قومی زبان

وہ برق ناز گریزاں نہیں تو کچھ بھی نہیں

وہ برق ناز گریزاں نہیں تو کچھ بھی نہیں مگر شریک رگ جاں نہیں تو کچھ بھی نہیں ہزار دل ہے ترا مشرق مہ و خورشید غبار منزل جاناں نہیں تو کچھ بھی نہیں بہار گل کدۂ ناز دل کشا ہے مگر نسیم شوق خراماں نہیں تو کچھ بھی نہیں ہے خلوت دل ویراں ہی منزل محبوب یہ خلوت دل ویراں نہیں تو کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

ربط پنہاں کی صداقت ہے نہ ملنا تیرا

ربط پنہاں کی صداقت ہے نہ ملنا تیرا تیرے ملنے ہی کی صورت ہے نہ ملنا تیرا کیوں مرا شوق فراواں ہے بہ ہر لمحہ فزوں کیا کوئی راز مشیت ہے نہ ملنا تیرا لالہ و گل مہ و انجم سے گلہ ہے کیا کیا اور مقصود شکایت ہے نہ ملنا تیرا کسی صورت کسی عنواں سے تلافی نہ ہوئی کس قدر تلخ حقیقت ہے نہ ملنا ...

مزید پڑھیے

عہد و پیماں کر کے پیمانے کے ساتھ

عہد و پیماں کر کے پیمانے کے ساتھ عمر گزری تیرے میخانے کے ساتھ زندگی بھی جی چرا کر رہ گئی کون مرتا تیرے دیوانے کے ساتھ یہ نہ پوچھو رہ نوردان حرم کون چھوٹا ہم سے بت خانے کے ساتھ خود بخود حل ہو گئے کتنے سوال وقت کے خاموش افسانے کے ساتھ اے فقیہ شہر کیا اس کا علاج چشم ساقی بھی ہے ...

مزید پڑھیے

لگی ہے بھیڑ بڑا مے کدے کا نام بھی ہے

لگی ہے بھیڑ بڑا مے کدے کا نام بھی ہے کچھ اس میں خوبئ رندان تشنہ کام بھی ہے جنون شوق نے دل کو کیا تباہ مگر کچھ اس میں تیرے تغافل کا اہتمام بھی ہے کتاب زیست ہے یکسر حکایت غم دل حکایت غم دل حرف ناتمام بھی ہے سکون اہل خرابات عشق کیا کہئے رکی رکی سی یہاں عمر تیزگام بھی ہے بتان شہر ہم ...

مزید پڑھیے

رنگ اس محفل تمکیں میں جمایا نہ گیا

رنگ اس محفل تمکیں میں جمایا نہ گیا خامشی سے بھی مرا حال سنایا نہ گیا وحشت دل نے حجابات جہاں چاک کیے ایک پردہ رخ جاناں سے اٹھایا نہ گیا عشق اک داغ سہی دامن ہستی پہ مگر خود مشیت سے بھی یہ داغ مٹایا نہ گیا کر دیا دفتر ہستی تو پریشاں دل نے مگر اک خواب پریشاں کو بھلایا نہ گیا وہ ...

مزید پڑھیے

عشق کی شرح مختصر کے لئے

عشق کی شرح مختصر کے لئے سل گئے ہونٹ عمر بھر کے لئے زندگی درد دل سے کترا کر درد سر بن گئی بشر کے لئے دل ازل سے ہے شعلہ پیراہن شمع جلتی ہے رات بھر کے لئے اس نے دل توڑ کر کیا ارشاد اب تسلی ہے عمر بھر کے لئے ابر رحمت ہے عشق کا دامن آتش رزم خیر و شر کے لئے ہم بھی کوئے بتاں کو جاتے ...

مزید پڑھیے

ہم میکشوں کے قدموں پر اکثر

ہم میکشوں کے قدموں پر اکثر جھک جھک گئے ہیں محراب و منبر شرمائے گا اب تا حشر طوفاں ٹوٹی ہوئی اک کشتی ڈبو کر اب شمع حسرت لو دے اٹھی ہے اے صرصر غم دامن بچا کر آشفتگی کو نیند آ چلی ہے برہم نہ ہو وہ زلف معنبر کیا اب بھی کوئی فردا ہے باقی کس سوچ میں ہو اے اہل محشر کیا طنز دوراں کیا ...

مزید پڑھیے

سوال عشق پر تا حشر چپ رہنا پڑا مجھ کو

سوال عشق پر تا حشر چپ رہنا پڑا مجھ کو ہر اک الزام کو ہنستے ہوئے سہنا پڑا مجھ کو کبھی مغرور طوفانوں کو بھی ٹھکرا دیا میں نے کبھی اک موج غم کے ساتھ ہی بہنا پڑا مجھ کو سکون دل بڑی دولت سہی اے ہم نشیں لیکن سکوں پا کر بھی اکثر مضطرب رہنا پڑا مجھ کو زمانہ کس قدر بے گانۂ رسم محبت ...

مزید پڑھیے

فروغ گل سے الگ برق آشیاں سے الگ

فروغ گل سے الگ برق آشیاں سے الگ لگی ہے آگ یہاں سے الگ وہاں سے الگ سکوت ناز نے اظہار کر دیا جس کا وہ ایک بات تھی پیرایۂ بیاں سے الگ سنیں تو ہم بھی ذرا جبر و اختیار کی بات کہاں کہاں ہیں یہ شامل کہاں کہاں سے الگ ہمارا حال زمانے سے کچھ جدا تو نہیں یہ داستاں نہیں دنیا کی داستاں سے ...

مزید پڑھیے

پشیماں ہیں ترک محبت کے بعد

پشیماں ہیں ترک محبت کے بعد بڑھیں الجھنیں اور فرصت کے بعد ابھی تو قیامت کا ہے آسرا خدا جانے کیا ہو قیامت کے بعد یہ حسن خلوص شکایت بجا مگر کیا رہے گا شکایت کے بعد وہ ہر بار ملتے ہیں اس شان سے ملے جس طرح کوئی مدت کے بعد محبت سے پہلے یہ عالم نہ تھا کہاں آ گئے ہم محبت کے بعد روشؔ یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1624 سے 6203