قومی زبان

حیات دی تو اسے غم کا سلسلہ بھی کیا

حیات دی تو اسے غم کا سلسلہ بھی کیا قضا کے ساتھ قدر کو مری سزا بھی کیا اسی نے در بہ دری کو نئی تلاش بھی دی برا تو اس نے کیا ہی مگر بھلا بھی کیا بغیر مانگے ہی دینا ہے شان مولائی مرا وقار بھی رکھا مجھے عطا بھی کیا تضاد اس کی محبت کا میں ہی جانتا ہوں جلایا دھوپ میں آنچل کا آسرا بھی ...

مزید پڑھیے

تمہارا نام لے کر در بہ در ہوتا رہوں گا

تمہارا نام لے کر در بہ در ہوتا رہوں گا کہ برسوں داغ دل اشکوں سے میں دھوتا رہوں گا تو خوشیاں ہی سمیٹ اور غم مجھے دے دے میں ہوں نا ترے حصے کی غمگینی کو میں روتا رہوں گا جگایا منتظر آنکھوں نے برسوں اب یہ سوچا کہ مرنے کا بہانہ کر کے میں سوتا رہوں گا مجھے بس ایک لمحہ سوچنے دو زندگی ...

مزید پڑھیے

وہی تعلق خاطر جو برق و باد میں ہے

وہی تعلق خاطر جو برق و باد میں ہے دل ستم زدہ کی حسرت و مراد میں ہے ہر ایک عہد کی ہوتی ہے اک خصوصیت ہمارے دور میں یکسانیت تضاد میں ہے کسی نتیجے پہ پہنچے ہیں غور‌ و فکر کے بعد تو یہ کہ سارا جہاں ایک گرد باد میں ہے اگر نظر ہو تو پڑھ لو پیام بیداری فصیل شہر پہ لکھا ہوا فساد میں ہے وہ ...

مزید پڑھیے

عجیب جنبش لب ہے خطاب بھی نہ کرے

عجیب جنبش لب ہے خطاب بھی نہ کرے سوال کر کے مجھے لا جواب بھی نہ کرے وہ میرے قرب میں دوری کی چاشنی رکھے مرے لیے مرا جینا عذاب بھی نہ کرے کبھی کبھی مجھے سیراب کر کے خوش کر دے ہمیشہ گمرہ سحر سراب بھی نہ کرے عجیب برزخ الفت میں مجھ کو رکھا ہے کہ وہ خفا بھی رہے اور عتاب بھی نہ کرے وہ ...

مزید پڑھیے

زندگی جو کہہ نہ پائی رہ گئی

زندگی جو کہہ نہ پائی رہ گئی موت وہ ساری کہانی کہہ گئی رات بھر اس کا فسانہ لکھ کے ہم اتنا روئے سب کتابت بہہ گئی ہچکیوں میں دب گیا اس کا سوال جیسے اک دستک ادھوری رہ گئی قرب کے صدمے ہوں یا دوری کا غم جتنا سہنا تھا محبت سہہ گئی جب بھی آذرؔ دل سے نکلی کوئی بات دل کی گہرائی میں تہہ ...

مزید پڑھیے

باز بھی آؤ یاد آنے سے

باز بھی آؤ یاد آنے سے کیا ملے گا ہمیں ستانے سے خون دل سے دیے جلائے ہیں ہو کے گزرو غریب خانے سے کیسی بے رونقی ہے محفل میں ایک اس کے یہاں نہ آنے سے در دل وا کیا تو وہ آئے کون آتا ہے یوں بلانے سے تجھ سے بچھڑے تو کب یہ سوچا تھا اس قدر ہوں گے بے ٹھکانے سے ہم تو حیران ہیں کہ کیوں ہم ...

مزید پڑھیے

صبح قیامت جن ہونٹوں پہ دلاسے دیکھے

صبح قیامت جن ہونٹوں پہ دلاسے دیکھے کیا لب دریا ان جیسے بھی پیاسے دیکھے کون وفا کی منزل سے اس شان سے گزرا چاک قبا دیکھے جو کوئی بلا سے دیکھے ہاتھوں میں میزان لبوں پر حکم قضا ہے حاکم شہر بھی اکثر ہم نے خدا سے دیکھے دیکھنے والے یوں تو بہت دیکھے ہیں لیکن مر جاؤں جو کوئی تیری ادا سے ...

مزید پڑھیے

رشتۂ دل بھی کسی دن خواب سا ہو جائے گا

رشتۂ دل بھی کسی دن خواب سا ہو جائے گا تیرے میرے درمیاں وہ فاصلہ ہو جائے گا پیلی پیلی رت جدائی کی اچانک آئے گی قربتوں کا سبز موسم بے وفا ہو جائے گا آئینے رنگوں کے خالی چھوڑ جائے گی دھنک حیرتیں رہ جائیں گی منظر جدا ہو جائے گا کیا نشانہ ٹھیک بیٹھے گا ہوائے تیز میں جو کماں سے تیر ...

مزید پڑھیے

کسے ہے لوح وقت پر دوام سوچتے رہے

کسے ہے لوح وقت پر دوام سوچتے رہے لکھے ہوئے تھے کیسے کیسے نام سوچتے رہے رہ حیات میں رکا ہے کون کتنی دیر کو؟ مسافروں کا وقفۂ قیام سوچتے رہے کسے خبر ہے جلوہ گاہ یار تک پہنچنے کو سیاہ کتنے پڑتے ہیں مقام سوچتے رہے اجڑ کے دل بسا نہیں بچھڑ کے وہ ملا نہیں عذاب ہے کہ ہجر صبح و شام سوچتے ...

مزید پڑھیے

موسم گل بھی مرے گھر آیا

موسم گل بھی مرے گھر آیا جانے والا نہ پلٹ کر آیا آج یوں دل نے بہائے آنسو آنکھ سے اشک نہ باہر آیا لٹ گئی ضبط کی بستی آخر تیری یادوں کا جو لشکر آیا آنکھ اب تیری جدائی پہ کھلی ہوش میں تجھ کو گنوا کر آیا ایک ہی نقش میں تھے نقش تمام سامنے پھر نہ وہ منظر آیا دھوپ میں اس کی محبت کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1643 سے 6203