قومی زبان

سایہ

دن بھر کے مصروف قدم جب لوٹ کے گھر کو آتے ہیں تو اپنے ساتھ تھکے شانوں پر شل ہاتھوں کا بار اٹھائے بوجھل آنکھوں کی مدھم بینائی لے کر آؤ آزر سننے کی اک ہلکی سی امید لیے گھر کی دہلیز پہ رک جاتے ہیں اور پرانا دروازہ جب کھلتا ہے تو سب مانوس دریچے بانہیں پھیلا کر ان قدموں کی آہٹ پر آنے ...

مزید پڑھیے

خود احتسابی

کبھی کبھی میں جب اپنے اندر سے جھانکتا ہوں تو میرے باہر کی ساری دنیا مرے مقابل کھڑا ہوا ظالموں کا لشکر دکھائی دیتی ہے اور میں خود کو اپنے باہر کے آدمی کو عجیب سی بے تعلقی سے اک اجنبی بن کے دیکھتا ہوں مگر وہ باہر کا میں اسی ظالموں کے لشکر سے ہے نبرد آزما مسلسل کبھی وہ ظالم پہ حملہ ...

مزید پڑھیے

شاید

میں تو ہر رات یہی سوچ کے سوتا ہوں کہ کل صبح شاید ترے دیدار کا سورج نکلے اور ہر روز ترے خواب لیے آنکھوں میں در بہ در گھومتا پھرتا ہوں کہ دن کٹ جائے اور پھر رات کو جب لوٹ کے آؤں گھر کو منتظر ہو ترا پیکر مرے دروازے پر یا تو پھر کل کی طرح رات گزر جائے مری اور جب صبح کو جاگوں تو تجھی کو ...

مزید پڑھیے

حدود کا دائرہ

شجر حجر ہوں کہ انساں ہوں یا ستارے ہوں سبھی حدود کے اک دائرے میں رہتے ہیں یہ کائنات زمان و مکاں کی قید میں ہے ہر ایک شے ہے عروج و زوال کی پابند ہر ایک منزل آخر ہے منزل اول جہاں سے اک نئی منزل کی جستجو میں سبھی حقیقتوں کو تخیل کا رنگ دیتے ہیں سفر میں رک نہیں سکتے قدم مسافر کے زمیں بھی ...

مزید پڑھیے

خیال کی طرح چپ ہو صدا ہوئے ہوتے

خیال کی طرح چپ ہو صدا ہوئے ہوتے کم از کم اپنی ہی آواز پا ہوئے ہوتے ترس رہا ہوں تمہاری زباں سے سننے کو کہ تم کبھی مرا حرف وفا ہوئے ہوتے عجیب کیفیت‌ بے دلی ہے دونوں طرف کہ مل کے سوچ رہے ہیں جدا ہوئے ہوتے بہت عزیز سہی ہم کو اپنی خود داری مزہ تو جب تھا کہ تیری انا ہوئے ہوتے یہ آرزو ...

مزید پڑھیے

عزم بلند جو دل بیباک میں رہا

عزم بلند جو دل بیباک میں رہا عکس جلیل اس کا مری خاک میں رہا میرے لبوں پہ ڈھونڈتے گزری تمہاری عمر اظہار غم تو دیدۂ نمناک میں رہا چھوٹا سا ایک ذرہ ہی وجہ حیات ہے ذوق نمو کہاں خس و خاشاک میں رہا پھاڑا ہے اس کے غم نے گریباں کو اس طرح بس ایک تار دامن صد چاک میں رہا آزرؔ ہے اک تسلسل ...

مزید پڑھیے

جھوٹ سچ

اگر یہ سچ ہے تو لوگ کیا صرف ایک ہی سچ کو مانتے ہیں یہ سچ اگر زاویہ نہیں ہے نگاہ کا تو بتاؤ کیا ہے کہ میں کھڑا ہوں جہاں وہاں سے تمہارے چہرے کا ایک ہی رخ عیاں ہے جیسے تم آدھے چہرے کے آدمی ہو اگر یہ سچ ہے تو پھر بتاؤ کہ جھوٹ کیا ہے

مزید پڑھیے

سلسلۂ زندگی

جب رگیں ٹوٹنے لگ جائیں لہو کی گردش جس گھڑی جسم میں تھم جائے تو اک لمحے کو وقت رک جائے گا جن جن کا جڑا ہے اس سے آب و دانہ وہ کبھی آج کے غم اور کبھی کل کے سفاک مسائل کے کسی حل کی خلش اور بے درد حقیقت کی گھٹن دل میں لیے کبھی روئیں گے کبھی فکر میں کھو جائیں گے کل پھر اک صبح نئے مسئلے لے ...

مزید پڑھیے

انکشاف

سر بزم کل مجھے دیکھ کر وہ اسی خیال سے ڈر گئی کہ میں اس کی اور ہواؤں میں کہیں اپنا بوسہ اڑا نہ دوں وہ سمٹ کے اور سنور گئی کچھ عجیب خوف سا دل میں تھا مجھے دیکھ کر وہ پلٹ گئی نہ تو بھول ہے نہ تو یاد ہے یہ سپردگی کا تضاد ہے وہ کھڑے کھڑے جیسے سو گئی وہ تصورات میں کھو گئی وہ تصورات بھی خوب ...

مزید پڑھیے

افق کے اس پار

وہ اک گھڑی بھی کبھی مری زندگی میں آئی تھی اتفاقاً کہ میں کسی کا نہیں تھا میرا کوئی نہیں تھا میں لوح محفوظ کی طرح تھا سمجھ رہا تھا کہ ساری فرداودی کی باتیں ہیں ذہن پر نقش جاوداں سی وہ سب حوادث جو آنے والے ہیں لوح دل پر لکھے ہوئے ہیں میں اب کسی کا نہیں ہوں کوئی مرا نہیں ہے اگر تم اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1641 سے 6203