبار سے وہ زود رنج اچھا ہے خفا بھی ہو تو مرے ساتھ ساتھ رہتا ہے میں آفتاب بدن کا قصیدہ لکھتا ہوں وہ میری روح کو پوشاک نور دیتا ہے عصائے صبر سے رستہ بنا لیا ہم نے کبھی جو راہ میں دریائے جبر آیا ہے سر نگاہ بھی راشدؔ دھنک دھنک پیکر پس سحاب بھی اک چاند چاند سایا ہے

مزید پڑھیے

معلوم ہے وہ مجھ سے خفا ہے بھی نہیں بھی

معلوم ہے وہ مجھ سے خفا ہے بھی نہیں بھی میرے لیے ہونٹوں پہ دعا ہے بھی نہیں بھی مدت ہوئی اس راہ سے گزرے ہوئے اس کو آنکھوں میں وہ نقش کف پا ہے بھی نہیں بھی منہ کھول کے بولا نہیں جاتا کہ شفا دے اس پاس مرے دل کی دوا ہے بھی نہیں بھی کہتے تھے کبھی ہم کہ خدا ہے تو کہاں ہے اب سوچ رہے ہیں کہ ...

مزید پڑھیے

درد اپنا تھا تو اس درد کو خود سہنا تھا

درد اپنا تھا تو اس درد کو خود سہنا تھا نہ کسی اور سے دکھ اپنا کبھی کہنا تھا غلطی کی کہ مروت میں مصیبت جھیلی ظلم برداشت ہی کرنا تھا نہ چپ رہنا تھا اشک بن کر جو نہ بہتا تو رگوں میں بہتا کسی صورت سے لہو تھا تو اسے بہنا تھا شبہ ہوتا تھا کہ ہے رنگ بدن یا ملبوس بے لباسی تھی لباس اس نے ...

مزید پڑھیے

حسن ہو عشق کا خوگر مجھے رہنے دیتے

حسن ہو عشق کا خوگر مجھے رہنے دیتے تم ہو منظر پس منظر مجھے رہنے دیتے مجھ سے تہذیب ریا کار کی تزئیں کیوں کی نا تراشیدہ تھا پتھر مجھے رہنے دیتے میں نے کب چاہا کہ قید در و دیوار ملے میں تو آوارہ ہوں بے گھر مجھے رہنے دیتے وقت و حالات سے خواہش تھی فقط چند ہی روز قید لمحات سے باہر مجھے ...

مزید پڑھیے

آئنے سے مکر گیا کوئی

آئنے سے مکر گیا کوئی مجھ پہ الزام دھر گیا کوئی زندگی لے تجھے مبارک ہو جیتے جی آج مر گیا کوئی عمر بھر جی رہا تھا مر مر کے پھر بھی مرنے سے ڈر گیا کوئی مانگنے کو جو ہاتھ پھیلایا ریزہ ریزہ بکھر گیا کوئی ساتھ تھا رنج خوش دلی آزرؔ رات جب اپنے گھر گیا کوئی

مزید پڑھیے

نہیں ہے جب کوئی منزل تو راہ عام پہ چل

نہیں ہے جب کوئی منزل تو راہ عام پہ چل جہاں پہ موت ہے تیری اسی مقام پہ چل یہ التماس نقاہت ہے گھر میں کر آرام ضرورتوں کا تقاضہ ہے پہلے کام پہ چل ابل پڑیں گے مئے ناب کے کئی چشمے برہنہ پا تو کسی دن شکستہ جام پہ چل پرانے وقت کی قدروں کو بھول جا راشدؔ جدید دور کے بدلے ہوئے نظام پہ چل

مزید پڑھیے

یہ خیال اور خواب کی دنیا

یہ خیال اور خواب کی دنیا ایسی جیسے کتاب کی دنیا میرے دل میں حرم سرائے ہے جیسے بوڑھے نواب کی دنیا منتقل ہو کے عہد پیری میں یاد آئی شباب کی دنیا کیا تقابل ہے میری دنیا سے وہ ہے عالی جناب کی دنیا ان کے ہم بھی قریب رہتے ہیں یار یہ ہے گلاب کی دنیا اب تو ہونا ہے بس عمل پیرا چھوڑ آئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1644 سے 6203