قومی زبان

جب اٹھے تیرے آستانے سے

جب اٹھے تیرے آستانے سے جانیو اٹھ گئے زمانے سے دن بھلا انتظار میں گزرا رات کاٹیں گے کس بہانے سے جان بھی کچھ ہے جو نہ کیجے نثار مر نہ جائیں گے اس کے جانے سے ایک اس زلف سے اٹھایا ہاتھ چھٹ گئے لاکھوں شاخسانے سے کوئی مر جاؤ کام ہے اس کو اپنی تروار آزمانے سے اس کے تیر نگاہ کے ...

مزید پڑھیے

ہاتھ اس کے نہ آیا دامن ناز

ہاتھ اس کے نہ آیا دامن ناز عشق کو سنتے ہی تھے دست دراز بیت ابرو ہے مخزن اسرار خط ہے چہرے کا شرح گلشن راز دیکھ کر چشم خون دل رونا کہیں افشا نہ ہو کسی کا راز کیوں نہ بدنام ہوں جہاں میں میں دل ہے بد خواہ چشم ہے غماز ایک دل کے لیے یہ فوج کشی عشوہ و ناز غمزہ و انداز جب بلاتا ایاز کو ...

مزید پڑھیے

غیروں کا اس طرف سے گزارہ نہ جائے گا

غیروں کا اس طرف سے گزارہ نہ جائے گا جب تک کہ ایک دو کہیں مارا نہ جائے گا نرگس اگے گی سبزے کی جا خاک سے مری یاروں کا مرنے پر بھی نظارہ نہ جائے گا یہ دل ہے لڑکوں کا نہ گھروندا سمجھ اسے بگڑا تو پھر کسی سے سنوارا نہ جائے گا گھر پر رقیب خانہ بر انداز کے رضاؔ ہوگا اگر تو یار ہمارا نہ ...

مزید پڑھیے

ہر نفس مورد سفر ہیں ہم

ہر نفس مورد سفر ہیں ہم گویا دکان شیشہ گر ہیں ہم شمع کے گاہ تاج سر ہیں ہم گہہ پتنگے کے بال و پر ہیں ہم عشق نے جب سے کی ہے دل کر نی برق ہیں شعلہ ہیں شرر ہیں ہم رنگ رخسار خوب رویاں ہیں آہ عشاق کے اثر ہیں ہم ہم ہیں نیرنگیٔ بہار کے رنگ نخل و برگ و گل و ثمر ہیں ہم سجدہ گہ ہیں تمام عالم ...

مزید پڑھیے

قریب بھی تو نہیں ہو کہ آ کے سو جاؤ

قریب بھی تو نہیں ہو کہ آ کے سو جاؤ ستاروں جاؤ کہیں اور جا کے سو جاؤ تھکن ضروری نہیں رات بھی ضروری نہیں کوئی حسین بہانہ بنا کے سو جاؤ کہانیاں تھی وو راتیں کہانیاں تھے وو لوگ چراغ گل کرو اور بجھ بجھا کے سو جاؤ طریق کار بدلنے سے کچھ نیا ہوگا جو دور ہے اسے نزدیک لا کے سو ...

مزید پڑھیے

وہ تو نہیں ملا ہے سانسوں جئے تو کیا ہے

وہ تو نہیں ملا ہے سانسوں جئے تو کیا ہے دل اب بھی پیاس پر ہے غم پی لیے تو کیا ہے ساری خوشی ہماری آنکھوں سے چھن رہی ہے کچھ دیر تم نے گیسو لہرا دیئے تو کیا ہے بے تابیاں بھی کتنی منہ زور ہو گئیں ہیں طوفان جاتے جاتے کچھ مر لیے تو کیا ہے میں بھی وہاں پرانے زخموں کو دھو رہا تھا تو نے بھی ...

مزید پڑھیے

ناشتے پر جسے آزاد کیا ہے میں نے

ناشتے پر جسے آزاد کیا ہے میں نے دوپہر کے لیے ارشاد کیا ہے میں نے اے مرے دل تری ہستی نظر آتی تھی کہاں تو کہاں تھا تجھے ایجاد کیا ہے میں نے پھول ہی پھول ہیں تا حد نظر پھول ہی پھول اس خرابے کے لیے یاد کیا ہے میں نے سارے اسباب وہاں رکھے ہیں دروازے کے پاس تیری جاگیر کو آباد کیا ہے میں ...

مزید پڑھیے

یار کے رخ نے کبھی اتنا نہ حیراں کیا

یار کے رخ نے کبھی اتنا نہ حیراں کیا فکر سر زلف نے جیسا پریشاں کیا ایسا کسی سے جنوں دست گریباں نہ ہو چاک گریباں کا بھی چاک گریباں کیا کر چکا تھا زہر رشک پردے میں کار اپنا لیک تیغ جدائی نے زور کار نمایاں کیا عشق ترے ہاتھ سے تو ہی بتا کیا کریں وصل میں حیراں کیا ہجر میں گریاں ...

مزید پڑھیے

مجھ کو جو کہتے ہو میاں تم ہو کہاں تم ہو کہاں

مجھ کو جو کہتے ہو میاں تم ہو کہاں تم ہو کہاں دل کہاں ہے پاس میرے میری جاں تم ہو کہاں وہ گلی ہے یا پری خانہ ہے یا فردوس ہے سچ کہو اے ہمدمو میں ہوں کہاں تم ہو کہاں اپنے سے اپنا نہ ہو کام اوروں سے رکھیے امید کیا وصیت کرتے ہو اے دوستاں تم ہو کہاں گل کھلیں گے بار بار اور آئے گی ہر پھر ...

مزید پڑھیے

ابر کے بن دیکھے ہرگز خوش دل مستاں نہ ہو

ابر کے بن دیکھے ہرگز خوش دل مستاں نہ ہو تیر باراں ہووے مجھ پر جب تلک باراں نہ ہو میری رسوائی نے تیرے حسن کی کی ہے نمود جب تلک شبنم نہیں روئے تو گل خنداں نہ ہو طرز تیری گفتگو کی ہے گواہ مے کشی بوئے گل اور نشۂ صہبا کبھی پنہاں نہ ہو شیخ کو وہ جہل ہے سو بار کعبے کے تئیں جائے اور آئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1604 سے 6203