لبھا رہی تو ہے دنیا چمک دمک کی مجھے
لبھا رہی تو ہے دنیا چمک دمک کی مجھے مگر حیات گوارا نہیں دھنک کی مجھے ہمیشہ اپنی لڑائی میں آپ لڑتا ہوں نہیں رہی کبھی حاجت کسی کمک کی مجھے بہت دنوں سے زمان و مکان حائل ہیں کہ آس بھی نہ رہی اب تری جھلک کی مجھے مرے قلم کی جو زد میں یہ بحر و بر آتے دہائی دینے لگے نان اور نمک کی ...