قومی زبان

اشکوں کے سمندر میں سانسوں کا سفینہ ہے

اشکوں کے سمندر میں سانسوں کا سفینہ ہے جینا ہے تو ہنس ہنس کر ہر درد کو پینا ہے دیکھے ہیں بہت اپنے ہاتھوں میں لیے خنجر دھندلے ہیں بہت رستے بچ کے ہمیں جینا ہے دیکھو تو سمے کیسا آیا ہے جہاں والو مے مہنگی ہوئی سستا اب خون پسینہ ہے نفرت بھری دنیا میں اونچی ہوئیں دیواریں زیور کی ...

مزید پڑھیے

اب کسی سے گلا نہیں کوئی

اب کسی سے گلا نہیں کوئی اپنا تیرے سوا نہیں کوئی ہو گیا جس کو قتل ہونا تھا قاتلوں سے صلہ نہیں کوئی جانے کتنے حسین ملتے ہیں تیرے جیسی ادا نہیں کوئی کوئی مل کے بھی مل نہیں پایا اور ہم سے جدا نہیں کوئی خوشیاں یوں تو ہزار ملتی ہیں اور غم سے رہا نہیں کوئی

مزید پڑھیے

محقق

یہ جو اک حضرت چلے آتے ہیں گورستان سے یہ نہ سمجھیں آپ ہیں بے زار اپنی جان سے آپ کو یونہی ہے آثار قدیمہ سے لگاؤ جس طرح چونا ڈلی، کتھے کو نسبت پان سے آپ کو قبروں سے الفت عشق ویرانے سے ہے آپ گھبراتے ہیں جیتے جاگتے انسان سے کوئی کتنا ہی بڑا ہو فلسفی شاعر ادیب عمر بھر اس سے رہا کرتے ہیں ...

مزید پڑھیے

نیا ہاتھی

شادیاں ہوتی تھیں جب پہلے کسی دیہات میں چند ہاتھی بھی منگائے جاتے تھے بارات میں تاکہ کچھ ساراتیوں پر رعب سمدھی کا پڑے اور اس کے نام کا اطراف میں جھنڈا گڑے ہاتھیوں کو دیکھ کر اطراف میں ہوتی تھی دھوم گھیر لیتا تھا انہیں اہل تماشا کا ہجوم ان کی خورش پر مگر ہوتی تھی خرچ اتنی ...

مزید پڑھیے

انٹلکچوئل

تھا حسن اتفاق کہ ٹی کورنر میں کل قسمت سے میری مل گئے اک انٹلکچوئل بیٹھے ہوئے تھے زاویۂ قائمہ بنے جیسے محاذ پر ہو کوئی فیلڈ مارشل رکھا تھا پورٹ فولیو بیگ ایک میز پر اور اس سے متصل تھیں کتابیں ڈبل ڈبل موٹی سی میگزین بھی تھی اک دھری ہوئی جس کے سر ورق پہ تھے سر جون مائیکل یوں عالم ...

مزید پڑھیے

گوپال متل دہلی کے نام

اے حضرت متل یہ کرم ہے کہ ستم ہے کیوں لطف نظر آپ کا نا چیز پہ کم ہے واللہ کہ ہیں آپ بھی اک زندہ عجائب صحرا میں اذاں دے کے کہاں ہو گئے غائب مانا کہ مرے شہر سے دلی ہے بہت دور جیسے کہ رہ و رسم وفا سے دل مخمور یہ بات کہے کون جنگل میں اگر بیل پکا ہے تو چکھے کون صحرا میں جو گونجی ہے وہ آواز ...

مزید پڑھیے

گھر کی رونق

ہم اپنے اہل سیاست کے دل سے قائل ہیں کہ حق میں قوم کے وہ مادر مسائل ہیں قدم قدم پہ نئے گل کھلاتے رہتے ہیں طرح طرح کے مسائل اگاتے رہتے ہیں کبھی یہ دھن ہے کہ صوبوں کی پھر سے ہو تشکیل کبھی یہ ضد ہے کہ حد بندیاں نہ ہوں تبدیل کبھی یہ شور کرو ختم چور بازاری منافع خوروں کی لیکن نہ ہو ...

مزید پڑھیے

لیڈر

لیڈر کو اگر آپ کبھی ڈھونڈھنا چاہیں وہ پچھلے پہر حجرۂ دلبر میں ملے گا اور صبح کو وہ بندۂ اغراض و مقاصد سر خم کئے دربار منسٹر میں ملے گا اور دن کو وہ جنتا کو چراگاہ کا بھینسا چرتا ہوا پرمٹ کسی دفتر میں ملے گا اور شام کو احباب کے پیسوں کی بدولت ہوٹل میں کہیں یا کسی پکچر میں ملے گا اور ...

مزید پڑھیے

(سلطان اختر پٹنہ کے نام (جدید عملی تنقید

سلطان اختر آپ جو غائب ہیں آج کل رحمانیہ نشینوں کی شام و سحر ہے ڈل جب سے قلم کو تج کے سنبھالی ہے رائفل آلام بیوگی میں پڑی ہے نئی غزل یکسر اداس رہتے ہیں کل انٹلکچؤل نذر شکار ہو گئی ان کی چہل پہل البتہ اک ذرا سی ہوئی تھی اتھل پتھل مدت کے بعد ٹوٹا تھا نا کا جمود کل دو نوجوان صحن میں اس ...

مزید پڑھیے

مہمان خصوصی

ایک دن حضرت حافظ نے یہ دیکھا منظر طوق زریں سے مزین ہے ہمہ گردن خر اور چھکڑے میں جتا رینگ رہا ہے تازی زخم ہی زخم ہے کوڑے کا ز سر تا بہ کمر تھے جو مرحوم بڑے سادہ دل و نیک مزاج ''ایں چہ شوریست'' کہا اور گرے چکرا کر وہ تو اس غم کو لیے خلد بریں میں پہنچے کئی صدیوں کا زمانے نے لگایا چکر آج ہم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1581 سے 6203