جب اٹھے تیرے آستانے سے
جب اٹھے تیرے آستانے سے جانیو اٹھ گئے زمانے سے دن بھلا انتظار میں گزرا رات کاٹیں گے کس بہانے سے جان بھی کچھ ہے جو نہ کیجے نثار مر نہ جائیں گے اس کے جانے سے ایک اس زلف سے اٹھایا ہاتھ چھٹ گئے لاکھوں شاخسانے سے کوئی مر جاؤ کام ہے اس کو اپنی تروار آزمانے سے اس کے تیر نگاہ کے ...