قومی زبان

بھولی بسری خواہشوں کا بوجھ آنکھوں پر نہ رکھ

بھولی بسری خواہشوں کا بوجھ آنکھوں پر نہ رکھ خوبصورت آئینوں میں غم کا پس منظر نہ رکھ دیکھ بڑھ کر شوخیاں موجوں کی اور قسمت کا کھیل کشتیاں دریا کے سنجیدہ کناروں پر نہ رکھ یا تو اڑ جا ساتھ لے کر قید کی مجبوریاں ورنہ اپنی جرأتوں کا نام بال و پر نہ رکھ ہم تو سر رکھتے ہیں سجدوں کے لیے ...

مزید پڑھیے

عمر بھر پیش نظر ماہ تمام آتے رہے

عمر بھر پیش نظر ماہ تمام آتے رہے چند چہرے آئینہ خانے کے کام آتے رہے چند قطرے بھی نہ ٹپکے خواہشوں کی ریت پر کیسے کیسے ابر تھے بالائے بام آتے رہے میرے ماضی کے افق پر چند جگنو تھے کہ جو حال کی تیرہ شبی میں میرے کام آتے رہے میں ہوس کے گرد چاہت کا ہنر بنتا رہا اس کے خط میری وفاداری کے ...

مزید پڑھیے

شام غم کی ہے عطا صبح مسرت دی ہے

شام غم کی ہے عطا صبح مسرت دی ہے زندگی نے ہمیں احساس کی دولت دی ہے کیسے کیسے ترے احساس کی چٹانوں کو میں نے لفظوں میں تراشا ہے تو صورت دی ہے میری مٹھی میں ہے ہر خواب کی تعبیر مگر تو نے اے وحشت دل کب مجھے مہلت دی ہے اپنے ایثار تہہ لفظ و بیاں رکھے ہیں تیرے اکرام کو سو طرح سے شہرت دی ...

مزید پڑھیے

اندھیری کھائی سے گویا سفر چٹان کا تھا

اندھیری کھائی سے گویا سفر چٹان کا تھا جو فاصلہ مرے گھر سے ترے مکان کا تھا بچھڑ کے تجھ سے وہ عالم مری اڑان کا تھا کہ میں زمیں کا رہا تھا نہ آسمان کا تھا تمام عمر مرے دل میں جو کھٹکتا رہا وہ تیر تیرے کسی طنز کی کمان کا تھا یقیں کے ٹھوس دلائل جسے نہ کاٹ سکے تری وفا سے وہ رشتہ مرے ...

مزید پڑھیے

ہماری جیت یہی تھی کہ خود سے ہار آئے

ہماری جیت یہی تھی کہ خود سے ہار آئے کسی کے ہم پہ کئی قرض تھے اتار آئے تمہاری یاد بھی ہے بازگشت کی آواز جو ایک بار پکارو تو بار بار آئے ہر ایک موڑ پہ جیسے وہ مڑ کے دیکھتا ہو نظر کچھ ایسے مناظر پس غار آئے نہ جانے کون سے لمحوں کی لغزشوں کے سبب ہماری راہ میں صدیوں کے کوہسار آئے کمال ...

مزید پڑھیے

نہ جانے کب سے میں گرد سفر کی قید میں تھا

نہ جانے کب سے میں گرد سفر کی قید میں تھا کہ سنگ میل تھا اور رہگزر کی قید میں تھا دکھائی دیتا تھا مختار دست و بازو سے مگر وہ شخص کسی بے ہنر کی قید میں تھا میں خواب خواب تھا ہر جشن آرزو کا اسیر کھلی جو آنکھ تو اپنے ہی گھر کی قید میں تھا کھلی فضائیں ملیں جب تو اے ہوائے چمن میں بے ...

مزید پڑھیے

ٹھوکروں کی شے پرستش کی نظر تک لے گئے

ٹھوکروں کی شے پرستش کی نظر تک لے گئے ہم ترے کوچے کے اک پتھر کو گھر تک لے گئے چھوڑ کر جاتے رہے سب کارواں والے مگر راستے ہی ہم سفر نکلے جو گھر تک لے گئے اپنے ہی مقتول ٹھہرے اپنے ہی قاتل بنے اپنے ہی ہاتھوں سے ہم کشتی بھنور تک لے گئے شام ہی تک تھا سکوت قبل طوفاں پھر نہ پوچھ کیسے کیسے ...

مزید پڑھیے

سلسلے یہ کیسے ہیں ٹوٹ کر نہیں ملتے

سلسلے یہ کیسے ہیں ٹوٹ کر نہیں ملتے جو بچھڑ گئے لمحے عمر بھر نہیں ملتے شور کرتے رہتے ہیں جسم و جاں کے سناٹے جب طویل راہوں میں ہم سفر نہیں ملتے دھوپ کی تمازت سے جو بچاؤ کر پاتے سورجوں کے شہروں میں وہ شجر نہیں ملتے چاہتوں بھرے کمرے دل کھلے کھلا آنگن اب تو ڈھونڈنے پر بھی ایسے گھر ...

مزید پڑھیے

قاتل سبھی تھے چل دئیے مقتل سے راتوں رات

قاتل سبھی تھے چل دئیے مقتل سے راتوں رات تنہا کھڑی لرزتی رہی صرف میری ذات تہذیب کی جو اونچی عمارت ہے ڈھا نہ دوں جینے کے رکھ رکھاؤ سے ملتی نہیں نجات خوابوں کی برف پگھلی تو ہر عکس دھل گیا اپنوں کی بات بن گئی اک اجنبی کی بات کانٹوں کی سیج پر چلوں شعلوں کی مے پیوں سنگین مرحلوں کا ...

مزید پڑھیے

اس خار مزاجی میں پھولوں کی طرح کھلنا

اس خار مزاجی میں پھولوں کی طرح کھلنا سو بار گلے کرنا اک بار گلے ملنا مانند شجر ہو تم رکتا ہے رکے موسم خوشبو کو ہوا دے کر شاخوں کی طرح ہلنا کوچوں میں گھروں میں اب اک شور شرابہ ہے ہوتا نہیں اپنوں سے برسوں میں کبھی ملنا چہروں کے مقدر میں کیوں جبر بھی شامل ہے بس میں نہیں مرجھانا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1598 سے 6203