قومی زبان

کہنے کو سب فسانۂ غیب و شہود تھا

کہنے کو سب فسانۂ غیب و شہود تھا در پردہ استعارۂ شوق و نمود تھا سمجھا نہ بوالہوس کسے کہتے ہیں انتظار ناداں اسیر کشمکش دیر و زود تھا کیا عاشقی میں حوصلۂ مرگ و زندگی خواب و خیال مرحلۂ ہست و بود تھا سوچا تھا مے کدہ ہی سہی گوشۂ نجات دیکھا تو اک ہجوم رسوم و قیود تھا جاں شاد کام بوسۂ ...

مزید پڑھیے

وہ نکہت گیسو پھر اے ہم نفساں آئی

وہ نکہت گیسو پھر اے ہم نفساں آئی اب دم میں دم آیا ہے اب جان میں جاں آئی ہر طنز پہ رندوں نے سر اپنا جھکایا ہے اس پر بھی نہ واعظ کو تہذیب مغاں آئی جب بھی یہ خیال آیا کیا دیر ہے کیا کعبہ ناقوس برہمن سے آواز اذاں آئی اس شوخ کی باتوں کو دشوار ہے دہرانا جب باد صبا آئی آشفتہ بیاں ...

مزید پڑھیے

کون کہتا مجھے شائستۂ تہذیب جنوں

کون کہتا مجھے شائستۂ تہذیب جنوں میں تری زلف پریشاں کو اگر چھیڑ نہ دوں کون حسرت زدۂ شوق تکلم ہے یہاں لڑکھڑاتا ہے تری چشم سخن گو کا فسوں یہ ہجوم غم دوراں میں کہاں یاد رہا داستان غم دل تیرے تغافل سے کہوں کیا خبر خیمۂ لیلےٰ کے نگہبانوں کو کہ حریم دل لیلےٰ میں ہے مہمان جنوں رنگ رہ ...

مزید پڑھیے

کوئی ناؤ نہیں تیار کرنا

کوئی ناؤ نہیں تیار کرنا مجھے آتا ہے دریا پار کرنا محبت کی نشانی ہوں تمہاری مجھے تم دیکھ کر مسمار کرنا میں اک زندہ حقیقت بن چکی ہوں نہیں ممکن مرا انکار کرنا کہانی ختم ہو جانے سے پہلے کہانی اک نئی تیار کرنا دل کمبخت کو عادت پڑی ہے ہمیشہ خواہش بے کار کرنا کسی کو گفتگو کرنا ...

مزید پڑھیے

ان کے بغیر کیسے بھلا شب بسر کریں

ان کے بغیر کیسے بھلا شب بسر کریں خوابوں میں آئیں وہ کہ ذرا شب بسر کریں پردہ اٹھا حجاب اٹھا کوئی بات کر سوئے ہوئے بدن کو جگا شب بسر کریں تو نیند ہے چراغ ہے تو دل کا چین ہے تیرے بغیر کیسے بھلا شب بسر کریں چپ چاپ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں ہم اے چاند کوئی بات بنا شب بسر کریں کرتی ہوں ...

مزید پڑھیے

آنے والے سال کی ساری سندر شامیں تیرے نام

آنے والے سال کی ساری سندر شامیں تیرے نام بنتی سنورتی اور بگڑتی کچی نیندیں تیرے نام گجروں جیسی ہوش اڑاتی خوشبو کے احساس میں گم ٹھنڈی میٹھی مست نشیلی ریشم بانہیں تیرے نام اجلے اجلے رنگ رسیلے روشن سبز سنہرے خواب اور ان خوابوں سے وابستہ وصل کی باتیں تیرے نام وجد میں آئی قیدی ...

مزید پڑھیے

اک خیال افروز موج آئی تو تھی

اک خیال افروز موج آئی تو تھی میں نے اپنی سطر مہکائی تو تھی تم نہیں تھے یاد تھی ہر سو محیط میں نہیں تھی میری تنہائی تو تھی در بدر بے پیرہن تھا خواب عشق میں نے اس کو آنکھ پہنائی تو تھی پھر مجھے اس نے کہا سب جھوٹ ہے ایک لمحے کو میں گھبرائی تو تھی دور تک بچھتا چلا جاتا تھا شوق کچھ ...

مزید پڑھیے

سر تا پا حیرت میں گم ہو جائے گا

سر تا پا حیرت میں گم ہو جائے گا تو بھی کیا حیرت میں گم ہو جائے گا آدمی بن جائے گا تخلیق کار اور خدا حیرت میں گم ہو جائے گا دیکھ کر مجھ آئینہ رو کا جمال آئینہ حیرت میں گم ہو جائے گا لاش کو وارث نہ پہچانیں گے اور سانحہ حیرت میں گم ہو جائے گا رقص میں ہوں گے در و دیوار و بام تخلیہ ...

مزید پڑھیے

چاہا یہی تھا میرؔ کا آزار کھینچتی

چاہا یہی تھا میرؔ کا آزار کھینچتی صحرا میں اپنے واسطے دیوار کھینچتی آیا تھا میری اور وہ پیاسے لبوں کے ساتھ بس میں کہاں تھا میرے کہ انکار کھینچتی مجھ سے چھڑا کے ہاتھ وہ جانے لگا تھا کیوں اک بار گر وہ کہتا تو سو بار کھینچتی کرتا اگر سوال عطائی وصال کا تشنہ سی آرزوئے طلب گار ...

مزید پڑھیے

نقاب شب میں چھپ کر کس کی یاد آئی سمجھتے ہیں

نقاب شب میں چھپ کر کس کی یاد آئی سمجھتے ہیں اشارے ہم ترے اے شمع تنہائی سمجھتے ہیں نہ سمجھیں بات واعظ کی ہم اتنے بھی نہیں ناداں کہاں تک ہے بساط عقل و دانائی سمجھتے ہیں توجہ پھر توجہ ہے مگر ہم تیرے دیوانے تغافل کو بھی اک انداز رعنائی سمجھتے ہیں ہمیں نا آشنا سمجھو نہ رسم و راہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1626 سے 6203