قومی زبان

رنگ پر جب وہ بزم ناز آئی

رنگ پر جب وہ بزم ناز آئی ہم اٹھے لے کے درد تنہائی کس سے پوچھیں طلسم ہستی میں ہم تماشا ہیں یا تماشائی تھا غم عشق جاں گداز مگر کچھ اسی غم نے کی مسیحائی ہائے کس سادگی سے سیکھا ہے حسن نے اہتمام رعنائی آخر شب زبان شمع پہ ہے داستان ہجوم تنہائی چند خونیں جگر ہوئے رسوا مسکرایا چمن ...

مزید پڑھیے

چلا ہے لے کے مجھے ذوق جستجو میرا

چلا ہے لے کے مجھے ذوق جستجو میرا اب انتظار کر اے جان آرزو میرا میں بن سکا نہ تیرا یہ بجا سہی لیکن کسی کو کیوں یہ گماں ہو نہیں ہے تو میرا ہوائے دشت بہت دور لے گئی اکثر نہیں اسیر چمن ذوق رنگ و بو میرا شکست دل کی تلافی نظر سے کیا ہوگی ٹپک پڑے نہ تری آنکھ سے لہو میرا مری غزل کے لیے ...

مزید پڑھیے

حسن اصنام بہ ہر لمحہ فزوں ہے کہ نہیں

حسن اصنام بہ ہر لمحہ فزوں ہے کہ نہیں یہ مرے ذوق تماشا کا فسوں ہے کہ نہیں کچھ تو ارشاد ہو اے تمکنت آن جمال عشق شائستۂ تہذیب جنوں ہے کہ نہیں یہ جہان مئے و مینا و سبو اے واعظ پرتو نرگس مستانہ ہے کیوں ہے کہ نہیں شعلۂ شمع سے خاکستر پروانہ تک ایک ہی سلسلۂ سوز دروں ہے کہ نہیں حلقۂ باد ...

مزید پڑھیے

کیا کہوں کیا ملا ہے کیا نہ ملا

کیا کہوں کیا ملا ہے کیا نہ ملا دل بھی شایان دل ربا نہ ملا تلخئ زندگی ارے توبہ زہر میں زہر کا مزا نہ ملا ہم کو اپنی خبر نہ دامن کی چشم رحمت کو اک بہانہ ملا لاکھ ملنے کا ایک ملنا ہے کہ ہمیں اذن التجا نہ ملا فتنۂ رند و محتسب توبہ برملا کوئی پارسا نہ ملا تھی بڑی بھیڑ اس کے کوچے ...

مزید پڑھیے

تجھ پہ کھل جائے کہ کیا مہر کو شبنم سے ملا

تجھ پہ کھل جائے کہ کیا مہر کو شبنم سے ملا آنکھ اے حسن جہاں تاب ذرا ہم سے ملا وہ مسرت جسے کہتے ہیں نشاط ابدی اس مسرت کا خزانہ بھی ترے دم سے ملا وحدت صورت و معنی کو سمجھ اے واعظ حسن یزداں کا تصور رخ آدم سے ملا اہل وحشت سے یہ تزئین جہاں کیا ہوتی یہ سلیقہ بھی ترے گیسوئے برہم سے ...

مزید پڑھیے

کہیں فسانۂ غم ہے کہیں خوشی کی پکار

کہیں فسانۂ غم ہے کہیں خوشی کی پکار سنے گا آج یہاں کون زندگی کی پکار خدا شناس ہے زاہد مگر نہیں معلوم کہ آدمی کو جگاتی ہے آدمی کی پکار لباس صبح میں ہے کوئی رہبر صادق جگا رہی ہے اندھیرے کو روشنی کی پکار فغان روح محبت تھی یا صدائے حبیب سنی تو ہے دل خاموش نے کسی کی پکار ترا سکوت نہ ...

مزید پڑھیے

شکست رنگ تمنا کو عرض حال کہوں

شکست رنگ تمنا کو عرض حال کہوں سکوت لب کو تقاضائے صد سوال کہوں ہزار رخ ترے ملنے کے ہیں نہ ملنے میں کسے فراق کہوں اور کسے وصال کہوں مجھے یقیں ہے کہ کچھ بھی چھپا نہیں ان سے انہیں یہ ضد کہ دل مبتلا کا حال کہوں تو بے مثال سہی پھر بھی دل کو ہے اصرار ادا ادا کو تری عالم مثال کہوں مزاج ...

مزید پڑھیے

پاس وحشت ہے تو یاد رخ لیلیٰ بھی نہ کر

پاس وحشت ہے تو یاد رخ لیلیٰ بھی نہ کر عشق کو قیدیٔ زنجیر تمنا بھی نہ کر موج خوددار اگر ہے تو سوئے غیر نہ دیکھ کسی طوفاں کسی ساحل کا بھروسا بھی نہ کر زینت دہر اک آرائش باطل ہی سہی نگہ شوق کو محروم تماشا بھی نہ کر شرک ہے شرک یہ اے واعظ آشفتہ خیال غم عقبیٰ کو شریک غم دنیا بھی نہ ...

مزید پڑھیے

زندگی جب سے شناسائے محالات ہوئی

زندگی جب سے شناسائے محالات ہوئی سچ تو یہ ہے کہ خود اپنے سے ملاقات ہوئی پردۂ غم جسے سمجھا تھا وہی خاموشی کل تری بزم میں موضوع حکایات ہوئی ہم کو اے قافلۂ شوق یہ کیا یاد رہے کہ ہوئی صبح کہاں اور کہاں رات ہوئی تری دزدیدہ نگاہی کا خیال آتے ہی دل میں اک روشنی کشف حجابات ہوئی اس قدر ...

مزید پڑھیے

زہر چشم ساقی میں کچھ عجیب مستی ہے

زہر چشم ساقی میں کچھ عجیب مستی ہے غرق کفر و ایماں ہیں دور مے پرستی ہے شمع ہے سر محفل کچھ کہا نہیں جاتا شعلۂ زباں لے کر بات کو ترستی ہے زلف یار کی زد میں دیر بھی ہے کعبہ بھی یہ گھٹا جب اٹھتی ہے دور تک برستی ہے آج اپنی محفل میں ہے بلا کا سناٹا درد ہے نہ تسکیں ہے ہوش ہے نہ مستی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1625 سے 6203