بھولی بسری خواہشوں کا بوجھ آنکھوں پر نہ رکھ
بھولی بسری خواہشوں کا بوجھ آنکھوں پر نہ رکھ خوبصورت آئینوں میں غم کا پس منظر نہ رکھ دیکھ بڑھ کر شوخیاں موجوں کی اور قسمت کا کھیل کشتیاں دریا کے سنجیدہ کناروں پر نہ رکھ یا تو اڑ جا ساتھ لے کر قید کی مجبوریاں ورنہ اپنی جرأتوں کا نام بال و پر نہ رکھ ہم تو سر رکھتے ہیں سجدوں کے لیے ...