کہنے کو سب فسانۂ غیب و شہود تھا
کہنے کو سب فسانۂ غیب و شہود تھا در پردہ استعارۂ شوق و نمود تھا سمجھا نہ بوالہوس کسے کہتے ہیں انتظار ناداں اسیر کشمکش دیر و زود تھا کیا عاشقی میں حوصلۂ مرگ و زندگی خواب و خیال مرحلۂ ہست و بود تھا سوچا تھا مے کدہ ہی سہی گوشۂ نجات دیکھا تو اک ہجوم رسوم و قیود تھا جاں شاد کام بوسۂ ...