قومی زبان

تیرے خیال سے یوں سجائی تمام رات

تیرے خیال سے یوں سجائی تمام رات اک بت کو دیکھنے میں بتائی تمام رات وہ اجنبی تھا صبح یہ معلوم ہو گیا تصویر جس کی ہم نے بنائی تمام رات جانے میں کس قفس کے خیالوں میں قید تھا دیوار اپنے گھر کی جلائی تمام رات زندہ رہے گا جوش گلابوں میں اس لیے اک داستان شمع سنائی تمام رات ہم مسکرا ...

مزید پڑھیے

نیاز آگیں ہے اور ناز آفریں بھی

نیاز آگیں ہے اور ناز آفریں بھی اگر سجدہ میں جھک جائے جبیں بھی حق آگاہی سے اٹھ جائیں گے پردے نظر ہو نکتہ رس بھی نکتہ چیں بھی دلوں میں چاہئے وسعت گاہی بدل جاتی ہے چشم خشمگیں بھی حقائق پر جمی ہے گرد باطل ہے گم وہموں میں احساس یقیں بھی سلامت ان کا دامن بے خودی میں لیا ہے ہم نے کار ...

مزید پڑھیے

بہ نام پیکر خاکی نہ گرد بن جاؤ

بہ نام پیکر خاکی نہ گرد بن جاؤ میان شہر نہ صحرا نورد بن جاؤ بگولا بن کے اٹھو بیٹھ جاؤ بن کے غبار بکھر کے حاصل صحرائے گرد بن جاؤ ہے اجتماع عناصر سے زندگی کی نمود اور اقتضائے قضا فرد فرد بن جاؤ رگ حیات کو گرماؤ گرمیٔ خوں سے یہ کیا کہ وقت عمل جسم سرد بن جاؤ نگار خانۂ ہستی کا ساتھ ...

مزید پڑھیے

جب کبھی یادوں کا دروازہ کھلا آخر شب

جب کبھی یادوں کا دروازہ کھلا آخر شب کوئی در آیا بہ انداز ہوا آخر شب ہم پشیمان ادھر اور ادھر وہ نادم شام کا بھولا ہوا آ ہی گیا آخر شب دل کے آنگن میں بصد ناز تھا وہ محو خرام پھول ہی پھول تھا نقش کف پا آخر شب کر سکا پیش نہ عریانی کا جب کوئی جواز آ گیا اوڑھ کے مریم کی ردا آخر ...

مزید پڑھیے

اندھیروں میں اجالے کھو رہے ہیں

اندھیروں میں اجالے کھو رہے ہیں نگر کے دیپ مدھم ہو رہے ہیں ہوا میں اڑ رہی ہیں سرخ چیلیں کبوتر گھونسلوں میں سو رہے ہیں بہر جانب تعفن بڑھ رہا ہے انوکھی فصل دہقاں بو رہے ہیں عجب ارماں ہے تعمیر مکاں کا کئی صدیوں سے پتھر ڈھو رہے ہیں سر کوہ تمنا کون پہنچے پرانے زخم اب تک دھو رہے ...

مزید پڑھیے

میں جنگ جیت کے جبر و انا کی ہار گیا

میں جنگ جیت کے جبر و انا کی ہار گیا عدو پہ رحم کا احساس مجھ کو مار گیا امیر شہر کے عفو و کرم کو کیا کہیے کھلے وہ لوگ کہ خوف صلیب و دار گیا غرور کثرت لشکر نہ میرے کام آیا میں سو رہا تھا کہ شب خوں غنیم مار گیا مرا نصیب کہ بکھری تھی ڈال ڈال مری کوئی خزاں کا بگولا مجھے سنوار گیا صدی ...

مزید پڑھیے

جواں رتوں میں لگائے ہوئے شجر اپنے

جواں رتوں میں لگائے ہوئے شجر اپنے نشان ثبت رہیں گے ڈگر ڈگر اپنے گھٹائیں ٹوٹ کے برسیں جوں ہی کھلے بادل سکھا رہے تھے پرندے بھی بال و پر اپنے حروف پیار کے لکھے گئے صبا پر بھی قلم کے بل پہ ہیں چرچے نگر نگر اپنے عجیب لوگ ہیں مسمار کر کے شہروں کو بسا رہے ہیں خلاؤں میں جا کے گھر ...

مزید پڑھیے

کچھ تو حاصل ہو گیا عرفان میخانہ مجھے

کچھ تو حاصل ہو گیا عرفان میخانہ مجھے آج پیمانے کو میں تکتا ہوں پیمانہ مجھے دار پر نغموں کا چھا جانا کوئی آساں نہیں ساز کیا کم تھا جو بخشا سوز پروانہ مجھے جوڑ ڈالے کتنے ساغر کتنے مینا کتنے دل اک ذرا جو مل گئی تھی خاک مے خانہ مجھے زندگی اپنی حقیقت ہی حقیقت تھی مگر آج دنیا نے بنا ...

مزید پڑھیے

تجھے اے زاہد بدنام سمجھانا بھی آتا ہے

تجھے اے زاہد بدنام سمجھانا بھی آتا ہے کہیں باتوں میں تیری رند میخانہ بھی آتا ہے متانت آفریں نظریں کرم گستر صف مژگاں ستم ڈھانے کو اٹھے ہو ستم ڈھانا بھی آتا ہے انہیں نازک لبوں کو فرصت آتش بیانی بھی انہیں نازک لبوں کو پھول برسانا بھی آتا ہے کہو بادہ کشو کیا حال ہے فیضان ساقی ...

مزید پڑھیے

شمع کی آغوش خالی کر کے پروانہ چلا

شمع کی آغوش خالی کر کے پروانہ چلا آگے آگے تھی حقیقت پیچھے افسانہ چلا کون دیوانہ تھا جو ہم راہ دیوانہ چلا شکل گرد رہ گزر کچھ دور ویرانہ چلا حلقۂ سود زیاں سے ہو کے بیگانہ چلا بے نیازانہ تھا آیا بے نیازانہ چلا یہ بھی اک رسم تعلق ہے بقدر آگہی بات کعبے کی جو آئی ذکر بت خانہ چلا کچھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1631 سے 6203