قومی زبان

سیرابی

بے مہرئی دنیا کی کڑی دھوپ میں اکثر دیکھا ہے کہ جھلسا دیا جب غم کی تپش نے مرجھا دیا جب درد کی شدت نے بدن کو اور ہونٹ دم باز پسیں سے لرز اٹھے چھایا ہے گھٹا ٹوپ تیرے پیار کا بادل برسی ہے دھواں دھار ترے لطف کی بارش تو نے مجھے اس طرح بھی سیراب کیا ہے

مزید پڑھیے

سفر

یہ مانا چند لمحوں کی رفاقت بھی بہت ہے آج کل لیکن مرے اندر کا سناٹا کبھی دیکھو تو جانو گے کہ میں کیوں نیند کی خاموش تاریکی سے ڈرتا ہوں کئی دن سے تو میں نے خواب بھی ڈر ڈر کے دیکھے ہیں جو سناٹے کا عادی ہو گیا ہو اس کے کانوں کو خزاں میں پیڑ سے ٹوٹے ہوئے پتوں کے گرتے وقت ہلکی سی تڑپنے کی ...

مزید پڑھیے

مرتے نہیں اب عشق میں یوں تو آتش فرقت اب بھی وہی ہے

مرتے نہیں اب عشق میں یوں تو آتش فرقت اب بھی وہی ہے طور جنوں کے بدلے لیکن سوز محبت اب بھی وہی ہے عمر کی اس منزل پر بھی ہم تجھ پر جان نچھاور کر دیں گو وہ گرمی خوں میں نہیں ہے دل میں قیامت اب بھی وہی ہے تم کیا جانو جینا مرنا ہم نے کن شرطوں پر سیکھا آج بھی ایسے لوگ ہیں جن میں شوق شہادت ...

مزید پڑھیے

منتظر آنکھوں میں جمتا خوں کا دریا دیکھتے

منتظر آنکھوں میں جمتا خوں کا دریا دیکھتے تم نہیں آتے تو ساری عمر رستہ دیکھتے وسعت کون و مکاں اس ریگزار دل میں ہے آرزو ہے تم بھی آ کر دل کا صحرا دیکھتے اپنے مرنے کی خبر اک دن اڑاتے کاش ہم چاہنے والوں کا اپنے پھر تماشا دیکھتے سر پہ سورج آ گیا پھر بھی نہ کھولی ہم نے آنکھ صبح اٹھتے ...

مزید پڑھیے

چاہت تمہاری سینے پہ کیا گل کتر گئی

چاہت تمہاری سینے پہ کیا گل کتر گئی کس خوش سلیقگی سے جگر چاک کر گئی رکھی تھی جو سنبھال کے تو نے سلامتی وہ تیرے بعد کس کو پتا کس کے گھر گئی جو زندگی سمیٹ کے رکھی تھی آج تک اک لمحۂ خفیف میں یکسر بکھر گئی بھٹکے ہوئے تھے ایسے کہ گرد سفر کو ہم مڑ مڑ کے دیکھتے رہے منزل گزر گئی اک عمر ...

مزید پڑھیے

یہ بے نوائی ہماری سودائے سر ہے گھر میں بسا دیا ہے

یہ بے نوائی ہماری سودائے سر ہے گھر میں بسا دیا ہے مکان خالی ہے لیکن اس کو نگار خانہ بنا دیا ہے تمام عمر عزیز اپنی اسی طرح سے گنوائی ہم نے کبھی جو سوئے تو خواب دیکھا کسی نے ہم کو جگا دیا ہے نہ کچھ رہا ہے کہ ہم ہی رکھتے نہ کچھ بچا ہے کہ تم کو دیتے متاع دل تھی لٹا کے آئے جو قرض جاں تھا ...

مزید پڑھیے

سایہ تھا میرا اور مرے شیدائیوں میں تھا

سایہ تھا میرا اور مرے شیدائیوں میں تھا اک انجمن سا وہ مری تنہائیوں میں تھا چھنتی تھی شب کو چاندنی بادل کی اوٹ سے پیکر کا اس کے عکس سا پرچھائیوں میں تھا کوئل کی کوک بھی نہ جواب اس کا ہو سکی لہرا ترے گلے کا جو شہنائیوں میں تھا جس دم مری عمارت دل شعلہ پوش تھی میں نے سنا کہ وہ بھی ...

مزید پڑھیے

کم سے کم اپنا بھرم تو نہیں کھویا ہوتا

کم سے کم اپنا بھرم تو نہیں کھویا ہوتا دل کو رونا تھا تو تنہائی میں رویا ہوتا صبح سے صبح تلک جاگتے ہی عمر کٹی ایک شب ہی سہی بھر نیند تو سویا ہوتا ڈھونڈھنا تھا مرے دل کو تو کبھی پلکوں سے میرے اشکوں کے سمندر کو بلویا ہوتا دیکھنا تھا کہ نظر چبھتی ہے کیسے تو کبھی اس کے پیکر میں ...

مزید پڑھیے

فاصلہ رکھو ذرا اپنی مداراتوں کے بیچ

فاصلہ رکھو ذرا اپنی مداراتوں کے بیچ دوریاں بڑھ جائیں گی پیہم ملاقاتوں کے بیچ کیا بھروسہ کم ہوا بے اعتباری بڑھ گئی طنز کا لہجہ در آیا پیار کی باتوں کے بیچ تو بھی میرے عکس کے مانند میرے ساتھ ہے میں اکیلا کب رہا ہوں دکھ بھری راتوں کے بیچ شکوہ سنجی نے خلوص التجا کم کر دیا کچھ ...

مزید پڑھیے

سمجھ رہا ہے تری ہر خطا کا حامی مجھے

سمجھ رہا ہے تری ہر خطا کا حامی مجھے دکھا رہا ہے یہ آئینہ میری خامی مجھے زماں کی قید ہے کوئی نہ ہے مکاں کی خبر کہاں کہاں لیے پھرتی ہے تشنہ کامی مجھے نہیں کہ جرأت اظہار عشق مجھ میں نہیں تباہ کر کے رہی میری نیک نامی مجھے کوئی نہیں مرا سامع اسی میں خوش ہوں میں کہ راس آئی بہت میری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1642 سے 6203