قومی زبان

لبھا رہی تو ہے دنیا چمک دمک کی مجھے

لبھا رہی تو ہے دنیا چمک دمک کی مجھے مگر حیات گوارا نہیں دھنک کی مجھے ہمیشہ اپنی لڑائی میں آپ لڑتا ہوں نہیں رہی کبھی حاجت کسی کمک کی مجھے بہت دنوں سے زمان و مکان حائل ہیں کہ آس بھی نہ رہی اب تری جھلک کی مجھے مرے قلم کی جو زد میں یہ بحر و بر آتے دہائی دینے لگے نان اور نمک کی ...

مزید پڑھیے

بکتی نہیں فقیر کی جھولی ہی کیوں نہ ہو

بکتی نہیں فقیر کی جھولی ہی کیوں نہ ہو چاہے رئیس شہر کی بولی ہی کیوں نہ ہو احسان رنگ غیر اٹھاتے نہیں کبھی اپنے لہو سے کھیل وہ ہولی ہی کیوں نہ ہو سچ تو یہ ہے کہ ہاتھ نہ آنا کمال ہے دنیا سے کھیل آنکھ مچولی ہی کیوں نہ ہو ہے آسماں وسیع زمیں تنگ ہی سہی تعمیر کر کہیں کوئی کھولی ہی کیوں ...

مزید پڑھیے

دھرتی سے دور ہیں نہ قریب آسماں سے ہم

دھرتی سے دور ہیں نہ قریب آسماں سے ہم کوفے کا حال دیکھ رہے ہیں جہاں سے ہم ہندوستان ہم سے ہے یہ بھی درست ہے یہ بھی غلط نہیں کہ ہیں ہندوستاں سے ہم رکھا ہے بے نیاز اسی بے نیاز نے وابستہ ہی نہیں ہیں کسی آستاں سے ہم رکھتا نہیں ہے کوئی شہادت کا حوصلہ اس کے خلاف لائیں گواہی کہاں سے ...

مزید پڑھیے

زباں پہ حرف تو انکار میں نہیں آتا

زباں پہ حرف تو انکار میں نہیں آتا یہ مرحلہ ہی کبھی پیار میں نہیں آتا کھلے گا ان پہ جو بین السطور پڑھتے ہیں وہ حرف حرف جو اخبار میں نہیں آتا سمجھنے والے یقیناً سمجھ ہی لیتے ہیں ہمارا درد جو اظہار میں نہیں آتا یہ خاندان ہمارا بکھر گیا جب سے مزہ ہمیں کسی تہوار میں نہیں آتا ہمارے ...

مزید پڑھیے

دل دکھ نہ جائے بات کوئی بے سبب نہ پوچھ

دل دکھ نہ جائے بات کوئی بے سبب نہ پوچھ خانہ بدوش لوگوں سے نام و نسب نہ پوچھ حد آسماں کی پوچھ زمیں کا ادب نہ پوچھ کن منزلوں میں ہے مری پرواز اب نہ پوچھ نان جویں کی آس بھی کیا شے ہے اب نہ پوچھ پردیسیوں سے مشغلۂ روز‌ و شب نہ پوچھ بے گھر ہوئے ہیں دیدۂ بے خواب کے قتیل اب جگنوؤں سے ...

مزید پڑھیے

گرفتاری کے سب حربے شکاری لے کے نکلا ہے

گرفتاری کے سب حربے شکاری لے کے نکلا ہے پرندہ بھی شکاری کی سپاری لے کے نکلا ہے نکلنے والا یہ کیسی سواری لے کے نکلا ہے مداری جیسے سانپوں کی پٹاری لے کے نکلا ہے بہر قیمت وفاداری ہی ساری لے کے نکلا ہے ہتھیلی پر اگر وہ جان پیاری لے کے نکلا ہے سفاری سوٹ میں ٹاٹا سفاری لے کے نکلا ہے وہ ...

مزید پڑھیے

پتے تمام حلقۂ صرصر میں رہ گئے

پتے تمام حلقۂ صرصر میں رہ گئے ہم شاخ سبز میں شجر تر میں رہ گئے لکھ لینا اس قدر وہ سفینے نہیں مرے ساحل پہ رہ گئے جو سمندر میں رہ گئے اس لذت سفر کو میں اب ان سے کیا کہوں جو سایہ ہائے سرو و صنوبر میں رہ گئے آثار یک خرابۂ آباد ہو کے ہم سینوں میں رہ نہ پائے تو پتھر میں رہ گئے باہر ہی ...

مزید پڑھیے

وہ خوش سخن تو کسی پیروی سے خوش نہ ہوا

وہ خوش سخن تو کسی پیروی سے خوش نہ ہوا مزاج لکھنوی و دہلوی سے خوش نہ ہوا ملال یہ ہے کہ آخر بچھڑ گیا مجھ سے وہ ہم سفر جو مری خوش روی سے خوش نہ ہوا تجھے خبر بھی ہے کیا کیا خیال آتا ہے کہ جی ترے سخن ملتوی سے خوش نہ ہوا فقیر شاہ نہیں شاہ ساز ہوتا ہے یہ خوش نظر نگہ خسروی سے خوش نہ ...

مزید پڑھیے

اب اس سے پہلے کہ تن من لہو لہو ہو جائے

اب اس سے پہلے کہ تن من لہو لہو ہو جائے لہو سے قبل شہادت چلو وضو ہو جائے قریب دیدہ و دل اس قدر جو تو ہو جائے تو کیا عجب تری تعریف میں غلو ہو جائے بھلے ہی ہوتی ہے دنیا تمام ہو ہو جائے خدا نخواستہ میرے خلاف تو ہو جائے میں اپنا فون کبھی بند ہی نہیں رکھتا نہ جانے کب اسے توفیق گفتگو ہو ...

مزید پڑھیے

ناخوش گدائی سے نہ وہ شاہی سے خوش ہوئے

ناخوش گدائی سے نہ وہ شاہی سے خوش ہوئے مظلوم ظالموں کی تباہی سے خوش ہوئے صد منزلہ وہ قصر انا ڈھیر ہو گیا احباب پل صراط کے راہی سے خوش ہوئے زندہ دلوں پہ رشک تو کرتی ہے موت بھی ہم سرفروش عہد الٰہی سے خوش ہوئے فرزیں کے سامنے ہے پیادہ ڈٹا ہوا اہل بساط ایسے سپاہی سے خوش ہوئے وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1609 سے 6203