حیات دی تو اسے غم کا سلسلہ بھی کیا
حیات دی تو اسے غم کا سلسلہ بھی کیا قضا کے ساتھ قدر کو مری سزا بھی کیا اسی نے در بہ دری کو نئی تلاش بھی دی برا تو اس نے کیا ہی مگر بھلا بھی کیا بغیر مانگے ہی دینا ہے شان مولائی مرا وقار بھی رکھا مجھے عطا بھی کیا تضاد اس کی محبت کا میں ہی جانتا ہوں جلایا دھوپ میں آنچل کا آسرا بھی ...